بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین میں کرپشن

چین میں کرپشن


چین میں کرپشن کیخلاف ایک زبردست قسم کی مہم شروع کر دی گئی ہے اس مہم کی باقاعدہ منظوری چین کی کمیونسٹ پارٹی کی نیشنل کانگریس نے اپنے ایک حالیہ اجلاس میں دی اس مہم میں بدعنوان قسم کے افراد کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے درجے میں بڑے بڑے لوگ شامل کئے گئے ہیں اور اس درجے کو شیر یعنی Lion کا نام دیا گیا ہے دوسرے درجے میں چھوٹے لوگ شامل ہیں اور اسے مکھی یعنی Fly کانام دیاگیا ہے جبکہ تیسرے درجے میں شامل لوگوں کو لومڑی یعنی Fox کہا گیا ہے اس تیسرے درجے میں جو لوگ شامل کئے گئے ہیں ان کے اثاثے بیرون ملک میں بھی ہیں چین میں کرپٹ عناصر جن میں سینئر افسران بھی شامل ہیں کو سخت ترین سزائیں دی جا رہی ہیں اور گزشتہ تین چار برس میں ایک کروڑ30 لاکھ کرپٹ افراد کو چین کی جیلوں میں بند کیا گیا ہے یہ خیر و شر کی کہانی بڑ ی طولانی ہے ابتدائے آفرینش سے لیکر اب تک بلکہ یوں کہئے ازل سے ابد تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا دنیا میں اچھے لوگ بھی آئیں گے اور برے بھی‘ بعض لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس عارضی دنیا میں وہ مسافر ہیں یہاں وہ جو کچھ کر رہے ہیں قیامت کے روز انہیں اسکاحساب کتاب دینا پڑے گا کئی لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو قیامت کو مانتے ہی نہیں وہ کہتے ہیں کہ بس جس دن انسان مر گیا وہی دن قیامت ہے بعد میں کچھ بھی نہ ہو گا۔

یہ اپنی اپنی سوچ ہے جو لوگ خوف خدا کی وجہ سے ہر قسم کی کرپشن سے اجتناب کرتے ہیں وہ سب سے بہترین قسم کی مخلوق میں شامل ہیں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو خدا سے تو نہیں ڈرتے لیکن ملکی قوانین سے ڈر کر کرپشن نہیں کرتے مبادا ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ جانا پڑ جائے ایک کیٹگری کرپٹ لوگوں کی ایسی بھی ہوتی ہے کہ جو نہ تقدیر سے ڈرتے ہیں اور نہ ملکی قوانین سے‘ ان کو یقین ہوتاہے کہ پیسوں کے زور پر وہ ملک کے مہنگے ترین وکلاء کی خدمات حاصل کرکے انکی قانونی موشگافیوں کے ذریعے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے سے اپنے آپکو بچا لیں گے اور تجربہ بتاتا ہے کہ وہ اکثر اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اگر اس قسم کے لوگوں کو نکیل نہ ڈالی جائے۔

جس ملک میں کرپشن کی جا رہی ہو اس کی معیشت کا ستیاناس ہو جاتا ہے جس طرح کہ وطن عزیز کا ہو چلا ہے یہ البتہ مقام شکر ہے کہ اس ملک میں وقتاً فوقتاً ایسے سیاسی رہنما پیدا ہوتے رہے جو عوام کا سیاسی شعور بیدار کرتے رہے اور انہیں یہ بتاتے رہے کہ انسان ایوان اقتدار میں پہنچ کر کس طرح کرپشن کرتا ہے کن کن طریقوں سے وہ ملکی قوانین کوبائی پاس کرکے اپنے نجی اثاثہ جا ت زیادہ کرتا رہتا ہے اور کن کن حیلوں حجتوں اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے اپنے آپکو قانون کی گرفت سے بچاتا ہے بات ہم نے چین میں کرپشن کیخلاف مہم سے شروع کی تھی یہ قدرتی امر ہے کہ جہاں پیسے کی ریل پیل ہو گی تو انسانوں کی آنکھیں بھی اسکی چمک سے خیرہ ہونگی چین کی خوش قسمتی ہے کہ اسکی قیادت ان رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہے کہ جس پر ماوزئے تنگ اور چو این لائی جیسے لیڈروں کے اثرات ابھی غالب ہیں ۔