بریکنگ نیوز
Home / کالم / مین بُکر پرائز کی خونی تاریخ

مین بُکر پرائز کی خونی تاریخ


اگر نوبل ادب انعام کسی بھی ادیب یا شاعر کی مجموعی کارکردگی پر عطا کیا جاتا ہے تو مین بکر پرائز کسی بھی ادیب یا نثرنگار کی اس برس شائع ہونے والی کسی ایک کتاب یا ناول پر دیا جاتا ہے…یوں جانئے کہ یہ نوبل انعام اتنی شہرت رکھنے والا پرائز صرف ایک کتاب کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور ہر برس کرتا ہے…نوبل انعام کا آغاز ڈائنامائٹ تخلیق کرنے والے انفرڈنوبل نے کیا بہت سے لوگ اسے ایک ’’خونی انعام‘‘ بھی کہتے ہیں کہ ڈائنا مائٹ عمارتوں‘ آبادیوں ور جہازوں وغیرہ کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے بلکہ ہمارے ہاں اسکا ایک استعمال رائج ہے جو صرف ہم پاکستانیوں کے زرخیز ذہن کی اختراع ہی ہو سکتا تھا… یہ مچھلیوں کی موت ہے‘ ہم ڈائنامائٹ کی سٹک دریاؤں‘ جھیلوں اور ندی نالوں میں پھینک کر اسکا دھماکہ کرکے ان میں تیرتی ان گنت مچھلیوں کو اکثر ہلاک کرتے ہیں اور پھر ان میں سے چند ایک پکڑتے ہیں اور بقیہ سینکڑوں مردہ مچھلیاں پانی کے بہاؤ کی قبر میں دفن ہو جاتی ہیں‘ چنانچہ یہ ایجاد اگر برباد کرتی ہے تو اس سے زیادہ آباد کرتی ہے‘ اسکے منفی پہلوؤں پر اسکے مثبت نتائج حاوی ہو جاتے ہیں اب اس مین بکر پرائز کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں غلاموں کے خون پسینے کی آمیزش ہے اور وہ ہے…

انگلستان کے کاروباری بکربرادران نے برطانوی نوآبادی گیانا کے جزیرے میں ایک وسیع رقبے پر شوگرکین یعنی گنے کی کاشت کا آغازکیا اور انکی فصلوں اور کھیتوں میں جتنے لوگ بھی جانوروں کی مانند مشقت کرتے تھے انہیں اپنی محنت کاکچھ معاوضہ نہ ملتا تھا‘ صرف کوڑے ان کی پیٹوں پر برستے تھے اور وہ آئے دن کیڑے مکوڑوں کی مانند مرتے رہتے تھے اور جب حکومت برطانیہ نے بالآخر غلامی پر پابندی عائد کی اور غلاموں کے مالکوں کو انہیں آزاد کرنے کے عوض بھاری رقوم پیش کیں توبکر برادران کی چاندی ہوگئی اور انہوں نے اپنے غلام مہنگے داموں فروخت کئے اور ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ غلام آزاد ہونے کے بعد اگلے دو برس انکے گنے کے کھیتوں میں بلامعاوضہ کام کرینگے ازاں بعد بکربرادران نے اپنی کالونی ہندوستان سے وہاں کے ذلتوں کے مارے لوگوں کی ایک کھیپ سمندری جہازوں میں بھرکردرآمد کی اور انہیں نہایت قلیل تنخواہ پر اپنی ریاست پر حقیر غلام کرلیا… یہ انعام انہی بکر برادران کے نام پر ادیبوں کو عنایت کیا جانے لگا1972ء میں جان برگر کو اسکے ناول ’’جی‘‘ پر بکر انعام دیاگیا تو اس نے اسے قبول کرنے والی محفل میں بکر برادران کے پرخچے اڑا دیئے انکے ظلم کی داستانیں بیان کیں‘ غلاموں کیساتھ جانوروں ایسا سلوک کرنے پر انہیں مطعون کیا اور انعام کی رقم جوان دنوں پانچ ہزار پاؤنڈ تھی…

