بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک امریکہ تعلقات :منطقی جواز!

پاک امریکہ تعلقات :منطقی جواز!


آخر امریکہ چاہتا کیا ہے؟امریکہ کے دل میں پاکستان کیلئے نرم گوشہ کیوں نہیں؟ کرم ایجنسی میں امریکی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کاروائی کی جس کے ردعمل میں دہشت گردی کی یکے بعد دیگرے تین وارداتیں ہوئیں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانی قربانیوں میں اضافہ ہوا لیکن ان قربانیوں کے باوجود بھی پاکستان کیلئے امریکی لہجے میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوئی تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے تحکمانہ لہجے میں پاکستان کے لئے ’ہدایت نامہ‘ جاری کیا ہے کہ وہ حقانی گروپ اور طالبان سے اپنا تعلق ختم کرے اور اپنے روشن مستقبل کا سوچے۔ امریکی سینٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے اجلاس میں ری پبلکن سینیٹر جان براسو کے پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے‘اسے دہشتگردوں کی معلومات فراہم کی جائیں تو وہ ان کے خلاف کاروائی کریگا‘ اس تناظر میں ہم پاکستان کو ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں جس کیلئے پاکستان کو مخصوص خفیہ معلومات فراہم کی جائیں گی تاہم انہوں نے اپنے دورۂ اسلام آباد کے موقع پر پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ اسے ملک میں وسیع پیمانے پر استحکام لانے کا آغاز کرنا ہوگا جس کیلئے اسکی سرزمین پر دہشت گردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے‘امریکہ بہ زبان بھارت الزامات عائد کرتا ہے کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کیساتھ تعلقات ہیں اور اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ ان گروپوں کیساتھ اپنے تعلقات ختم کرکے اپنے طویل المدتی استحکام اور روشن مستقبل کے بارے میں سوچے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاونت بغیر امریکہ افغانستان میں امن و امان کی بحالی سے متعلق اپنے ایجنڈے کی تکمیل نہیں کر سکتا جبکہ سی پیک منصوبے کو عملاً فعال کرنے کیلئے پرامن ماحول کی ضرورت ہے تو دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن پاکستان کی اپنی بھی مجبوری بن چکا ہے ۔

جس کے لئے اسے امریکہ یا کسی اور سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان پہلے ہی اپنی سرزمین پر ردالفساد‘ کومبنگ اور خیبرفور کاروائیوں کے تحت دہشت گردوں کی سرکوبی میں مصروف ہے جس میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں تاہم اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان پر بداعتمادی کا اظہار اور بطور خاص حقانی نیٹ ورک کیخلاف کاروائی کا تقاضا کسی مخصوص ایجنڈے کے تابع ہی ہو سکتا ہے جسکا مقصد پاکستان کیخلاف گھیرا تنگ کرکے اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے تاکہ وہ ایران کی طرح اپنی جوہری صلاحیت کو ترقی نہ دے سکے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا واشنگٹن کو باور کرایا گیا ہے کہ اب ڈومورکی گنجائش نہیں رہی بلکہ امریکہ کو ڈومور کرنا پڑیگا اور پاکستان کی جانب سے نومور ہوگا لیکن ہرممکن تعاون اور اس مؤثر و کامیاب فوجی کاروائی کہ جس کی صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام نے تعریف بھی کی لیکن امریکی لب و لہجے کی کرختگی بدستور موجود ہے جو نہ تو سفارتی آداب کی ذیل میں آتی ہے اور نہ ہی آج کی مہذب دنیا میں کسی آزاد ملک سے باعزت بات کرنے کا طریقہ ہے۔ امریکی حکام نے بظاہر اطمینان کا اظہار کیا مگر ان کے تحکمانہ لہجے میں کمی نہ آنا اِس بات کی دلیل ہے کہ بداعتمادی آخری حدوں کو چھو رہی ہے امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کی زبانی ڈومور کے امریکی تقاضوں کے انبار اور بھارت کو پاکستان کی نگرانی کی ذمہ داری سونپنے کی تصدیق اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کو تسلسل کیساتھ باور کرایا جارہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں بھارت کا کردار کسی بھی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ بھارت اس کردار کو پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کیلئے بروئے کار لائے گا اگر بھارتی کردار پر پاکستان کے تحفظات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ اپنی پاک افغان پالیسی میں تبدیلی لانے پر آمادہ نہیں تو پاکستان کے نکتۂ نظر سے امریکہ اور بھارت میں کوئی فرق نہیں اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جس نے ہمیشہ عالمی امن کے حوالے سے اپنے فرائض ادا کئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اسے امریکہ کیساتھ تعلقات خوشگوار ہونے کی خوش فہمی نہیں۔ اسلئے عالمی سطح پر اور بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں پاکستان کے مفادات کا بھرپور تحفظ جاری رکھا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو احساس ہونا چاہئے کہ امریکی پالیسی افغانستان میں ہزیمت اٹھانے والے جرنیلوں نے بنائی‘ جن کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے ایسی صورت میں پاکستان اور امریکہ کی سیاسی و دفاعی قیادت کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے تاکہ ایک مشترک دشمن اور ہدف پر قابو پا سکیں۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شہریار جمال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)