بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / آحر سیاست ہی کیوں

آحر سیاست ہی کیوں


وہ پشاور کے ورسک روڈ پر واقع ایک گھر میں پانچ افراد کی نجی محفل تھی ان میں سے ایک صاحب باقی کے چار لوگوں کیلئے اجنبی تھے اس قسم کی صورتحال میں یہ میزبان کی ذمہ داری بلکہ اخلاقی فرض ہوتا ہے کہ وہ اجنبی سے تعارف حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اسے یہ احساس نہ ہونے دے کہ وہ ناواقف لوگوں کی محفل میں چلا آیا ہے مجھے اعتراف ہے کہ وہ اجنبی میرا مہمان تھااور میں نے اسکی وہاں موجودگی کے دوران اسے بہت کم توجہ دی اس عدم توجہی کی ایک وجہ تو وہ دلچسپ گفتگو تھی جو اس نئے مہمان کے آنے سے پہلے وہاں ہو رہی تھی اور دوسری وجہ میرے وہ عزیزدوست تھے جن سے ملنے کا مجھے ہمیشہ انتظار رہتا ہے اورجن سے گفتگو کے شروع ہوتے ہی ارد گرد کا ماحول کم از کم میرے لئے غیر متعلق ہو جاتا ہے اس نئے مہمان نے مجھے احساس دلایا کہ کسی کو نظر انداز کرنا آداب محفل کے خلاف ہے وہ نو وارد مجھے اور میرے دوست دونوں کو جانتا تھا آٹھ دس منٹ کے بعد بوقت رخصت اس نے مجھے کہا کہ میں آپکے کالم پڑھتا ہوں آپ ہمیشہ سیاست ہی کے بارے میں کیوں لکھتے ہیں میں اس چبھتے ہوئے سوال کیلئے با لکل تیار نہ تھا جلدی میں جو جواب بن پڑا وہ خاصا غیر معقول تھا میں نے ان سے کہا کہ آپکو اگر سیاست سے دلچسپی نہیں توآپ دوسرے کالم نگاروں کے غیر سیاسی کالم پڑھ لیا کریں انہوں نے میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی جواب دیا کہ میں آپ سے اس بات کی توقع رکھتا ہوں انکامطلب یہ تھا کہ مجھے غیر سیاسی کالم لکھنے چاہئیں اس محفل کی برخواستگی کے بعد دوستوں کا آنا جانا لگا رہا مگر میں اس سوال کے حصار سے نہ نکل سکا اب رات کے وقت اس کمرے کی پر سکون تنہائی میں کچھ سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں غیر سیاسی کالم لکھ تو سکتا ہوں مگر میں انہیں لکھنا نہیں چاہتا۔

آج کی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اتنا گھمبیر ‘ خطرناک اور تشویشناک ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جب تک ہم اجتماعی طور پرارد گرد کے حالات کی تسلی بخش تفہیم نہیں کر لیتے اسوقت تک ہم بھٹکتے رہیں گے اور اس تیزی سے بدلتی ہوئی جدید دنیا میں اپنی منزل کا تعین نہ کر سکیں گے میں جانتا ہوں کہ ایک متوازن معاشرے میں ہر وقت سیاست پر ہی بات نہیں ہوتی‘کھیل ‘ تعلیم‘ موسیقی‘ماحول ‘ادب‘ زراعت ‘ خوراک‘ سیرو تفریح اور فنون لطیفہ کو آخر کب تک طاق نسیاں پر رکھا جا سکتا ہے ان تمام شعبہ ہائے زندگی کو چھوڑ کر اگر صرف سیاست پر ہی بات ہوتی رہے گی تو دس بیس برس بعد جو معاشرہ متشکل ہو گا وہ کتنا توانا ‘ بھر پور اور جاندار ہو گا جب پورے باغ کی آبیاری اور نگہداشت نہ ہو گی تو ہر طرف پھول پتے اور سرسبز ٹہنیوں والے درخت کیسے نظر آئیں گے معاشرتی سطح پر اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر شعبے کے ماہرین اپنے علم و فن کا ابلاغ کریں اپنے پیشے کے بارے میں نت نئی معلومات لوگوں تک پہنچائیں مگر انکا کام کسی دوسرے کو نہیں کرنا چاہئے جس طرح ایک موسیقارسے کھیتی باڑی کے بارے میں خیال آرائی کی توقع نہیں کی جاتی اسی طرح عالمی سیاست پر لکھنے والے کالم نگار سے بھی ماحولیات‘ اقتصادیات اور نفسیات پر ماہرانہ رائے دینے کا تقاضانہیں کرنا چاہئے ہر شعبے کے اپنے اپنے ایکسپرٹ ہیں اور ہر شخص اپنی فیلڈ کے بارے میں اپنے مطالعے اور تحقیق کی بنیاد پر ایک جچی تلی رائے رکھتا ہے ایک کالم نگار اگر ہر میدان میں گھوڑے دوڑانے شروع کر دیگا تو گھر کا رہیگا نہ گھاٹ کا ہر میدان میں اسکی گھڑ سواری اسے ایسا اجنبی مہمان بنا دیگی جسکا تعارف میز بان کے بس کی بات نہیں ہوتا یہ کام اس نے خود ہی کرنا ہوتا ہے۔

