بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / سپیڈبریکرز کیخلاف قانون سازی

سپیڈبریکرز کیخلاف قانون سازی


پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ صوبائی حکومت نے سپیڈ بریکرز کی روک تھام اور ان کے خاتمے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے‘ یہ محض ایک خبر تھی یا پھر حکومت اس سنجیدہ مسئلے کی روک تھام اور عام شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنیوالے سپیڈ بریکرز کا خاتمہ واقعی یقینی بنانا چاہتی ہے گو اس حوالے سے کچھ کہنا فی الحال اس لئے مشکل ہے کہ متذکرہ خبر جس کی باز گشت صوبائی اسمبلی میں سنی گئی تھی اور جسکے متعلق کسی معزز رکن نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی کے نتیجے میں قانون سازی کی یہ بیل تواب تک منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے البتہ امید کا دامن چونکہ کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہئے اس لئے پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق شاید کبھی تو حکومت اس اہم اور سنجیدہ مسئلے کی جانب توجہ دینے پر مجبور ہو ہی جائے گی ‘در اصل حکومت اگرغیر قانونی سپیڈ بریکرز کے خاتمے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اس نیک کام کاآغاز اس ضمن میں قانون سازی کا قدم اٹھانے سے ہی کرنا ہوگا۔سپیڈ بریکرز کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی خبر ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے کے بعدکے عرصے میں محکمہ قانون اور صوبائی حکومت کے کرتا دھرتاؤں نے اس اہم ترین عوامی مسئلے پر اب تک کیا پیش رفت کی ہے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے ہمارے اردگرد چھوٹی بڑی شاہراہوں اور دوردراز کے دیہات کے چھوٹے بڑے اور تنگ وتاریک کچے پکے راستوں پر بنائے جانے والے کچے پکے غیر قانونی سپیڈ بریکرز سے لیکر شہروں کے گلی کوچوں اور بسا اوقات بڑی اور مصروف شاہراہوں پر عوام اور خواص کی جانب سے ٹریفک کی روانی روکنے کیلئے بنائے جانیوالے سپیڈ بریکرز کے خاتمے اور ایسے کسی ایکشن کے ذریعے حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کے متعلقہ اداروں نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں گو کہ اس حوالے سے اب تک راوی چین ہی چین لکھتا ہے لیکن اس سلسلے میں ایک امید افزا خبر جس میں صوبے کے سب سے بڑے انتظامی افسر چیف سیکرٹری نے محکمہ مواصلات وتعمیرات کے اعلیٰ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں جا بجا پھیلے ہوئے غیر قانونی سپیڈ بریکرز کیخلاف فوری ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف انکے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں بلکہ مذکورہ ہدایت نامے میں متعلقہ اہلکاروں کو اس حوالے سے پیش رفت پرمبنی ہفتہ وار کارکردگی پر مبنی رپورٹ سے بھی چیف سیکرٹری اور انکی نگرانی میں قائم پرفارمنس مانیٹرنگ اینڈ ریفارمز یونٹ کوبھی آگاہ کرنیکی ہدایت کی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ مذکورہ ہدایت نامے میں چیف سیکرٹری نے محکمہ مواصلات کو 4نومبرتک پہلے مرحلے میں بڑے شہروں اور شاہراہوں میں قائم غیر قانونی سپیڈ بریکرز کو ختم کرکے اسکی ابتدائی رپورٹ چیف سیکرٹری کوپیش کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے اگلے دن ہم اپنے گھر سے اس احساس کے ساتھ نکلے کہ شاید آج راستے میں ان درجنوں چھوٹے بڑے سپیڈ بریکروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گاجن سے آتے جاتے روز ہمیں واسطہ پڑتا ہے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق گھر سے چند قدم آگے جا کر جلد ہی ہماری یہ خوش فہمی اس وقت ہرن ہوگئی جب ہم نے پرانے درجنوں سپیڈ بریکرز کو تو جوں کاتوں برتاالٹا ان میں ایک دو نئے بریکروں کا اضافہ بھی ہوچکاتھا ۔سوال یہ ہے کہ اگر بجلی اور گیس کی چوری قابل تعزیر جرم ہے ۔اگر اختیارات سے تجاوز اور حکومتی وسائل مثلاً سڑکوں،بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبوں سمیت دیگر سرکاری املاک کونقصان پہنچانا جرم ہے تو سڑکیں اور شاہراہیں جو قومی ملکیت ہیں اور اسلام میں جن کی کشادگی اور مسافروں کیلئے ان کو صاف اور آرام دہ بنانے کا واضح حکم دیا گیا ہے اور جن پر آزادانہ نقل وحرکت ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔

توجو کوئی یہ حق کسی بھی وجہ سے سلب کرنا چاہتا ہے تو کیا اسکی روک تھام اور سدباب نیز شہریوں کو آزادانہ نقل وحرکت کے حق سے محروم کرنیوالوں کوگرفت میں لانا حکومت ا ور متعلقہ اداروں کا فرض نہیں ہے۔ دراصل آئین و قانون کی بالادستی اور شہری حقوق کی آزادی کے تمام تردعوؤں کے باوجود بد قسمتی سے ہم ایک ایسے جنگل نما معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جب جس کا دل چاہتا ہے بیلچہ اور کدال اٹھا کراپنے گھر کے سامنے سڑک پر پہاڑ جتنا سپیڈ بریکر بنا ڈالتا ہے ۔ایسے لوگ خود تو یقیناًانتہائی بے حس ہوتے ہیں لیکن افسوس اور مایوسی اس وقت ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے ان معاشرتی دہشت گردوں کو نہ صرف یہ کہ کوئی پوچھتا نہیں ہے بلکہ ہر چالیس پچاس قدم کے فاصلے پر بنائے جانے والے یہ سپیڈ بریکر اور ان کی تعداد میں آئے روز ہونے والا اضافہ قانون اور حکومت کیساتھ ساتھ ہم سب کی اجتماعی بے حسی کا مذاق اڑاتارہتا ہے۔