بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / عام انتخابات : یقینی انعقاد اور خصوصی افراد

عام انتخابات : یقینی انعقاد اور خصوصی افراد


پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق جاری بحث نئی حلقہ بندیوں کے تناظر میں جاری ہے جس سے متعلق حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں حیرت انگیز طور پر الگ الگ مؤقف رکھتی ہیں‘ جس ملک میں حزب اختلاف اس قدر تقسیم ہو وہاں ایک جیسے مفادات رکھنے والی جماعتیں وسائل اور اقتدار پر قابض ہو کر شخصیات اور ذاتی مفادات کی اسیر ہوجاتی ہیں‘آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے سب سے زیادہ تواناآواز تحریک انصاف کی ہے جس نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں عام انتخابات کے انعقاد کو ملتوی کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریگی۔ تحریک انصاف نے قبل از وقت اور فوری عام انتخابات کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے تاہم اس کیخلاف سندھ اسمبلی سے قرارداد کی منظوری اور آئندہ چند روز میں پنجاب و بلوچستان سے بھی ایسی ہی متوقع قراردادیں آنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسلم لیگ(ن)اور پیپلزپارٹی کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں جو ایک نئی قسم کا این آر او‘ ہے اور اس میں آئندہ عام انتخابات ہی کو ملتوی کرنیکی کوشش کی جائے گی۔

عام انتخابات کا انعقاد اگر قبل از وقت نہیں کیا جاتا تو موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت کی تکمیل پر‘ نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے تو یقیناًممکن ہے اگر فی الوقت الیکشن کمیشن آف پاکستان ’کمپیوٹر‘ اُور ’انٹرنیٹ‘ پر منحصر ٹیکنالوجیز (جی پی ایس اور گوگل میپ) کا استعمال کرے اور خلائی سیارے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور زمینی جائزے کی بنیاد پر جی آئی ایس علوم پر نظر کرے تو نئی حلقہ بندیاں مہینوں نہیں بلکہ چند دنوں میں ممکن ہیں جس کیلئے ہماری جامعات میں تعلیمی شعبہ جات‘ اساتذہ اور طالب علم موجود ہیں اور ہمیں ’جی آئی ایس‘ کے ماہرین یا ٹیکنالوجی کو کہیں سے درآمد کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ عام انتخابات کے یقینی اِنعقاد کے حوالے سے سیاسی مؤقف اور الجھنیں اپنی جگہ لیکن سیاسی جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کو توجہ دینا ہوگی کہ وہ ہر پاکستانی اور رجسٹرڈ ووٹر کے لئے ممکن بنائے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکے۔ اس سلسلے میں خصوصی افراد خصوصی توجہ کے مستحق ہیں کہ انہیں ووٹ دینے کے عمل میں سہولت فراہم کی جائے توقع یہی ہے کہ دوہزار اٹھارہ میں عام انتخابات کا انعقاد ہوگا اور جس میں ووٹ دینے کے اہل معذور افراد کی بطور ووٹرز شمولیت ممکن بنانے کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے‘ قیام پاکستان سے لیکر اب تک حکومت پاکستان نے معذور افراد کی بحالی کو صرف خصوصی تعلیم‘ روزگار کے دو سے تین فیصد کوٹے اور واجبی مالی اعانت تک محدود رکھا گیا ہے اور یہ ملازمتی کوٹہ یا امداد بھی ہر معذور کو میسر نہیں!

معذور افراد پر خصوصی افراد کا ایک خوبصورت لیبل لگا دیا جاتا ہے لیکن انہیں عمومی تعلیم‘صحت‘ ٹرانسپورٹ‘ روزگار‘ تعمیرات اور ہر طرح کے سیاسی عمل میں شمولیت سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے جو سراسر امتیازی اور ناروا سلوک ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں منصوبہ بندی اور تعمیر و ترقی کی تمام تر پالیسیوں میں خصوصی افراد کی بہبود کو شامل حال رکھا جاتا ہے‘ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسمپرسی اور مفلوک الحالی کی بجائے آزادانہ طرز زندگی بسر کرتے ہیں اور ملکی ترقی میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے منشور میں معذور افراد کے شہری حقوق تسلیم کرتے ہوئے انکی فلاح و بہبود کیلئے جامع لائحہ عمل کا اعلان کریں انتخابی فہرستوں میں ووٹ کا اندراج کروانے اور ووٹ ڈالنے کے لئے ہر ووٹر کیلئے قومی شناختی کارڈ کی موجودگی لازم ہے۔ معذور افراد کے لئے نادرا خصوصی قومی شناختی کارڈ کا اِجراء کرتا ہے‘ خصوصی شناختی کارڈ کیلئے معذوری کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

معذوری کے سرٹیفیکیٹ کا اجراء ضلعی‘ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور صوبائی یا ضلعی محکمہ سوشل ویلفیئر کرتے ہیں‘ سرٹیفیکیٹ برائے معذوری کے حصول کا طریقہ کار سہل بنانے کی ضرورت ہے‘ اکثر دیکھا گیا ہے کہ غیرمعذور افرادمذکورہ معذوری سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیتے ہیں اور حقدار معذور افراد کی حق تلفی کرتے ہیں۔ خصوصی قومی شناختی کارڈ پر معذوری کی شناخت (لوگو) کیلئے وہیل چیئر کا نشان کندہ کیا جاتا ہے ویسے تو معذوری کی بہت ساری اقسام ہیں لیکن پاکستان میں عام طور پر چار اقسام کی معذوریوں کو تسلیم کیا جاتا ہے جن میں جسمانی معذوری‘ ذہنی معذوری‘ بصارت سے محرومی اور سماعت سے محرومی پر مشتمل ہیں‘ ہر معذور کیلئے الگ الگ نشانات ہونے چاہئیں تاکہ معذور شخص کی معذوری اسکا قومی شناختی کارڈ دیکھ کر ہی معلوم کرلی جائے اور پھر اس طرح سے ہمارے پاس ہر معذور افراد کے اعدادوشمار بھی اکٹھا ہو جائیں گے کہ پاکستان میں کس قسم کی معذوری رکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے ۔