بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ٹریک ٹو ڈائیلاگ

ٹریک ٹو ڈائیلاگ


وزیر خارجہ خواجہ آصف نے عالمی منظرنامے اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح کئے ہیں‘ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تناؤ کی کیفیت اچھی نہیں‘ امریکہ کے ساتھ اعتماد کا فقدان آج بھی برقرار ہے امریکہ کی مشروط پالیسی سے افغان مفاہمتی عمل کو شدید دھچکا لگا ہے جبکہ تقسیم شدہ معاشرہ مفاہمتی عمل کو مشکل بنا رہا ہے۔ پاک امریکہ ٹریک ٹو مذاکرات کے جاری دور سے خطاب اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں صورتحال پیچیدہ ہے پاکستان موجودہ صورتحال میں افغانستان کے اندر بھارت کے وسیع کردار کی مخالفت کرچکا ہے جبکہ پاک بھارت تنازعات کے خاتمے کے لئے امریکی کردار کا خیرمقدم کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے اجلاس سے خطاب میں ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ دہرایا ہے امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرے اور تمام گروہوں کے ساتھ ایک ہی طریقے سے نمٹا جائے۔ امریکی سفیر بھارت سے افغانستان میں معاشی ڈومور کا مطالبہ کرنے کے ساتھ نئی دہلی کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کا بھی کہہ رہے ہیں۔

ایک جانب وزیر خارجہ خواجہ آصف واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ اعتماد کا فقدان آج بھی برقرار ہے جبکہ ولسن سینٹر کے مائیکل گلمین کا کہنا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کا مشکل دور چل رہا ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات کو کرکٹ کی طرح لیا جاسکتا ہے اس گیم میں پاکستان اور امریکہ ایک ہی جانب ہیں امریکہ کو افغانستان میں پاکستان کی ضرورت رہے گی ڈائیلاگ کا پہلا دور کابل دوسرا واشنگٹن اور تیسرا اسلام آباد میں ہوا ڈائیلاگ کے عمل میں افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق ٹرمپ پالیسی اور دیگر عوامل کے پاک امریکہ تعلقات پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پاکستان نے اپنا موقف پیش کردیا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کے اصولی اور دو ٹوک موقف کو تسلیم کرے خطے میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال اور اقتصادی شعبے میں متاثر ہونے کا ادراک کیا جائے تاکہ مستقبل کے لئے بہتر فیصلے ممکن ہوسکیں حقائق کو پرکھے بغیر پاکستان سے مطالبات کرنا کسی صورت قرین انصاف نہیں۔

بے وقت کی باتیں

وطن عزیز کے دوسرے حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی سموگ کے ہاتھوں لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔ ڈپٹی کمشنروں کو مراسلے بھجوائے جاچکے ہیں۔ بارش کا امکان نہ ہونے کی صورت میں سموگ کا جاری سلسلہ مزید ایک ہفتے تک برقرار رہنے کا کہا جارہا ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ عین اس وقت جب یہ سموگ لوگوں کے لئے اذیت کا سامان بن چکی ہے ایک جانب کوڑا کرکٹ اور ربڑ جلانے پر پابندی کی بات ہورہی ہے تو دوسری جانب گرد و غبار والی جگہوں پر چھڑکاؤ کا کہا جارہا ہے ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان مضر اثرات سے نمٹنے کے لئے پہلے سے اقدامات کیوں نہ اٹھائے گئے۔ سموگ کی وجوہات سے نمٹنے کے لئے موجود سیٹ اپ اس وقت کا انتظار کیوں کرتا رہا ہمارے ادارے ہمیشہ سے اسی روش پر چلتے آرہے ہیں کہ مشکل آنے پر باہر نکلا جائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ضمن میں فوری اقدامات کے ساتھ اب تک کی غفلت کا نوٹس بھی لیا جائے اور اداروں کی سطح پر آئندہ ایسی صورتحال کا راستہ روکا جائے۔