بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / غریب عوام کو انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے ٗ پرویز خٹک

غریب عوام کو انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے ٗ پرویز خٹک


پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کرپٹ حکمران ٹولے کے احتساب کی آواز اٹھائی۔ آج نوازشریف اوراسکاپورا خاندان احتساب کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس نے عمران خان کی سوچ کے تحت نظام کی تبدیلی کے سفر کا آغاز کیا۔عوام نے پاکستان تحریک انصاف پر جس اعتماد کا اظہار 2013 کے انتخابات میں کیا تھا انشاء اللہ ہم 2018 کے انتخابات میں بھی ہمارے خلاف اتحاد بنانے والوں کو عبرت ناک شکست دیں گے۔اب روٹی کپڑا مکان، پختون اور اسلام اور قائد اعظم کا نام لیکرعوام کوکوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ ایم ایم اے نے اپنے دورحکومت میں اسلام کی کیا خدمت کی۔

ان کی سیاست کا مرکز اسلام نہیں بلکہ اسلام آباد ہے۔ ہم نے چھٹی جماعت تک ناظرہ قرآن اور چھٹی سے بارہویں جماعت تک قران باترجمہ لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس سے طلبہ اور طالبات کو اپنے مذہب سے آگاہی حاصل ہوسکے گی اوروہ بہتر زندگی گزارنے کے اصول اپنائیں گے ۔ نجی سوداور جہیز کے خلاف بھی قانون سازی کی ہے۔ علماء کرام سے اپیل ہے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔تحریک انصاف کی اولین ترجیح غریب عوام کو انصاف کی فراہمی ہے اور غریب عوام کی عزت نفس بحال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس قوم پر مہربان ہوتا ہے اسے ایماندار لیڈر عطاء کر دیتا ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جس ملک نے بھی ترقی کی اسے ایک ایماندار لیڈر ملا جس نے شفاف نظام کی بنیاد رکھی کیونکہ قومی ترقی اور خوشحالی ایماندار قیادت اور نظام کی شفافیت سے مشروط ہے حکمران قومی وسائل پر امین ہوتے ہیں اگر حکمران خود ہی وسائل کی لوٹ مار اور چوری میں ملوث پائیں جائیں تو پھر قومی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے غلہ ڈھیر ، ذڑہ میانہ اور تر لاندی ضلع نوشہرہ میں شمولیتی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ غلہ ڈھیر سے مسعود شاہ، گلزار شاہ، ہدایت اللہ،محمد ظاہر، ابرار اللہ، اسد اللہ اور جانس خان(تورے) ،ذڑہ میانہ میں حاجی سید رحیم، ہارون، ادریس، فیصل، سلیمان، ذیشان، سلمان اکبر،کامران خان جبکہ ترلاندی میں تجمل خان، سید ولی خان، حاجی بہادر، شیراز کاکا، جہانزیب ، اکبر علی، نصیب خان، فضل حیات، گلزار خان، قیصر خان ، حبیب اللہ اور دیگر نے اپنے خاندان اور دوستوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی سے مستعفیٰ ہو کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ جبکہ گلریز حکیم خان، نوروز خان ،، بہرہ مند، پی ٹی ائی کے سینر نائب صدر سلیم مجاہد، نہارخان ضلعی سیکرٹری اطلاعات حیات علی اعوان ، سکندر خان، فضل امین اور حاجی سید رحیم نے اس موقع پر خطاب کیا۔

