بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اجتماعی ذمہ داری

اجتماعی ذمہ داری


قومی اسمبلی میں بلوچ علیحدگی پسند اور سینکڑوں بے گناہوں کے قاتل اللہ نذز بلوچ کی اہلیہ اور بچوں کی گمشدگی یا گرفتاری کے معاملہ پر واک آؤٹ کیاگیا اور اس میں سب سے زیادہ حیران کن امر محمودخان اچکزئی کاشامل ہونا تھا واک آؤٹ کرنے والوں کاموقف تھاکہ کسی کا رشتہ دار ہونا کوئی غلطی نہیں حکومت مجرم کوتلاش کرے رشتہ داروں اور گھروالوں کیساتھ زیادتی نہ کرے جہاں تک محمودخان اچکزئی کاتعلق ہے تو انکاواک آؤٹ کرنا اس لئے حیران کن تھاکہ ایک تو وہ بلوچستان حکومت کا حصہ بلکہ اچھا خاصا حصہ ہیں ان کے بھائی وہاں کے گورنر ہیں اور صوبائی حکومت نے تسلیم کیاکہ مذکورہ افرادکواسی نے غیرقانونی طورپر افغانستان جاتے ہوئے گرفتار کیاگویاگرفتاری اچکزئی حکومت نے ہی کی اور اچکزئی ہی بے خبر رہے دوسرے یہ کہ محمودخان اچکزئی جس امرکو بلوچستان کے عوام کیلئے ناقابل قبول اور ناانصافی قراردیتے ہیں اسی کو فاٹا کے لئے جائز قراردینے پر تلے ہوئے ہیں اور آج جبکہ فاٹا کے عوام جس ظالمانہ قانون سے گلو خلاصی کیلئے میدان میں ہیں تو اچکزئی کھل کراسی سامراجی قانون کو قبائل کے سروں پر مسلط رکھنے کیلئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں قانون فطر ت ہے کہ جو غلطی کرے سزا صرف اسی کو ملے ‘آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی قاتل ‘رہزن ‘ڈاکو‘چور ‘لٹیرے کوسزا دیتے وقت اس کے اہل خاندان کوبھی سزاوار قراردیاگیاہو دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا اور اسلام تو اس تصورکی شدت سے مخالفت کرتاہے مگر کیا کیجئے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں آج بھی یہ غیر انسانی اورغیر اسلامی قابل مذمت روایت جار ی ہے۔

جو اس خطے کو اس وقت کے گورے آقاؤں نے دی ہوئی ہے فاٹا میں ایف سی آر کے تحت اجتماعی ذمہ داری کاجو غیر انسانی اور غیر اسلامی قانون نافذ ہے اس نے اکیسویں صدی میں بھی دورجہالت کی یاد تازہ کررکھی ہے غلطی چاہے کو ئی ایک فردکرے سزا اس پورے علاقہ یا پورے قبیلے کوملتی ہے جس میں گھروں کی مسماری جیسا ظالمانہ اقدام بھی شامل ہے انگریز وں نے غیرت منداور حریت پسند قبائل کو کچلنے اور دبائے رکھنے کی غرض سے یہ قانون پورے صوبہ اور قبائلی علاقوں میں نافذ کررکھاتھاکیونکہ انگریزوں کوسب سے زیادہ مزاحمت کاسامنا انہی علاقوں میں کرنا پڑرہاتھا اس کے لئے ضروری تھاکہ چنگیزی قوانین نافذکرکے ان لوگوں کو بنیاد ی انسانی حقوق سے محروم رکھا جائے تاہم صوبہ سرحد کے لوگ تو آئینی اصلاحات کے بعد اس قانون سے آزادہوئے مگر فاٹامیں بدستور اس کاراج رہا اور کس قدر افسو س کامقام ہے کہ آزادی کے بعدبھی انکو مکمل پاکستانی شہر ی تسلیم نہ کیاگیا ۔

جسکاذمہ یقیناًوہ مٹھی بھرمراعات یافتہ طبقہ ہے جو بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہے اور یہی طبقہ آج پورا زور لگارہاہے کہ فاٹا کا صوبہ میں کسی صورت انضمام نہ ہوتاکہ انکی موج مستیاں چلتی رہیں چاہے اسکی کتنی ہی بھاری قیمت فاٹاکے لوگوں کو اداکیوں نہ کرنی پڑے کسی زمانے میں محمود خان اچکزئی کی جماعت کانعرہ ہوا کرتاتھاکہ’’ لہ چترالہ تربولانہ پختونخوا دہ پختونخوا ‘‘اور اسی طرح یہ نعرہ بھی انکے ہاں بہت مقبول تھا’’لہ چترالہ تربولانہ پختون یو کہ محمود خانہ ‘‘مگر آج جبکہ فاٹا اور خیبر پختونخواکے پختون ایک ہونے جارہے ہیں تو محمودخان اچکزئی ولن بن کر میدان میں نکل آئے ہیں جس فاٹا کے معاملہ پر وہ آ ج بڑ ا بننے کی کوشش کررہے ہیں اسی فاٹامیں ان کی جماعت نے 2013کے انتخابا ت میں محض 282ووٹ حاصل کئے ہیں بلوچستان کے لئے تو وہ اجتماعی ذمہ داری کے قانون کو بدترین زیادتی قراردیکر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کررہے ہیں مگر فاٹا میں اجتماعی ذمہ داری کے ظالمانہ قانون کو برقرار رکھنے کے لئے بضد ہیں ان کو اپنے اس متضاد نکتہ نظر پر خود غور کرنا چاہئے فاٹاکے لوگوں کیساتھ بہت زیادتی اور ناانصافی ہوچکی ہے جو کسی بھی صورت مزید برداشت نہیں کی جاسکتی اس تاریخی موقع پرکہ جب تمام سیاسی قیادت اوراسٹیبلشمنٹ فاٹامیں اصلاحات اور ا سکے انضمام پر متفق ہوچکی ہے ضرورت اس امر کی ہے انضمام کے فیصلہ پر فی الفور عملدآمد کرایاجائے کیونکہ اگر اس بار یہ معاملہ تاخیر کاشکار ہوگیاتو پھر بدنصیب قبائلیوں کو ظالمانہ نظام کے شکنجہ سے نکلنے اور قومی دھارے کاحصہ بننے کے لئے مزید کئی عشرے انتظار کرنا پڑے گا ۔