بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ایبٹ آباد:دستاویزات

ایبٹ آباد:دستاویزات


امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے سینکڑوں ہزاروں دستاویزات جاری کرنے کے درپردہ مقاصدکی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے‘ جسکا ایک محرک یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بارے وہ بحث پھر سے زندہ ہو جائے جو دو مئی دوہزار گیارہ کو سمندر میں بہا دی گئی تھی! ہر چند برس بعد بن لادن کی باقیات منظرعام پر لاکر امریکہ نے اس ایک کردار کو لافانی بنا دیا ہے‘ جس کی تخلیق اور خاتمے کا اعزاز اسی کے نام ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ بن لادن کے افکار و نظریات اور اسکی ذات محو نہ ہو پائے جسے سراپا سلامتی کے مذہب سے منسوب رکھا جا سکے۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کے بارے وہ دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ یہ اسلامی جمہوریہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کا مرکز رہا ہے اور عالمی سطح پر ’اِنسداد دہشت گردی‘ صرف اور صرف امریکی کوششوں کی مرہون منت ہے! جب امریکہ کی فوجی اور سیاسی قیادت یہ کہتی ہے کہ اس نے بن لادن کو ڈھونڈ نکالا تو وہ ڈو مور مطالبے کے ذریعے یہ تاثر بھی دیتی ہے کہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی جیسی انتہاؤں پر یقین کرنیوالی بن لادن کی باقیات اور نظریات کا مرکز پاک سرزمین ہے جہاں آج بھی ایسے آتش فشاں پائے جاتے ہیں جو اگر لاوا اگلنا شروع کریں تو پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کر سکتے ہیں! حالانکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جدید ہتھیاروں کی ایجادواستعمال میں پہل کیساتھ امریکہ نے دنیا کو وسیع و عریض میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے اور آج کی دنیا تعلیم و تحقیق سے لیکر معاشی و سماجی حیثیتوں میں زوال پذیر ہے کہ اگر کوئی ملک یا گروہ امریکہ کی سیاسی و اقتصادی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا تو اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں‘ امریکہ وقت اور تاریخ کو روکنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش یہ بھی ہے کہ دنیا آگے بڑھنے کی بجائے مسلسل پیچھے مڑ کر دیکھتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا سارا زور آج بھی اسی ایک نکتے پر مرکوز ہے کہ بن لادن ایبٹ آباد چھاؤنی سے قیام پذیر رہا۔

یہ بات خود پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے لئے بھی حیرت‘ پریشانی اور ندامت کا باعث تھی جنہوں نے بن لادن کے ہر نشان کو مٹانے کیلئے اس سے منسوب عمارت تک مسمار کر دی لیکن شاید ابھی امریکی ایجنڈا مکمل نہیں ہوا‘یکم اور دو مئی دوہزار گیارہ کی درمیانی شب بن لادن کی رہائش گاہ سے قبضے میں لی گئیں دستاویزات کے ذخیرے کا دوسرا حصہ جاری کیا گیا ہے‘ تاہم سوال یہ ہے کہ ان دستاویزات کی اہمیت کیا رہ گئی ہے جبکہ ’القاعدہ نامی اُس تنظیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے‘ جس کا قیام خود امریکہ کی مالی سرپرستی سے ہوا؟ آج کی تاریخ میں فاتح کون ہے؟ کیا زخم خوردہ ’القاعدہ ذہنیت‘ کے حوصلے پست اور بن لادن کی ہلاکت سے انہوں نے شکست تسلیم کر لی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ میں پنہاں پیغامات اور کسی دہشت گرد تنظیم کی قیادت کرنے کے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں!؟ کیا ’ایبٹ آباد دستاویزات‘ جاری کرنے سے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں فائدہ ہوگا؟جیسا کہ MOAB سے خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی‘ اِسی طرح ’بن لادن‘ اپنی زندگی ہی میں القاعدہ تنظیم کو کم ترین فعال سطح پر لے گئے تھے۔ مجموعی طور پر القاعدہ سولہ برس سے زائد عرصے میں امریکی سرزمین پر سوائے نائن الیون کوئی دوسری بڑی کاروائی نہیں کر سکی جس کی وجہ امریکہ کا مضبوط داخلی دفاع ہوم لینڈ سکیورٹی تھی لیکن اسے محدود رکھا گیا اور آج بھی جبکہ ایبٹ آباد دستاویزات جاری کی گئیں تو ان کا تبادلہ بطور خفیہ معلومات ان اتحادی ممالک بشمول پاکستان سے نہیں کیا گیا‘جو انسداد دہشت گردوں کی باوجود سنجیدہ عملی کوششوں بھی وسائل کی کمی کے باعث الجھا ہوا ہے۔ ایبٹ آباد دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ القاعدہ جنوبی ایشیاء اور مغربی افریقہ کے ممالک میں پھیلتی چلی گئی اور اسکے تربیت یافتہ جنگجوؤں نے کئی ایک تنظیموں کو جنم دیا‘ جن سے ’بن لادن‘ کے ساتھ رابطوں کا اِنکشاف ناقابل تردید ریکارڈ کا حصہ ہے۔

انہی دستاویزات کی بدولت دنیا حمزہ بن لادن کی شکل و صورت بھی پہچانی گئی ہے کیونکہ سال 2015ء سے القاعدہ نے ویڈیو پیغامات جاری کرنیکا سلسلہ ختم کردیا تھا ! ایبٹ آباد دستاویزات میں 228 صفحات پر مشتمل بن لادن کی تحریرکردہ ذاتی یاداشتیں بھی ہیں‘ جن میں عالمی حالات و واقعات اور بالخصوص عرب دنیا کی سیاست پر اُن کے تاثرات درج ہیں اور اِن سے معلوم ہوا ہے کہ ’القاعدہ‘ تیزی سے بدلتے حالات پر نظریں جمائے مواقعوں کی تلاش میں رہتی تاکہ کسی ملک کے داخلی انتشار سے فائدہ اُٹھا سکے۔