بلیک پینتھرنامی غلاموں کی آزادی کی تنظیم اور پناہ گزینوں کیلئے وقف کردی… جان برگر نے بکر پرائز کو ایک خونی اور غلاموں کی مشقت کے لہو اور پسینے سے نچڑا ہوا ایک ادبی انعام قرار دیا… اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا ایسے خونی انعام کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے اسے قبول نہیں کرنا چاہئے تو میرا جواب ہوگا ہرگز نہیں… بکر خاندان کے علاوہ ہزاروں بلکہ لاکھوں برطانوی خاندان تھے جنہوں نے افریقہ‘ ہندوستان اور دیگر محکوم ملکوں اور جزیروں کے لوگوں کے خون سے اپنی ذاتی سلطنتیں تعمیر کیں انکے ہر پاؤنڈ میں خون اور پسینے کی بو تھی‘ تو ان سب خون چوسنے والوں میں سے اگر بکربرادران ادیبوں کیلئے ایک سالانہ کیش انعام کا اجراء کرتے ہیں تو کچھ برا کرتے ہیں… بہرطور ہر برس دنیا بھر میں جو ناول لکھے جاتے ہیں انکا چناؤ ہوتا ہے‘ پہلے ایک لمبی فہرست کا اعلان کیا جاتا ہے‘ پھر ان میں سے ایک شارٹ لسٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے اور بالآخران میں سے بہترین ناول کے حق میں فیصلہ آجاتا ہے اس برس امریکی مصنف جارج سانڈرز کے ناول’’ لنکن ان وے براڈو‘‘ کو بکر پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا… اس بارے میں میرے کچھ تحفظات ہیں… اچھا اگر میں اتفاق نہیں کرتا تو اس سے بکر پرائز کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا جیسے ہمارے بہت سے کالم نگار نہ صرف وزیراعظم اور صدر کو مشورے دیتے رہتے ہیں کہ ملک کیسے چلانا چاہئے بلکہ وفور جذبات سے مغلوب ہو کر اکثر برطانوی وزیراعظم اور خصوصی طور پر امریکی صدر کو للکارتے رہتے ہیں تو اسی طورمیں بھی بکر پرائز کمیٹی کو للکار سکتا ہوں کہ مجھے تمہارا فیصلہ قبول نہیں‘ یعنی احمقوں کی جنت میں رہنے میں کچھ مضائقہ نہیں کم از کم میں انکی نسبت جو صدر امریکہ وغیرہ کو مشورے دیتے ہیں ایک نچلے درجے کا احمق ہوں… اس میں کچھ شک نہیں کہ بکر پرائز کی لسٹ میں دس بارہ مصنفوں میں شامل ہونا بھی ایک اعزاز ہے اور آپ ساری دنیا میں متعارف ہو جاتے ہیں‘ شارٹ لسٹ میں آگئے تو گویا آپکی ادبی عظمت پر مہر لگ گئی اور اگر جیت گئے تو پوری دنیا میں آپکے ادب کی دھاک بیٹھ گئی…عمر بھر کیلئے معاشی طورپر آزاد ہوگئے کہ آپ کے ناول کے دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمے ہونگے اور لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہونگے‘ آپکی موج ہو جائیگی‘ اس برس تقریباً گیارہ ناولوں کو بکرپرائز کی شارٹ لسٹ میں شامل کیا گیا اور میں بے حد پرمسرت ہوا کہ ان میں کاملہ شمسی اور محسن حمید کے ناول بھی انتخاب کئے گئے تھے‘ اگرچہ یہ دونوں برطانوی شہریت کے حامل ہیں۔

لیکن ان کا ضمیر پاکستانی مٹی سے اٹھا ہے…محسن لاہوری ہیں اور کاملہ شمسی کا تعلق کراچی سے ہے… اس لسٹ میں میری محبوب کیرالا کی رہنے والی بنیادی طورپر ایک آرکیٹکٹ’’ گاڈ آف سمال تھنگز‘‘ کی مصنفہ‘ ایک جیالی‘ بہادر اور شکست خوردہ انسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنیوالی ہمیشہ ہندوستان سرکار کی معتوب‘ اروندھتی رائے کا دوسرا ناول‘ جسکی ایک دنیا منتظر تھی’’ دے منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس‘‘ بھی شامل تھا… اروندھتی رائے آج سے تقریباً بیس برس پہلے بین الاقوامی ناول نگاری کے افق پر ایک دھماکے کی صورت نمودار ہوئی اور اپنے پہلے ناول’’ گاڈ آف سمال تھنگز‘‘ پر مین بکر پرائز کی حقدار ٹھہرائی گئی اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ ایک نیا ناول نگار جسے اپنے ملک میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا اپنے پہلے ناول پر ہی یہ انعام جیت لے اور یہ کیا ہی یادگار ناول تھا… کیرالا ہندوستان کی وہ ریاست ہے جو ثقافتی‘ مذہبی اور ذہنی طورپر بقیہ ملک سے مختلف ہے یہاں تک کہ وہ ہندوستان کاحصہ ہی نہیں لگتی کمیونزم کا نظام یا تو انقلاب کے ذریعے رائج ہوا اور یا پھر آمریت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا…کیرالا سوویت یونین کے زمانوں میں دنیا کی پہلی ریاست تھی جہاں کمیونسٹ پارٹی جمہوریت کے تحت عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئی اور ایک طویل عرصہ باربار الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی رہی کہ اسکی پالیسیاں عوام دوست اور مذہبی تعصب سے پاک تھیں… علاوہ ازیں کیرالا ہندوستان کی سب سے پڑھی لکھی ریاست تھی جہاں عیسائی‘ ہندو اورمسلمان آباد تھے اور انکے درمیان کبھی بھی مذہبی حوالے سے کسی جھگڑے یا فساد نے جنم نہ لیا اور یہ نتیجہ تھا سوفیصد تعلیم کا اور کمیونسٹ پارٹی کا مذہب کے معاملے میں غیر جانبداری کا… یوں جانئے کہ ہمارے ہاں جس سیکولرازم پر لعنت بھیجی جاتی ہے‘ کیرالا میں یہ ایک رحمت ثابت ہوا‘ اروندھتی رائے کو سمجھنے کیلئے اس کا پس منظر جاننا بہت ضروری ہے کہ وہ کیوں ذات پات‘ مذہب اور وطن سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کی قدروں کی پجاری ہوئی اور یوں ہندوستان میں وہ ایک معتوب اور غدار ادیب ٹھہرائی گئی…محب الوطنی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ آپکی آنکھوں پر وطنیت اور مذہب کی پٹی باندھ کر جو پٹی پڑھائی جائے آپ ذرہ بھر اس سے انحراف نہ کریں اور ایک طوطے کی مانند ٹیں ٹیں کرتے رہیں… اروندھتی رائے نے ایک طوطا بننے سے انکار کر دیا..