بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاور میں بیک وقت 8کتابوں کی تقریب رونمائی

پشاور میں بیک وقت 8کتابوں کی تقریب رونمائی


پشاور۔ممتاز قومی شخصیت اور آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن چیف میجرعامر نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضما م کی مخالفت اس لیے کی جارہی ہے کہ پاکستان کوراء ،این ڈی ایس اوردیگر پاکستان دشمن ایجنسیوں کے ایماء پر عدم استحکام سے دوچار کردیاجائے کیایہ محض اتفاق ہے کہ انضمام کی مخالفت میں وہ لوگ بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں جو پاکستان کے قیام کو آج بھی گناہ عظیم سمجھ رہے ہیں وہ گذشتہ روز باچا خان گرلز ڈگری کالج پشاور میں کاروان حوا کے زیر اہتمام بیک وقت آٹھ کتابوں کی تقریب رونمائی کے بعدمیڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔

انہوں نے کہاکہ صوب میں فاٹا کے انضمام سے پاکستان کی سلامتی مشروط ہے تاہم بعض عالمی خفیہ ادارے اور پاکستان میں ان کے کارندے اس عمل کی مخالفت کررہے ہیں جو انتہائی افسوسنا ک امر ہے انہوں نے کہاکہ سعودی عرب میں علماء نے حال ہی میں فتویٰ دیاہے کہ کرپشن دہشتگردی کی طرح کاسنگین جرم ہے تاہم پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض اہل جبہ ودستار سیاسی خاکروب بن کر حکمرانوں کی غلاظت صاف کرنے میں مصروف چلے آرہے ہیں یہ لوگ پچھلے چالیس سال سے ہر جانے والی حکومت سے طلاق لے کر آنے والی حکومتوں سے نکا ح کرکے دین کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے میں مصروف ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کو ملک کی ترقی وخوشحالی عزیز ہے تو کرپٹ عناصر اور مافیاز کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک کرکے معاشرے کو کرپٹ عناصر سے پاک کرنے کے لیے کھلی جنگ کااعلان کرے قبل ازیں تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پشاور نے ہر دور میں عظیم شخصیات ،شعراء اور ادباء کو جنم دیا ہے تاہم بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور متعلقہ اداروں نے انکی کوئی سرپرستی نہیں کی اور جن لوگوں نے پشاور چھوڑا انہوں نے ہی نام کمایا انہوں نے کہاکہ مجھے بہت خوشی ہوتی کہ اگر آج کی اس تقریب میں میں حاضرین میں بیٹھتا اور صدارت صوبہ کے چیف ایگزیکٹو یا پھرگورنر کرتے جس سے ان مصنفین کے فن کاسرکاری طورپر اعتراف ہوتا اگر ہم نے ملک وقوم کو عالمی محکومی سے نکالنا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ قیادت نوجوانوں کو سونپ دی جائے۔

انہوں نے کہاکہ آج آٹھ کتابوں کی رونمائی نہیں ہوئی بلکہ آٹھ میزائل لانچ ہوئے جن سے ملک اوردین کے دفاع کاکام لیاجاسکے گا تقریب سے ڈپٹی سپیکر مہرتاج روغانی ،ڈاکٹرنذیر تبسم ،ناصر علی سید ،حسا م حر ،ڈاکٹر نگہت یاسمین ،پروفیسر اسماعیل گوہر اور ڈاکٹر شاہین عمر نے بھی خطا ب کیا ۔