بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خطرے کی گھنٹی

خطرے کی گھنٹی


الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے التواء کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کردیا ہے‘ کمیشن کے ترجمان ہارون شنواری کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم ضروری ہے‘ ملک میں ووٹر لسٹوں کی تیاری اور حلقہ بندیوں کا کام مجموعی طورپر رُکا ہوا ہے اور دس نومبر سے ایک دن کی تاخیر بھی بروقت انتخابات کے انعقاد کو متاثر کرسکتی ہے‘ اس ضمن میں الیکشن کمیشن‘ شماریات ڈویژن اور وزارت قانون کو دستور میں ترمیم کے حوالے سے بار بار اپنا موقف دیتا رہا ہے‘ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے ساری تیاریاں اسی سے جڑی ہوئی ہیں‘ دوسری جانب سیاسی قیادت میں حسب معمول تندوتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے‘ ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم بروقت نہ ہوئی تو انتخابات کی منزل دور ہوسکتی ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ جلسے کرنے والا جلدی میں ہے‘ بہتر ہے کہ جلسے اور گالیاں بعد میں کرے‘ پہلے آئینی ترمیم ہوجائے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری کا ایجنڈا ہی معلوم نہیں‘ سینیٹر نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ مردم شماری کو حکومت نے خود لیٹ کیا ہے اور معاملہ اب مشترکہ مفادات کونسل ہی میں طے ہوگا‘۔

اس کے ساتھ سیاسی جلسوں اور دیگر پروگراموں میں بھی ایک دوسرے کیخلاف سخت الفاظ کا استعمال جاری ہے‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ نوازشریف مائنس ون ہوچکے ہیں‘ نوازشریف کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کسی کو خوش کرنے کیلئے انہیں گالیاں دے رہے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نوازشریف یہ بھی بتائیں کہ کس کو خوش کیاجارہا ہے‘ کسی بھی جمہوری ملک میں سیاسی قیادت کی ایک دوسرے پر تنقید معمول کا حصہ ہوتی ہے‘ اسے جمہوریت کا حسن بھی قرار دیاجاتا ہے‘ اظہار رائے کی آزادی ہی جمہوریت کی پہچان ہے تاہم اس کیساتھ سسٹم کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کیلئے اہم معاملات کو بروقت سرانجام دینا بھی ضروری ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ سیاسی کشمکش میں عوام کی مشکلات پر بھی بھرپور توجہ دی جائے‘ دیکھنا یہ بھی ہے کہ سرکاری ادارے اپنے فرائض معمول کے مطابق بروقت انجام دیتے رہیں‘ سیاسی قیادت کو تمام سرگرمیوں کیساتھ اپنے ذمے اہم امور کااحساس و ادراک رکھناہوگا‘ خصوصاً سینئر لیڈر شپ پر اس ضمن میں زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

اعلانات اور عمل درآمد میں فاصلے؟

خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے ذمے واجبات کیخلاف وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنے کی وارننگ دے رہی ہے‘ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبے کے واجبات کا حجم 36ارب روپے ہے ‘ جس میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں بھی اٹھایاجاچکاہے جبکہ وزیراعظم سے بھی اس پر بات ہوچکی ہے‘ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ وطن عزیز کی سیاسی قیادت کے درمیان طے پانے والے متعدد امور سرکاری دفاتر کی فائلوں میں پھنس کر عملی صورت اختیار نہیں کرپاتے‘ بات صرف خیبرپختونخوا کے واجبات تک محدود نہیں‘ مرکز اور صوبے میں متعدد اعلانات ایسے ہیں جن پر عملدرآمد دفاتر کی فائلوں میں ایک سے دوسرے کمرے میں گردش کررہا ہے‘ وقت آگیا ہے کہ اس روایت کو سختی سے ختم کیاجائے اور طے شدہ امور کو بروقت نمٹانے میں ناکام اداروں سے پوچھ گچھ کی جائے تاکہ کسی بھی مرحلے پر احتجاج کی نوبت نہ آئے اور لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہو‘ اسی سے استحکام بھی آتا ہے۔