بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / انتخابی آئینی اصلا حات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑ ھا یا جائے ٗچوہدری نثار

انتخابی آئینی اصلا حات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑ ھا یا جائے ٗچوہدری نثار


واہ کینٹ،ٹیکسلا۔سابق وزیر دا خلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ انتخابی آئینی اصلا حات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑ ھا یا جائے۔مریم نواز کا نام کبھی بھی یا کسی بھی سطح پر ڈان لیکس میں شامل نہیں رہا۔شخصی فیصلے بے معنی ہوتے ہیں۔اصل پالیسیاں ہی ہوتی ہیں۔مثبت تنقید سے جمہوریت مستحکم ہو تی ہے۔ڈان لیکس رپورٹ کو پبلک ہو نا چاہیے۔ان خیا لات کا اظہار انھوں نے کوہستان سیکرٹریٹ ٹیکسلا میں مقامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ممبر پنجاب اسمبلی حاجی ملک عمر فاروق بھی موجود تھے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا۔کہ انتخابی آئینی ترامیم کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سے جمہوریت اور پاکستان کے مفادات وابستہ ہیں۔ اس لیے اسے سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔اسے ایک قومی فریضہ سمجھا جائے۔انھوں نے کہا۔کہ مناسب وقت پر مناسب فیصلے ہوں گے۔تو مشکلات کم ہوں گی۔مسلم لیگ(ن) کو اس وقت مشکلات کا سامنا ہے۔میاں محمد نواز شریف اس وقت ملک میں موجود ہیں۔امید ہے۔کہ ان کی موجودگی میں ہی گوں مگوں کی صورتحال ختم ہو جائے گی۔میں نے ہمیشہ پارٹی کو مثبت مشورے دیے۔اور ہمیشہ پارٹی کو مشاورت کا کہا تا کہ ابہام دور ہو۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام پر بحث کرنا بھی فضول ہے ،چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں حکومت میں نہیں لیکن میری پارٹی کی حکومت ہے اور میں باہر بیٹھ کر تنقید نہیں کرسکتا، اپنی جماعت کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہوں گا ،جماعت کو ہمیشہ بہتر مشورے دیئے ہیں،لیکن اداروں سے ٹکراو والے بیان پر اب بھی قائم ہوں، محاذ آرائی کی سیاست بند اور عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل ہونا چاہئیے۔

حکومت کو اپوزیشن کے علاوہ پارٹی کے اندر سے بھی احتساب کا سامنا ہو تو زیادہ بہتر ہے، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا۔کہ مریم نواز کا ڈان لیکس سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔اور ڈان لیکس رپورٹ میں کسی بھی سطح پر انکا کا کبھی نام نہیں آیا۔ڈان لیکس رپورٹ کو پبلک ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں دونوں حلقو ں سے الیکشن لڑوں گا مقامی قیادت کی عوامی رابطہ مہم کے فقدان کے باعث میں خود میدان میں آگیا ہوں مجھے پتا ہے کہ مقامی رہنماؤں کے عوام سے رابطے منقود ہیں جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

اب ہر ہفتے میں خود ٹیکسلا کا دورہ کررہا ہوں،انھوں نے کہا۔کہ ماضی میں نیشنلٹی کو بیچا جاتا رہا۔میں نے اپنے دور وزارت میں تینتیس ہزار سے زائد پاسپورٹ منسوخ کیے۔کسی مہاجر کو دھکیل کر ان کے وطن واپس نہیں بھیجا جاسکتا، کوشش ہے کہ مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے، افغان شہری پاکستان میں مقیم ہیں اور کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تو کوئی ابہام نہیں مہاجرین کو پاکستان میں رہنے کا حق حاصل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اپنے دور اقتدار میں جو بھی کام کیا اسے میڈٖیا کے سامنے رکھ چکا ہوں تنقید کرنا یا نہ کرنا زرائع ابلاغ پر منحصر ہے انہوں نے کہا کہ مخالفین آٹھ سال اقتدار میں رہے لیکن عوامی مسائل مجھے خود حل کروانے پڑے اس حلقے سے ہارنے کے باوجود اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے دیئے،،انھوں نے کہا کہ اسی ماہ واہ جنرل ہسپتال کا افتتاح کیا جائے گا اور یہ اپنی طرز کا جدید ہسپتال ہو گا۔اور اس کا ایک حصہ غریبوں کے علاج کے لیے مختص کیا جائے گا۔

جہاں انکا مکمل علاج فری ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا۔کہ مستقبل قریب میں ٹیکسلا میں بائی پاس بنایا جائے گا۔صحافیوں کے پریس کلب کے دیرینہ مطالبے کو جب دہرایا گیاتو انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایات جا ری کیں کہ پریس کلب کیلئے جگہ کا فوری طور پر تعین کیا جائے اس موقع پر ایم پی حاجی عمر فاروق بھی موجود تھے ۔