بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا انضمام ٗ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

فاٹا انضمام ٗ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا


پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ہماری صوبائی حکومت کو فاٹا کمیشن کی اصلاحات قبول و منظور ہیں کمیشن کی سفارشات طویل انتظار کے بعد سامنے آنے پر تمام قبائلی ایجنسیوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام ناگزیر بن چکا ہے یہ کام صرف چند لمحوں میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے سرانجام دیا جا سکتا ہے جس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے فاٹا میں پولیس اور دیگر محکموں کی توسیع کا مرحلہ بھی آسان ہے اور یہ تمام قبائلی عوام کی دیرینہ خواہش ہے انہوں نے کہا کہ وفاق اس ضمن میں تیاریاں بھی کر چکی ہے فاٹا کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی بجائے پشاور ہائی کورٹ سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی ہوچکا مگر صرف ایک سیاستدان کی ضد آڑے آرہی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں آل فاٹا سیاسی اتحاد کے ایک نمائندہ قبائلی جرگہ سے خطاب کر رہے تھے۔ جرگہ کے قائد اور فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر سردار خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انضمام کی بھرپور حمایت پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ۔

انہوں نے بتایا کہ فاٹا کے عوام کی حالت زار کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک کروڑ آبادی پر مشتمل سات قبائلی ایجنسیوں میں آج صرف 16ہائی سکول ہیں مگر باجوڑ ایجنسی سے ملحقہ ایک چھوٹے ضلع دیر پائیں میں 25 ہائی سکول ، سات یونیورسٹیاں اور ایک نیا میڈیکل کالج قائم ہیں جبکہ گذشتہ عام انتخابات کے بعد فاٹا میں ایک نیا پرائمری سکول تک نہیں بنا جبکہ پرویز خٹک نے کہاکہ وفاق الٹا ان کا صبر آزمانے میں لگا ہے اور کبھی انہیں پانچ سال اور کبھی دس سال بعد خیبرپختونخوا میں ضم کرنے اور کبھی الگ صوبہ بنانے کے شوشے چھوڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی دینے کی صورت میں بھی وفاق فاٹا کے ارکان صوبائی اسمبلی کو گورنر کے ماتحت رکھنے اور ترقیاتی فنڈز کیلئے ترسانے پر مصر ہے جو ایف سی آر سے زیادہ ظلم ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حیرت ہے کہ ایک طرف نااہل وزیر اعظم کو واپس سیاست اور حکومت میں لانے کیلئے قانون میں ترمیم کی جاتی ہے اور اس مقصد کیلئے پورے پارلیمنٹ کو یر غمال بنا کر ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے تو دوسری طرف فاٹا کے لاکھوں غیور مگر غریب عوام کو اُن کا بنیادی قانونی اور آئینی حق نہیں دیا جا رہا ۔

وقت آچکا ہے کہ فاٹا کے عوام اپنے بنیادی حق کیلئے بیک آواز اُٹھ کھڑے ہوں موجودہ وفاقی حکومت کوفاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام پر کوئی اعتراض نہیں مگر انضمام کی صورت میں اسے فاٹا کو 100 ارب روپے کاپیکیج دینا پڑے گا جو وفاق نہیں چاہتا ۔دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک فطری تقاضہ ہے اگر آج صحیح اور بروقت فیصلہ نہ کیا گیا اور تاخیر کی وجہ سے کوئی بھی قومی نقصان ہوا تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی ۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں خیبر ایجنسی کے ایک نمائندہ قبائلی وفد سے بات چیت کر رہے تھے پرویزخٹک نے کہا کہ انہوں نے بحیثیت وزیراعلیٰ قبائلی باشندوں کی حالت زار ختم کرنے اور فاٹا اصلاحات پر حقیقی عمل درآمد کیلئے وزیراعظم سے لے کر آرمی چیف تک کو خطوط لکھے اور یہ نازک ترین معاملہ ایپکس کمیٹی کے زیر غور لائے مگر مرکز کے سیاسی ہتھکنڈے قبائل کی ترقی اور خوشحالی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