بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارت:لائق توجہ!

بھارت:لائق توجہ!


وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں بھارت کو دیئے جانے والے کردار کو محدود کرے۔ اسلام آباد میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ٹریک ٹو مذاکرات کے چوتھے دور میں پاکستان اور امریکی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے پر غور کیا اس موقع پر پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے نئی علاقائی پالیسی ترتیب دی ہے۔ انہوں نے پاکستان پر زور بھی دیا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے بلاامتیاز کاروائی کی جائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکیس اگست کو جنوبی ایشیاء کیلئے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی تقریر میں پاکستان پر دہشت گردوں کو مبینہ محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام عائد کیا تھا تاہم پاکستان نے امریکی صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا۔ چوبیس اکتوبر کو امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن مختصر دورے پر پاکستان پہنچے اور پاکستان کو خطے میں امن واستحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے نہایت اہم ملک قرار دیا لیکن یہ سبھی باتیں اپنی جگہ اہم ہیں تو خطے میں امن اس وقت تک بحال یا معمول پر نہیں آئے گا جب تک امریکہ بھارت کی جانب متوجہ نہیں ہو جاتا۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ’نکی ہیلی‘ نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان پر نظر رکھنے کیلئے بھارت سے بھی مدد لے سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کریگا جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ خطے میں امن کے نام پر بھارت کی بالادستی قائم کرنیکی کوشش کرے گا تو پاکستان اِیسی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرسکتا اور یہ بات امریکہ کو بخوبی علم ہے

‘جو ایک بات امریکہ کو نہیں بھولنی چاہئے وہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں!بھارتی انسانی حقوق کمیشن نے اپنی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں دوہزار سے زیادہ اجتماعی گمنام قبروں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے تحقیقات اور نعشوں کا ڈی این اے کروا کے معلوم کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ یہ افراد کون تھے؟یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اجتماعی قبروں کی تحقیقات چھ ماہ میں مکمل کی جائے۔ لاپتہ افراد کی تنظیم نے کمیشن کو نشاندہی کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب تین ہزار سے زیادہ گمنام قبریں موجود ہیں جن میں ستائیس سو سے زیادہ پونچھ، ایک سو بیس سے زیادہ راجوڑی میں ہیں آٹھ ہزار سے زائد افراد لاپتہ‘ قابض فوج جعلی مقابلوں میں بے گناہوں کو شہید کر دیتی ہے۔مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے متنازعہ مانا تبھی اس پر اقوام متحدہ میں منظور ہونیو الی استصواب کی قراردادوں کو تسلیم کیا مگر ان پر عمل کرنے کے حوالے سے ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیا‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ کرنا دنیا کے سب سے بڑے ادارے کی توہین ہے‘ بھارت نے متنازعہ علاقے کو آئین میں ترمیم کرکے صوبے کا درجہ دیا‘ جو اقوام متحدہ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے کہ جو کرنا ہے کر لو‘ مگر اقوام متحدہ مصلحتوں سے کام لیتے ہوئے اپنی توہین تضحیک اور تحقیر برداشت کئے جا رہی ہے۔

اٹوٹ انگ کا راگ بھارتی حکمرانوں کے پکے راگ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اب تو آزاد کشمیر اور گلگت‘ بلتستان پر بھی بھارت اپناحق جتلانے لگا اگر بھارت متنازعہ علاقوں کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے تو اب تک جامع مذاکرات کے کئی ادوار کا خود اہتمام اور انعقاد کر چکا ہے۔اگرچہ ایسے مذاکرات کا اہتمام کرکے خود ہی مذاکرات کی ٹیبل الٹتا رہا ہے۔ کئی ممالک بھارت کی شاطرانہ سفارتکاری اور لغو پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کہہ رہے ہیں حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیریوں کو اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کا حق حاصل ہے۔ بھارت کشمیریوں کو آزادی کے لئے جانوں کے نذرانے دینے پر دہشت گرد قرار دیتا ہے اور اسی حوالے سے پاکستان کو دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دے کر دنیا بھر میں بدنام کرنے کیلئے کوشاں رہا ہے پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد کی اخلاقی و سفارتی حمایت کی ہے‘ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جس کے پاکستان‘ بھارت اور کشمیری تین فریق ہیں‘ مسئلہ کے حل میں کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘بھارتی انسانی حقوق کمیشن کا 2080 اجتماعی قبروں کی موجودگی کا اعتراف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے اور یہ بھارت کے انسانیت کے حوالے سے سیاہ چہرے کی رونمائی بھی ہے‘ اس کے بعد بھی عالمی برادری کو کیا بھارتی بربریت کے مزید ثبوتوں کی ضرورت ہے؟ بھارت نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کیلئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مقبوضہ کشمیر میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے‘پاکستان کی طرف سے اس پابندی کے خاتمے کیلئے سفارتی مہم کی ضرورت ہے یہ تنظیمیں مقبوضہ وادی میں صورتحال کا جائزہ لے کر مجوزہ عالمی کمیشن کی معاونت کریں تو مزید تفصیلی اور زیادہ قابل اعتبار رپورٹ سامنے آ سکتی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شفیق مرتضی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)