میں نے اپنے مہمان سے انکے بارے میں استفسار کیاتھامگر انہوں نے ایک نامکمل جواب دیکر مجھے دیرینہ دوستوں کے کمفرٹ زون میں واپس دھکیل دیا پھر بوقت رخصت انھوں نے نہایت شائستگی کیساتھ اپنی برہمی کا اظہار کر دیامجھے بعد میں پتہ چلا کہ انکی اہلیہ محترمہ میرے گھر والوں سے ملنے کیلئے آئی ہوئی تھیں۔گذارش یہ ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں اقتصادیات ‘ ماحولیات ‘ سماجیات اور نفسیات کے ماہرین بھی سیاسی معاملات پر لکھ رہے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اپنے گردو پیش سے آگاہی رکھنے والا ہر شخص خوفزدہ ہے یہ خوف اسوقت امریکہ میں اپنے عروج پر ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایک دن شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ ان کو ایٹمی حملے کی دھمکی دیتا ہے‘ دوسرے دن وہ ایران کیساتھ ایٹمی معاہدے کو منسوخ کرنے کی بات کرتا ہے اور تیسرے دن وہ یورپ کیساتھ تجارتی معاہدوں پر برہمی کا اظہار کرتا ہے‘دنیا کو تباہی سے بچانے والے ماحولیات کے عالمی معاہدے Paris Accord کو وہ پہلے ہی منسوخ کر چکا ہے آس پاس کے چھوٹے ممالک کو وہ ہر روز للکارتا رہتا ہے اسی ہنگامہ آرائی میں امریکی کانگرس کا متعین کیا ہوا خصوصی تفتیش کار تیزی کیساتھ اسکے دوستوں کے خلاف روس کیساتھ مل کر گذشتہ سال کی انتخابی مہم کے دوران ہیلری کلنٹن کیخلاف ساز باز کے ثبوت سامنے لا رہا ہے میڈیانے ڈونلڈ ٹرمپ کو اسطرح نشانے کی زد پر لیا ہوا ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ایک کالم نگار اسے Child King کہتاہے تو دوسرا لکھتا ہے کہHis presidency is a crime یعنی اسکی صدارت ایک جرم ہے ان حالات میں سماج سدھار کی فکر کیسی کی جا سکتی ہے امریکی لبرل میڈیا اس بات پر متفق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی وقت دنیا کو ایٹمی جنگ میں جھونک سکتا ہے ایسے میں فکر مند لوگ سیاست کو درست کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا کو ایک ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔

ادھر پاکستان میں گذشتہ چار سال سے مسلسل نون لیگ اوراسٹیبلشمنٹ میں محاز آرائی ہو رہی ہے 2015 کے ہنگامہ خیز دھرنوں کے فوراً بعد ڈان لیکس کا سکینڈل ایک آسیب کی طرح چھا گیا اس سے جان چھوٹی تو پچھلے سال کے وسط میں پاناما لیکس کا پنڈورا باکس کھول دیا گیا پور ے ڈیڑھ برس تک ایک منتخب وزیر اعظم کے دامن کو بر سر بازار تار تار کیا جاتا رہا وہ اگر کرپٹ تھا تو اسے لوگوں نے تیسری مرتبہ منتخب کیوں کیا وہ اگر خائن تھا تو اسکی اہلیہ محترمہ اسکے حلقہ این اے 120 کی سیٹ واضح مارجن سے کیوں جیت گئی صاف نظر آ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پوری طاقت استعمال کر کے ایک وزیر اعظم کو مجرم بنا دیا اس وقت پورا ملک واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے اس ہیجان خیز سیاست کے دور میں کیا کھیل‘ فنون لطیفہ‘ تعلیم اور زراعت کی بات ہو سکتی ہے۔

امریکی دانشور David Brooks نے اپنے ملک کی سیاست کے بارے میں لکھا ہےPolitics these days makes categorical demands on people یعنی سیاست آجکل لوگوں سے خصوصی توجہ کا تقاضا کرتی ہے کیا یہی بات پاکستانی سیاست کے بارے میں نہیں کی جا سکتی آئے روز کے نت نئے اور بے سرو پا ہنگاموں کے ہوتے ہوئے ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کیسے کی جا سکتی ہے ریاست پاکستان اگر ملک کے اندر اور باہر چاروں طرف چو مکھی جنگ لڑ رہی ہے تو اس صورتحال کی تفہیم ضروری ہے یا موسیقی اور کلچر پر بھاشن دینا زیادہ اہم ہے میں جس فن کے اسرارو رموز سے ہی واقف نہیں اس پر لیکچر جھاڑکر اپنی کھلی کیوں اڑاؤں ممتا ز کالم نگار ایاز امیر نے گذشتہ ایک سال میں پورے بانوے کالم نواز شریف کے خلاف لکھے ہیں میرے اجنبی مہمان کیلئے اگرایاز امیر کی مستقل مزاجی یا ہٹ دھرمی ناقابل یقین ہے تو غریب خانے پر دوبارہ تشریف لے آئیں میں انکے اخبار کی ویب سائٹ پر انکے بانوے کالموں کے عنوانات انہیں دکھا دوں گاہمارے عالمی شہرت یافتہ کالم نگار حامد میر نے اپنے طویل صحافتی کیرئیر میں کتنے کالم غیر سیاسی موضوعات پر لکھے ہیں میں نیویارک ٹائمز کے تین ایسے کالم نگاروں کو پڑھتا رہتا ہوں جنہوں نے گذشتہ ڈیڑھ برس میں ہر کالم ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لکھا ہے جب تک وہ مجھے نت نئے دلائل اور معلومات دیتے رہیں گے میں انہیں پڑھتا رہوں گا جب اکتا گیا تو اخبار بدل دوں گا آخر میں اجنبی مہمان کا شکریہ کہ انہوں نے ایک اہم سوال پوچھ کر مجھے ان خطوط پر سوچنے کی راہ دکھائی۔