وزیر اعلیٰ نے تحریک میں شامل ہونے والوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی سوچ کے تحت تحریک انصاف میں شمولیت کو بہترین فیصلہ قرار دیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں اے این پی ، پی پی پی، اورمسلم لیگ ن سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان کی سیاست کا مقصد اسلام نہیں بلکہ اسلام آباد تھا۔ اس لیے عوام نے ان کومسترد کرکے تحریک انصاف کے منشور اوروژن سے متاثر ہوکر تحریک انصاف کو خدمت کا موقع دیا۔ بد قسمتی سے پاکستان کو گذشتہ کئی دہائیوں سے مخلص قیادت میسر نہ آئی مفاد پرست سیاستدانوں نے عوام کو گلی نالی کی سیاست میں الجھائے رکھا اور اداروں کو ذاتی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کیاکبھی کسی نے نہیں سوچا کہ عوام کو کن مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل کی بنیادی وجہ کیا ہے عوامی حکمرانی کا نیا اسلوب متعارف کرایاایک ایسے صاف ستھرے نظام کی بنیاد رکھی جس میں سب کو ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں اور کسی کا استحصال نہ ہو۔ تحریک انصاف کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں اب عوام اور خواص کی سوچ بدلنے لگی ہے ماضی کے حکمرانوں نے تعلیمی پسماندگی کے ذریعے عوام کو سیاسی شعور سے دور رکھا اور اپنے مفادات کیلئے انہیں گلیوں ، نالیوں کی سیاست میں الجھا کر حکومتیں بناتے رہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی کام اپنی جگہ ٹھیک ہیں مگر کسی نے نہیں سوچا کہ عوام کو درپیش مسائل کو بنیادی وجہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ گلی اور نالی اصل مسئلہ نہیں ہے اصل مسئلہ نظام کی تبدیلی ہے اگر نظام ٹھیک ہو تو سارے کام خود کار طریقے سے ہوتے رہتے ہیں مگر سیاستدانوں نے نہ خود اس طرف توجہ دی اور نہ ہی عوام میں یہ شعور اجاگر ہونے دیا کہ انکے بنیادی حقوق کیا ہیں۔سیاسی مجرموں نے قومی اداروں کو بھی سیاسی مداخلت کے ذریعے تباہ کیا تعلیم اور صحت جیسے سماجی خدمات کے بنیادی شعبے بھی نا کارہ ہو چکے تھے وزیر اعلیٰ نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہاں سکول استاد کیلئے اور ہسپتال ڈاکٹر کیلئے بنائے گئے حالانکہ ڈاکٹر ہسپتال کیلئے ہوتا ہے اور ہسپتال عوام کیلئے مگر بد قسمتی سے یہاں سارا نظام ہی الٹ چل رہا تھا یہ سارا کھیل سیاستدانوں کے مفاد کے گرد گھوم رہا تھا غریب عوام اس سارے کھیل سے مکمل طور پر باہر تھے غریب کی فلاح اور خوشحالی کا کوئی منشور ہی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ اس بد عنوان نظام سے تنگ عوام نے نظام کی تبدیلی کیلئے عمران خان سے تعاون کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی صوبائی حکومت نے تبدیلی کے منشور کے تحت گذشتہ چار سالوں میں صوبے کے ہر شعبے میں قابل عمل اصلاحات کیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم واحد خزانہ ہے جس سے خوشحالی آتی ہے مگر حکمرانو ں نے اس شعبے کی تباہی میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی جان بوجھ کر طبقاتی نظام تعلیم کو فروغ دیا گیا جس کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا چلا گیا امیروں کے بچے بہترین ماحول میں تعلیم حاصل کریں اور غریب کے بچے کو بیٹھنے کے لئے کرسی تک دستیاب نہ یہ کہا ں کا انصاف ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں چھ کلاسوں کیلئے دو استاد اور دو ٹوٹے پھوٹے کمرے ہوتے تھے ۔

ہم نے حکومت میں آتے ہی سرکاری سکولوں کا معیار بلند کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا 70سالوں سے نا پید سہولیات کی فراہمی کیلئے اربوں روپے خرچ کئے میرٹ پر 45ہزار نئے اساتذہ بھرتی کئے پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم شروع کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایم این اے نے دین کے نام پر سیاست کی مگر عملی طور پر دین کیلئے کوئی کام نہیں کیا ہماری حکومت دین اور دنیا یعنی عصری اور دینی دونوں علوم پر توجہ دے رہی ہے سکولوں میں ناظرہ و قرآن اور ترجمہ قرآن کو لازمی قرار دیا ہے مساجد میں سولر سسٹم لگا رہے ہیں اورآئمہ مساجد کو سرکاری سطح پر تنخواہیں دینے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے شعبہ صحت میں اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو ہسپتالوں میں نہ ڈاکڑ تھے اور نہ ہی دوائی دستیاب تھی انکی حکومت نے صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے کے لئے ریکارڈ بھرتیاں کیں۔

اس چار سال کے عرصے میں ڈاکٹرز کی تعداد تین ہزار سے سات ہزار کر دی۔تنخواہوں میں ڈیڑھ لاکھ تک اضافہ کیا یہ واحد صوبہ ہے جسکے ہسپتالوں میں سو فیصد ڈاکٹرز موجود ہیں غریب کو علاج کی مفت سہولت فراہم کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا پچھلے سال چودہ لاکھ کارڈ تقسیم کئے جبکہ رواں سال مزید دس لاکھ کارڈز تقسیم کئے جا رہے ہیں اس طرح 24لاکھ مستحق خاندان سالانہ پانچ لاکھ روپے تک سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولت حاصل کریں گے۔ شعبہ پولیس میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ چار سال پہلے صوبے کی پولیس سیاستدانوں کی غلام تھی تھانوں میں بدمعاشی اور رشوت خوری عام تھی۔

انکی حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے با اختیار بنایا اب خیبر پختونخوا پولیس ایک با اختیار فورس بن چکی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت نے رشوت ، سفارش اور کمیشن کلچر کا خاتمہ کرکے میرٹ کی بالادستی کو فروغ دیا اور اس مجموعی عمل کو قانون سازی کے ذریعے دیر پا بنایا ترقیاتی کاموں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبہ بھر میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ہم اعلانات پر نہیں بلکہ عملی کام پر اقدامات پر یقین رکھتے ہیں ہمارے تمام تر اصلاحاتی اور ترقیاتی کاموں کا مرکز و محور غریب عوام ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عوام کا تحریک انصاف پر اعتماد روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