بریکنگ نیوز
Home / کالم / چند چھبتے سوال

چند چھبتے سوال


آرمی چیف نے بجا طور پر وزیراعظم سے پوچھا ہے کہ سال2017ء ختم ہونے کو ہے لیکن اب تک دہشت گردی کے ضمن میں ایک کیس بھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیلئے نہیں بھیجا گیا؟ہماری دانست میں تو اسکی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اولاً تو یہ کہ محکمہ داخلہ میں متعلقہ عملے کی غفلت اور سست روی کے باعث ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو‘یااس عملے کو دہشت گردوں نے ڈرایا دھمکایا ہو کہ وہ ایسا کرنے سے باز رہے یہ بھی ممکن ہے کہ کسی سیاسی مصلحت سے یہ دیری ہوئی ہو یامتعلقہ استغاثے سے منسلک اہلکاروں کی مٹھی گرم کر دی گئی ہو کہ وہ ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہ بھجوائیں ان چند وجوہ کے علاوہ ہماری دانست میں تو اور کوئی وجہ ہو نہیں سکتی آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ 2015,2014 اور2016 کے دوران تواتر سے دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکا یا جاتا رہا جس سے خاطر خواہ حد تک دہشت گردی کی کاروائیوں میں کمی دیکھنے میں آئی سزااور جزا کے بغیر کسی بھی ملک سے جرائم کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا شنید یہ ہے کہ جو نہی آرمی چیف کی محولا بالا چھٹی وزیراعظم کی میز تک پہنچی تو وزارت داخلہ حرکت میں آ گئی اور اب اپنا منہ دھونے کیلئے وہ چند ایک مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوانے کا سوچ رہی ہے کیا گڈ گورننس اسی کا نام ہے ؟۔

حکومت ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے اور اس سوال کا جواب دے کہ دہشت گردی کیخلاف مہم میں اگر اس قسم کی سرد مہری کا مظاہرہ کیا جاتارہا تو خاکم بدہن اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہو گا؟ دہشت گردی کی مختلف اشکال ہیں ہم تو سردست صرف ان دہشت گردوں کیخلاف کاروائی کر رہے ہیں کہ جو خودکش حملے کرنے سے پہلے رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں یا ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہوتے ہیں ہم نے تو ابھی تک ان دہشت گردوں کا بال تک بیکا نہیں کیا کہ جو اشیائے خوردنی کی ذخیرہ اندوزی کرکے مارکیٹ میں انکی مصنوعی قلت پیداکر دیتے ہیں یا بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ہوتے ہیں یا کھانے پینے کی چیزو ں اور ادویات میں ملاوٹ کرتے ہیں۔

ان سب کا جرم بھی اتنا ہی سنگین ہے کہ جتنا خود کش بمبار کا ہوتا ہے ان سب پر بھی ہاتھ ڈالنے کی سخت اور فوری ضرورت ہے اس ضمن میں سب سے پہلے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنا ضروری ہے کیونکہ اس ملک کا عام آدمی صرف خودکش بمبار کے حملے سے ہی نہیں مررہا وہ ملاوٹ شدہ اشیائے خوردنی کھا کر سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر رہا ہے وہ اشیائے خوردنی میں گرانی کے بوجھ تلے آ کر معاشی طور پر بھی صفحہ ہستی سے مٹ رہا ہے بیماری کی حالت میں ملاوٹ شدہ ادویات کے استعمال سے لوگ مر رہے ہیں اس قسم کے جرائم میں ملوث تمام دہشت گردوں کے خلا ف بھی گھیرا تنگ کرنا ہو گا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا قانون سازی تو ہمارے موجودہ سیاستدان کبھی بھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کے اپنے گروپوں میں اس قسم کے جرائم پیشہ عناصر شامل ہیں کہ جن کا تذکرہ ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے اس قسم کے لوگ تو کئی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز ہیں جمہوریتوں کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی لوگ اپنے ووٹ بینک کو کسی طرح بھی ناراض نہیں کرتے اور اس ملک میں ابھی تک سیاسی اقدار اس مقام اور معیار تک نہیں پہنچ سکیں کہ سیاستدان گھوڑے اور گدھے میں تمیزکرنا شروع کر دیں ۔