بریکنگ نیوز
Home / کالم / ممنوعہ بورکے اسلحہ پرپابندی

ممنوعہ بورکے اسلحہ پرپابندی


دو اہم خبریں جو قومی نوعیت کی ہیں توجہ طلب ہیں ایک کا تعلق ترقیاتی عمل کیساتھ ہے او ر دوسری کا امن عامہ کیساتھ‘ اگلے روز سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازافضل خان نے بجا فرمایاہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کا ادارہ ہے ارکان پارلیمنٹ کا کام سڑکیں یا سیوریج کا نظام ٹھیک کرنا نہیں عوامی نمائندے قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ آتے ہیں اس بات کا تو رونا ہم جیسے لکھاری بھی کئی برسوں سے رو رہے ہیں کہ جس کسی نے بھی ارکان پارلیمنٹ کو اس کام پر لگایا ہے اس نے ان کیساتھ میٹھی دشمنی کی ہے ان کو پی ڈبلیو ڈی کا ٹھیکیدار بنا کر کوئی اچھا سلوک نہیں کیابے شک اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ ہر رکن اسمبلی کو اپنے اپنے انتخابی حلقے میں ترقیاتی کام کرانے چاہئیں لیکن اسکا بہتر ین طریقہ کار یہ ہے کہ وہ ترجیحات کا تعین کرکے ان ترقیاتی سکیموں کی نشاندہی کریں کہ جو انکی دانست میں ضروری ہیں انہیں منظور کرانے کے بعد جب متعلقہ محکمہ ان پر کام شروع کرے تو وہ کام کی رفتار اور معیار پر کڑی نظر رکھیں لیکن اگر وہ ان ترقیاتی سکیموں کے فنڈز کو اپنی دسترس میں لے لیں گے تو پھر یقیناًان پر کئی سوال اٹھیں گے موجودہ طریقہ کار کو اکثر مبصرین سیاسی رشوت سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ طریقہ کار ارکان پارلیمنٹ کی بدنامی کا باعث بنا ہے لہٰذا اسے اگر جتنا جلدی ختم کر دیا جائے تو اتنا ہی یہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ویسے اس ملک میں اگر ایک مرتبہ کسی طبقے کو مالی مراعات سے نوازدیاجائے تو بعدمیں ان مراعات کا واپس لینا کافی مشکل کام ہوتاہے ہر رکن اسمبلی کو سالانہ ترقیاتی فنڈز دینے کی ریت خدا بخشے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے وقت ڈالی گئی تھی پہلے یہ رقم ہر سال50 لاکھ ہوتی تھی اب یہ بڑھ کر کروڑوں میں جا پہنچی ہے اچھی خاصی رقم اس مد میں اڑ جاتی ہے کیا آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے یہ جاننے کی کوشش بھی کی ہے کہ اس مد میں خرچ ہونیوالی رقم سے جو ترقیاتی کام ہوا ہے۔

وہ معیاری بھی ہے یا نہیں اپنے ہاں تو کوالٹی کنٹرول کیلئے مانیٹرنگ اتنی باریکی سے نہیں کی جاتی کہ جتنی کرنی چاہئے سیاسی مصلحتوں نے مانیٹرنگ نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے یہ تو بات ہو گئی ترقیاتی منصوبوں کی اب آئیے امن عامہ کے حوالے سے وزیراعظم صاحب کے اس بیان پر چند سطور لکھ دی جائیں جو انہوں نے اسلحہ لائسنس کے اجراء کے عمل کو آسان اور دوستانہ بنانے کے بارے میں دیا ہے اسکی وضاحت ضروری ہے کہ آسان او ر دوستانہ سے ان کی کیا مراد ہے ؟ ہماری دانست میں تو اسلحہ لائسنس کے اجراء کے عمل کو آسان اور دوستانہ بنانے سے امن عامہ کا مزید بیڑا غرق ہو گا کیونکہ ملک میں اسلحے خصوصاً ممنوعہ بور کے اسلحے کی بہتات نے پہلے ہی سے امن عامہ کی دھجیاں اڑائی ہوئی ہیں ماضی میں ایک نہیں بلکہ کئی کئی مرتبہ ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں ہم نے ناکام کا لفظ اسلئے استعمال کیا کہ اس ضمن میں جو مہم بھی چلائی گئی وہ نیم دلانہ تھی اور آ دھے راستے میں اسے سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ادھورا چھوڑ دیا گیا اصولی طور پر کسی شہری کے پاس ممنوعہ بور کا اسلحہ بھلے وہ لائسنس دار ہو یا بغیر لائسنس کے ہونا ہی نہیں چاہئے دشمن دار قسم کے لوگوں کو بے شک اسلحہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے لائسنس کے تحت دیا جا سکتا ہے لیکن وہ غیر ممنوعہ بور کا ہو ممنوعہ بور کا اسلحہ صرف اور صرف فوج پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے پاس ہونا چاہئے اس ضمن میں سخت قانون سازی کی ضرورت ہے ۔

سب سے پہلے تو ایک قانون پاس کیا جائے جس کے تحت تمام لوگوں کو مطلع کیا جائے کہ اگر انکے پاس ممنوعہ بور کا اسلحہ موجود ہے تو وہ ایک ماہ کے اندر اندر اسے اپنے متعلقہ پولیس سٹیشن پر جمع کراکر تھانیدار سے پکی رسید حاصل کر لیں ان کو اس اسلحہ کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق پے منٹ کی جائے گی لیکن اگر ایک ماہ کے بعد کسی سے بھی ممنوعہ بور کا اسلحہ پکڑا گیا بھلے وہ لائسنس دار کیوں نہ ہو تو اس کو دس سال قید با مشقت ہو گی اور پھر بے رحمانہ طور پر اس قانون پر عمل ہو صرف اس صورت میں ہی ملک کو ممنوعہ بور کے خطرناک اسلحہ سے پاک وصاف کیا جا سکتا ہے اس طریقہ کار کے ذریعے جو اسلحہ حکومت کے ہاتھ لگے اسے فوج پولیس اور پیراملٹری فورسزکے استعمال میں دے دیاجائے حکومت ممنوعہ بور کے اسلحہ کے لائسنس یا پرمٹ جاری کرکے غیرارادی طور پر خود عوام کی ہلاکت کا سامان پیدا کر رہی ہے ۔