بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے وا لے پاکستان کے خیر خواہ نہیں‘ سیف اﷲ

کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے وا لے پاکستان کے خیر خواہ نہیں‘ سیف اﷲ


اسلام آباد۔ سابق صوبائی وزیر آبپاشی ‘ مواصلات‘ تعمیرات و صحت عامہ اور رکن قومی اسمبلی ہمایوں سیف اﷲ خان نے کہا ہے کہ بحیثیت قوم اگر ہم نے اپنے ملک میں بڑھتے ہوئے آبی بحران کی طرف فوری توجہ نہ دی تو اس کے نتیجے میں ہم مشکلات اور مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ وہ ماہرین کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ مستقبل میں آبی ذرائع میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لئے مسئلے پر مختلف ریاستوں کے درمیان مسلح تصادم کی نوبت آسکتی ہے۔

ایک خصوصی ملاقات میں پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے لئے کالا باغ ڈیم کی اہمیت و ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا میرے نزدیک جو کوئی اس پراجیکٹ کی مخالفت کرتا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا اس کی تعمیر کی صورت میں کسی کو نقصان نہیں ہوگا البتہ اس کے ثمرات سب کو حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے راستے میں صرف یہی رکاوٹ ہے کہ وفاق کے جملہ یونٹ اس باب میں باہمی بداعتمادی اور غلط فہمی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ کوئی وقت ضائع کئے بغیر صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے اور بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کے لئے پوری تگ و دو کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ اس کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے اس حوالے سے تمام منصوبے اور تجاویز جو کہ ان چاروں صوبوں میں پائے جانے والے خدشات اور خوف کو کم ی ا ختم کرسکتی ہیں انہیں کالا باغ ڈیم پراجیکٹ کا حصہ بنایا جائے اور ان تمام منصوبوں پر بیک وقت تعمیر کا آغاز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ جتنا جلدی ہوگا اتنا ہی ہمارے اور ہماری آئندہ نسلوں کے بہتر مفاد میں ہوگا اس سلسلے میں مزید سیاسی شعبدہ بازی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کالا باغ ڈیم فنی‘ جغرافیائی ‘ اقتصادی و سماجی اور قومی اعتبار سے نہایت قابل عمل‘ مفید اور اجتماعی خوشحالی کا ضامن منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین جو جواز پیش کررہے ہیں اس ضمن میں اس بات کو ذہن نشین رکھا جائے کہ پشاور وادی اور خاص طور پر نوشہرہ کے علاقے میں سیلاب کے اسباب اور وجہ کا کالا باغ ڈیم ہونے یا نہ ہونے ے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا اس مسئلے کو اس کے حقیقی تناظر میں حل کیا جانا چاہئے۔ زمینی حقائق اور اعداد و شمار اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم سے وادی پشاور میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 3600میگا واٹ پن بجلی کی فراہمی کے علاوہ یہ ڈیم چاروں صوبوں کو آبپاشی اور دیگر استعمال کے لئے اضافی پانی فراہم کرے گا یہ اپنی تعمیر کی لاگت دس سے پندرہ سال میں پوری کرے گا اس کے علاوہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور یوں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور ہم دوسروں کے دست نگر اور محتاج بھی نہیں رہیں گے۔

مزید برآں ملک کے آبی ذخائر کی گنجائش میں بھی اضافہ ہوگا اور اس طرح لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی پر کاشتکاری کے امکانات روشن اور یقینی ہوں گے۔