بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / شریف خاندان ریفرنسز یکجا کرنیکا فیصلہ کل سنایا جائیگا

شریف خاندان ریفرنسز یکجا کرنیکا فیصلہ کل سنایا جائیگا


اسلام آباد ۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی سابق نااہل وزیر اعظم نوازشریف بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے کمرہ عدالت میں ہجوم کی وجہ سے عدالت نے حاضری لگوانے کے بعد ملزمان کو جاننے کی اجازت دیتے ہوئے کاروائی جاری رکھنے کا حکم دیا بعدازاں شریف خاندان کے قانونی مشیر خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر نے نیب کے تین ریفرنسزیکجا کرکے ایک فرد جرم عائد کرنے کی درخواست پر اپنے اپنے دلائل دیے عدالت نے جوائنٹ ٹرائل کے حوالے سے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جوکہ کل ( بدھ) کو سنایا جائے گا اور آج دائر کی گئی کیلیبری فونٹ سے متعلق مریم اور کیپٹن صفدر کی درخواست پر سماعت بھی ملتوی کر دی تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب ) حکام کی جانب سے دائر ریفرنس پر گزشتہ منگل کے روز سماعت کی دوران سماعت سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کے 3ریفرنسزیکجا کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ تینوں ریفرنسزمیں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے جوایک ہی انکوائری اورانویسٹی گیشن کے نتیجے میں بنے 9 گواہان بھی مشترک ہیں خواجہ حارث نے تینوں فرد جرم عدالت میں پڑھے اور نوازشریف کے عوامی عہدے ، لندن فلیٹس کی ملکیت ، بے نامی داراورضابطہ فوجداری سمیت نیب ریفرنس کے مشترکہ پیرازکے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیاجس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ نے نیب آرڈی یننس کے سیکشن17ڈی کے تحت درخواست نمٹانے کا حکم دیا کیا آپ ریفرنسز تین اورفرد جرم ایک چاہتے ہیں ۔

خواجہ حارث نے تینوں ریفرنسز کو اکٹھا کر کے ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ ضابہط فوجداری کی شق 233 اور 239 کے تحت ایک الزام کے الگ الگ ٹرائل نہیں کیے جاسکتے ایک الزام پرمتعدد ریفرنسز شفاف ٹرائل نہیں ، تینوں ریفرنسزکواکٹھا کرکے ایک فرد جرم عائد کی جائے، ، خواجہ حارث نے دلائل میں ریفرنسنزیکجا کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ سمیت دیگرعدالتوں کے فیصلے کا حوالے بھی دیئے۔

نیب نے تینوں ریفرنسز میں الزامات اورحقائق کا ذکرنہیں کیا گیاایک گھنٹہ 25 منٹ کے بعد وکیل کے دلائل ختم ہوئے تو جج محمد بشیر نے نوازشریف کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے سماعت 15 منٹ کیلئے ملتوی کر دی وقفے کے بعد نیب پراسیکیوٹر نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے دلائل دیئے جس میں نیب پراسیکیوٹر کے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے د یئے ہر کیس کے اپنے حقائق ہوتے ہیں فلیگ شپ میں مرکزی بے نامی دار حسن نواز ہے عزیزیہ ریفرنس میں مرکزی بے نامی دار حسین نواز ہے مختلف جرائم اور مختلف ٹرانزیکشن کی بنیاد پر ریفرنس الگ کئے گئے تینوں ریفرنس میں مرکزی ملزم ایک ہی ہے ۔

ایک جوان ہوتا بچہ ملین ڈالر کی امپائر کھڑی نہیں کرسکتاہر جائیداد میں ہر شخص کا الگ کردار ہے العزیزیہ ریفرنس میں ہرملزم کا الگ کردار ہے فلیگ شپ ریفرنس میں صرف ایک ٹرانزیکشن آئی، نیب العزیزیہ میں مختلف ٹرانزیکشن پاکستان آئیں فرد جرم میں لکھا ہے کہ کس نے کیا کام کیاڈیپارٹمنٹ ایک ہونے سے کام ایک نہیں ہواایف بی آر کا ریکارڈ 1997 سے شروع ہوتا ہے لندن فلیٹ کا ریکارڈ 1993 سے شروع ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی مختلف جائیدادوں سے متعلق سوالات جے آئی ٹی کے سامنے رکھے ہر تفتیش کا الگ والیم ہے،گواہ مشترک ضرور ہیں لیکن ریکارڈ مختلف فراہم کرنا ہے نیب فیئر ٹرائل طریقہ کار کی پیروی کا نام ہے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا اس میں تین الگ ریفرنس ہی بنتے ہیں دو ملزمان ایسے ہیں جو شامل ہی نہیں ہو ئے ایک ملزم کی درخواست پر کیس یکجا نہیں کئے جاسکتے یہی درخواست ہائیکورٹ میں زیر بحث لائی گئی ۔

یہ درخواست سپریم کورٹ میں بھی ہیسب گواہان نے دستاویزات فراہم کرنی ہیں گواہان نے ریکارڈ تیار نہیں کیاجو دستاویزات آنی ہیں ان پر جرح ہونی ہے جوائنٹ ٹرائل میں سزا کا معاملہ بہت اہم ہے سزا ایک نہیں ہو گی خواجہ حارث کا جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہامختلف عدالتی فیصلے عدالت کے سامنے ہیں نظر ثانی درخواست میں بھی ایک جرم ایک ٹرائل کی بات کی،عدالت نے خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد فصیلہ محفوظ کرلیا جوائنٹ ٹرائل کے حوالے سے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا اور دائر کی گئی کیلیبری فونٹ سے متعلق مریم اور کیپٹن صفدر کی درخواست پر سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی۔