بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پی پی پی اور مسلم لیگ کے فنڈنگ کی جانچ کی درخواستیں خارج

پی پی پی اور مسلم لیگ کے فنڈنگ کی جانچ کی درخواستیں خارج


اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کی جانب سے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات کی جانچ کے حوالے سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن قوانین کے تحت جانچ کی استدعا کی گئی ہے وہ ختم ہو چکے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب کو بھیجے گئے خطوط میں الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ درخواستیں پولیٹیکل پارٹیز (پی پی او) 2002 اور پولیٹیکل پارٹیز رولز (پی پی آر) 2002 کے تحت جمع کروائی گئی تھیں تاہم الیکشن ایکٹ 2017 کے نفاذ کے بعد یہ قوانین منسوخ ہو چکے ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن ان قوانین کے تحت کارروائی نہیں کر سکتا۔

فرخ حبیب کی جانب سے درخواست جمع کروانے والے ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو درخواست میں اٹھائے گئے معاملے پر کارروائی کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں جبکہ دونوں جماعتوں نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت ریکارڈ جمع کروایا تھا، لہٰذا قانون کے مطابق پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، پی ٹی آئی نے 2013 اور 2015 کے درمیان اپنی شکایت درج کروائی تھیں اور اس وقت پولیٹیکل پارٹیز آرڈر نافذ تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت دونوں جماعتوں کے خلاف کارروائیاں کی جاسکتی ہیں، تاہم تادیبی کارروائی سابقہ قانون کے تحت کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پی ٹی آئی کے فنڈنگ ریکارڈ کے آڈٹ پر بھی سوالات اٹھیں گے۔

ان کے مطابق اگر پی ٹی آئی کی استدعا پر اسی قانون کے تحت دیگر جماعتوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی تو پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے، ورنہ اس طرح مخصوص سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کا تاثر جائے گا۔

پی ٹی آئی کی مسلم لیگ (ن) کے خلاف شکایت کے مطابق پارٹی نے آڈٹ کے لیے نان کوالٹی کنٹرول اور ریویو ریٹڈ اداروں پر انحصار کیا جبکہ آڈٹ کے لیے مناسب فارمیٹ کو استعمال نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی کی پی پی پی کے خلاف دائر درخواست کے مطابق 2009 سے لے کر 2012 تک کی پارٹی اکاؤنٹ کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ یا تو نان فائلنگ ہو سکتی ہے یا پھر اس کی وجہ پارٹی کو ہی پتہ ہوگی۔