بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مارکیٹ چیک کون کرے گا؟

مارکیٹ چیک کون کرے گا؟


کسی بھی ریاست میں گرانی کے اسباب کا جائزہ لینے پر عالمی منڈی کااتار چڑھاؤ اور خود اس ریاست کی اقتصادی صورتحال اہم فیکٹرز ضرورہوتے ہیں تاہم وطن عزیز میں اس سب کیساتھ مارکیٹ کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے جس نے عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے صوبائی دارالحکومت میں گرانی اور ملاوٹ کیخلاف کاروائی کیلئے 3روز کی ڈیڈ لائن دیدی گئی ہے ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بلاامتیاز آپریشن ہو گا ‘ محکمہ خوراک نے اس مقصد کیلئے اپنے متعلقہ افسروں کو ٹاسک حوالے کر دیا ہے ‘ ڈپٹی کمشنر پشاور کا کہنا ہے کہ پشاور کو ملاوٹ سے پاک کریں گے ‘ گرانی و ملاوٹ کیخلاف کاروائی کا عزم قابل اطمینان ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پشاورکے بے ترتیب پھیلے ہوئے وسیع جغرافیے میں کریک ڈاؤن کیلئے حقیقت میں درکار عملہ اور وسائل کہاں سے آئیں گے یہ مسئلہ صرف پشاور نہیں بلکہ پورے ملک کے تمام پھیلتے بڑے شہروں کا ہے ایسے میں مارکیٹ چیک کرنے والوں کے اختیارات کی حدود کا تعین بھی سوال طلب ہے اگر بات حسب سابق دوچار روز کے چھاپوں کی ہے تو پھر تو سب اچھا ہے کی رپورٹ جلد تیار ہو کر داخل دفتر کی جا سکتی ہے اگر انتظامیہ نے گراس روٹ لیول پر جا کرگلی محلوں میں کام کرنا ہے تو اس کیلئے مربوط حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی ‘ اس حقیقت کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ اقتصادی شعبے میں حکومت کے متعدد اقدامات ریکارڈ کا حصہ ہیں اس کے باوجود مارکیٹ میں غریب اور متوسط شہری کوئی ریلیف پانے کی بجائے آئے روز مزید مشکلا ت کا سامنا کر رہے ہیں۔

قومی بجٹ کے بعد اربوں روپے کے مزید ٹیکس اور آئے روز پٹرولیم منصوعات کے نرخوں میں اضافہ عوام کیلئے اذیت ناک ہوتا جا رہا ہے ایسے میں حکومت کے اقتصادی اعشاریئے کسی طور عوامی سطح پر کوئی پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے وجہ صرف قاعدے قانون سے آزاد مارکیٹ ہے ‘ ماضی میں منڈی کے کنٹرول کیلئے مجسٹریسی نظام کام کرتا تھا اس کیساتھ پرائس ریویو کمیٹیاں بھی تھیں اب مجسٹریسی سسٹم فائلوں میں بند ہے جسے ایک بار پھرآپریشنل کرنے کیلئے کئی مراحل طے کرنا ہوں گے اس وقت تک مارکیٹ کو مستقل بنیادوں پر ہول سیلر سے لیکر پرچون فروش تک چیک کرنے کیلئے تو بہتریہی ہو گا کہ کریک ڈاؤن سے قبل ڈسٹرکٹ کے ذمہ دار دفاتر سے افرادی قوت اور دیگر وسائل یکجا کئے جائیں بلدیاتی اداروں کے منتخب اراکین اور تاجر برادری کے نمائندوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے محکمہ خوراک ‘صحت اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں باہمی رابطہ ممکن بنایا جائے ‘فوڈ لیبارٹریوں کو متحرک کیا جائے آپریشن کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کی جائے بصورت دیگر بات دوچار روز کے چھاپوں سے آگے نہیں بڑھ پائیگی لوگوں کا اس طرح کے اعلانات پر سے اعتماد ختم ہوتاجائیگا جبکہ ملاوٹ کے ہاتھوں انسانی صحت اور زندگی کو لاحق خطرات بھی بڑھتے جائیں گے۔

مارکیٹ میں گرانی اور ملاوٹ کی روک تھام کیساتھ ضرورت اوزان وپیمائش کی جانچ پڑتال کرنے کی بھی ہے جو ماضی میں ایک اہم ٹاسک سمجھ کر کی جاتی رہی ہے اس جانچ پڑتال میں ترازو اور باٹ بھی چیک کئے جاتے تھے جہاں تک مارکیٹ کے مستقل کنٹرول کے لئے مجسٹریسی نظام کی بحالی کا سوال ہے تو اس کیلئے وفاق میں ہونیوالی پیش رفت قابل اطمینان ہے تاہم اسکی رفتار حسب معمول سوالیہ نشان ہی ہے اب جبکہ سیاسی قیادت نے ایک بار پھر عوام کے پاس اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے جانا ہے تو اس سے پہلے عوامی سہولت کیلئے سیاسی قیادت کو چاہے وہ مرکز میں ہو یا صوبے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اگر انتخابات سے قبل یہ سسٹم ایک بار پھر آپریشنل ہو جاتا ہے تو لوگ اس سے ریلیف پائیں گے۔