بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / تعلیمی بورڈ ز کا اعلامیہ اور سوالات

تعلیمی بورڈ ز کا اعلامیہ اور سوالات


خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے اپنے اپنے دائرہ اختیار سے منسلک تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولز اور کالجز کو ایک نوٹیفیکیشن بھیجا گیا ہے ، اس اعلامیے میں تمام ہائی و ہائیر سکینڈری سکولز اور کالجز کے پرنسپلز کو مطلع کیا گیا ہے کہ نویں ‘دسویں‘ فرسٹ ائیر اور سکینڈ ائیر کے آنیوالے امتحانات جو 2018ء میں ہونے ہیں کے امتحانی پرچہ جات نئے انداز سے ترتیب دیئے جائینگے ‘نیا انداز یہ ہوگا کہ امتحانی پرچہ جات کیلئے سوالات نصابی کتب کے ابواب کے آخر میں دی گئی مشقوں میں درج سوالات سے منتخب کرنے کے بجائے قومی نصاب تعلیم 2006کے نکتے ’’ ایس ایل او‘‘ (سٹوڈنٹس لرننگ آؤٹ کم) کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کئے جائیں گے ‘اسکابظاہر مطلب یہی نکلتا ہے کہ سوالات کا انتخاب متعلقہ اسباق میں سے کہیں سے بھی کسی بھی انداز میں کیا جا سکے گاتاکہ امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی حقیقی علمی صلاحیت کو پرکھا جا سکے‘مذکورہ اعلامیے کے مطابق یہ قدم صوبائی حکومت کی اس پالیسی کے تحت اٹھایا جارہا ہے جس کا مقصد سکولوں اورکالجوں میں رائج موجودہ امتحانی طریقہ کار میں اصلاحات لا نا ہے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کے نتیجے میں ’رٹا‘کلچر کے خاتمے اور ’نالج بیسڈ ایجوکیشن‘ کے فروغ کی جانب بڑھا جا سکے گا۔

یہ امر شک و شبے سے بالاتر ہے کہ موجودہ نظام امتحانات میں اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ فی الوقت امتحانات کی تیاری کیلئے طلبہ و طالبات کی اکثریت کی توجہ علمی استعداد میں اضافے سے زیادہ حافظے کی طاقت کو کام میں لاتے ہوئے سوالات کی لگی بندھی فہرست میں سے جوابات زبانی یاد کرنے پر ہوتی ہے اور اس مقصد کیلئے امتحانی گائیڈز اور بازاروں میں فروخت ہونے والے تیار نوٹس پربھی تکیہ کیا جاتا ہے‘ طلبہ و طالبات کا ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو امتحانات میں پاس ہو نے کیلئے پچھلے پانچ سال کے بورڈ امتحانات کے پرچوں میں آئے سوالات کوزبانی یاد کر لینا (رٹ لینا)ہی کافی سمجھتا ہے‘ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر امتحانی پرچوں میں لگی بندھی فہرست سے سوالات آنے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور طلبہ و طالبات کو یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ سوالات ان کے نصاب تعلیم کے مطابق کہیں سے بھی کسی بھی انداز میں آسکتے ہیں تو یقیناًانکی توجہ اپنی کتابوں کے باریک بینی سے مطالعے پر ہوگی کیونکہ ایسا کئے بغیر وہ نئی طرز کے امتحانی پرچوں میں آنیوالے سوالات کے جوابات بہتر اور جامع انداز میں دینے کے قابل نہیں ہو سکیں گے علاوہ ازیں نئی طرز کے امتحانی پرچوں کیلئے نئے انداز سے تیاری طلبہ و طالبات کیلئے ایٹا اور این ٹی ایس وغیرہ جیسے ٹیسٹوں میں بھی مدد گار ثابت ہوگی‘لیکن اس حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا زمینی حقائق اس فیصلے پر عمل درآمد کی اجازت دے رہے ہیں ؟تعلیمی بورڈز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو بنظر غورپڑھا جائے تو مطلب یہی نکلتا ہے کہ امتحانی پرچوں کی نئے انداز سے ترتیب سے متعلق فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے مقابلے کیلئے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو ’او لیول ‘ اور ’اے لیول‘جیسا یا اس کے قریب قریب کاتدریسی معیار اختیار کرنا ہوگا‘کیا صوبے کے سرکاری اور نجی سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اچانک ہی مطلوبہ معیار کا انداز تدریس اختیار کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟

کیا انکی مدرسانہ صلاحیتوں کو مطلوبہ معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اضافی تربیت کی ضرورت نہیں ہوگی ؟ ادھر ایک تو صوبے میں معیار تعلیم وتدریس کی مجموعی ناقص صورت حال ‘ پھرمختلف اضلاع میں اربن اور رورل ایریازکے سکولوں کے تعلیمی معیار کاباہمی فرق اور اس پر اساتذہ کی بہت بڑی تعدادکا قومی نصاب تعلیم 2006کے مختلف نکات بشمول ایس او ایل سے لاعلم ہونا‘ کیا یہ تمام عوامل کسی نہ کسی طرح اس نئے فیصلے پر منفی طور پراثرانداز نہیں ہو رہے؟ ۔ ان عوامل کے ہوتے ہوئے آنیوالے بورڈ امتحانات میں جو محض پانچ ماہ کی دوری پر ہیں یہ نیا تجربہ اساتذہ اور طلبہ و طالبات کیساتھ انصاف ہوگا؟کیا صورتحال اس امر کا تقاضا نہیں کر رہی کہ امتحانی پر چوں کی ’ایس ایل او‘کے تحت نئے انداز سے تشکیل کا سلسلہ شروع کرنے سے قبل اس کیلئے درکار لوازمات کی تکمیل یقینی بنائی جائے اور بجائے یہ سلسلہ 2018ء سے شروع کرنے کے صوبے کے سکولوں اور کالجوں کو اتنا وقت دیا جائے کی وہ خود کو اس تجربے کیلئے تیار کر سکیں ؟وہ تمام سوالات جو اس تحریر میں اٹھائے گئے ہیں اہمیت کے حامل ہیں اور توقع ہے کہ متعلقہ حکام انھیں زیر غور لائیں گے۔