بریکنگ نیوز
Home / کالم / موت کی سرحد کو چھو کر آگیا

موت کی سرحد کو چھو کر آگیا


ایک لمحہ کو تو مجھے لگا کہ جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں مگر نہیں ایسا تھا نہیں کیونکہ ابھی ابھی ہم نے خوش ذائقہ قہوہ پیا تھا جس کی حدت اور ہلکی سی تلخی ابھی ہونٹوں پر کھیل رہی تھی، اور یہ سچ مچ کا خواب بھی ہوتا تو بہت ڈراؤنا ہوتا مگر ایسا کچھ نہیں تھا میں اس وقت حیات آباد کے ایک نجی ہسپتال میں اپنے دوست ڈاکٹر ظاہر شاہ کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا،ذیشان اور رفعت بھی میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے ،ڈاکٹر ظاہر شاہ کے پاس جب بھی میں آتا ہوں اس کی شگفتہ مزاجی مجھے بھی کھلنڈرا کر دیتی ہے،اور یہ وہی صورت حال ہے جس کا نقشہ فراز نے کیا خوب کھینچا ہے کہ
سفر طویل سہی، گفتگو مزے کی رہی
وہ خوش مزاج اگر تھا تو میرؔ میں بھی نہ تھا
اس لئے اس سے ملنا ہمیشہ ایک خوشگوارتاثر لئے ہوتا ہے مجھے ایک ٹیسٹ کرانا تھا اس نے کہا چلو وہ پہلے کرا لو ،میں اٹھنے ہی والا تھا کہ ایسے میں میرے سیل فون کی سکرین روشن ہوئی کیونکہ میں نے ہسپتال میں داخل ہوتے ہی اسے سائیلنٹ کے موڈ پر لگا دیا تھا۔ شاید ایسے میں فون ریسیو نہ کرتا مگر سکرین پر جو نام جگر جگر چمک رہا تھا اس کا فون میں نظر انداز نہیں کر سکتا تھا اس لئے ڈاکٹر ظاہرشاہ سے ایکسیوز کر کے فون اٹینڈ کر لیا، اب فون پر میری گفتگوجاری تھی ،اس دوران ذی شان اٹھ کر باہر چلا گیا پھر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے رفعت سے کچھ پو چھا اس کے جواب کے فوراََ بعد ہی میں نے فون بند کر دیا مگر اس سے پہلے ہی چپ ایک لمبی چپ کمرے میں پھیل گئی تھی۔میں ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ رفعت نے ذیشان کو فون کیا اور واپس آنے کو کہا۔ میں صورت حال سمجھنے سے قاصر تھا پھرمیرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے ظاہر شاہ کو سنجیدہ اور قدرے پریشان دیکھا۔ ڈاکٹر ظاہر شاہ سے میری دوستی کو اب ایک یگ بیت چکا ہے ،ایک زمانہ تھا جب میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں روزانہ ڈاکٹر ڈینس آئزک کے پاس جایا کرتا تب ڈاکٹر صاحبان کا کمرہ بہت بڑا تھا جہاں کچھ اور باذوق ڈاکٹرز بیٹھتے تھے جن میں پروفیسر تقویم الحق کے شاعر بیٹے اور ڈاکٹر ظاہر شاہ بھی شامل تھے، ایکسرے کا کام نسبتاََ کم ہوا کرتا، وقفے وقفے سے ایکسرے آتے جس کو دیکھ کر رپورٹ لکھ لی جاتی، اس لئے وقفے کے بعد بھی ہم بیٹھے رہتے اور ادبی گپ شپ چلتی رہتی،ڈاکٹر ڈینس آئزک کو ادب اور موسیقی دونوں سے لگاؤ تھااور یہی ہماری گفتگو کے موضوعات ہوتے ایک دن میرے ایک پروفیسر(ان دنوں میرے کولیگ) ایکسرے کروانے کیا آئے کہ پھر جب بھی فراغت ہوتی چلے آتے۔

فلم سٹیج اور ریڈیو کے وہ ایک منجھے ہوئے اداکار اور ہدایتکار تھے، اس لئے ادب میں شعر اور افسانہ ی ساتھ اب ڈرامے پر بھی بات ہو نے لگی، اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ڈینس آئزک نے آگے چل کے پاکستان ٹیلی ویژن پشاور کے لئے کئی پھرعمدہ ڈرامہ سیریز اور سیریل لکھے۔ ان دنوں ایک لطیفہ بھی ہوا،میں ریڈیو پاکستان پشاور کا ایک بہت ہی مقبول پروگرام پچپن منٹ لکھا کرتا اور کبھی کبھی کسی آرٹسٹ کے نہ آنے کی وجہ سے صدا کاری بھی کرتا تھا۔اس پروگرام کا فارمیٹ یہ تھا کہ ایک میل اور ایک فی میل اینکرکے مابین گفتگو پر مبنی مکالماتی سکرپٹ لکھنا ہو تا، ،یہ پروگرام ایک زمانے تک طہٰ خان لکھتے رہے اور پھر کم و بیش اتنے ہی عرصے تک میں بھی لکھتا رہا،لطیفہ یہ ہوا کہ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں بات چیت کے دوران میں نے فرید جاوید کا ایک شعر سنایا
گفتگو کسی سے ہو تیرا دھیان رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا

پروفیسر موصوف کو یہ شعر بہت اچھا لگا اس نے مجھے کہا کہ مجھے یہ لکھ دو، میں نے لکھ کر دے دیا۔ دوسرے دن جب وہ آئے تو انہوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیاکہ تم نے یہ کیا حرکت کی۔ اب میں پریشان کہ شعر غلط لکھا گیا یا شاعر کا نام غلط لکھ لیا۔ میں نے کہا سر میرا قصور ؟ کہنے لگے اب وہ بھی میں بتاؤں،پھر کہنے لگے تم نے کل یہ شعر مجھے لکھ کر دیا نا تو پھر اور کس کو لکھ کر دیا ،میں نے کہا سر کسی کو نہیں ،تو کہا اچھا ریڈیو میں فلاں فی میل آرٹسٹ کو کس نے لکھ کر دیا مجھے یاد آ گیا کہ اس دن میں نے سکرپٹ میں کسی حوالے سے یہی شعر لکھا تھا۔ اور ایک فی میل اینکر کو اس کو صحیح پڑھنے کی ریہرسل بھی کرائی تھی ،پروگرام کے بعد اس نے مجھے کہا کہ سکرپٹ میں جو شعر آیا تھا بہت اچھا ہے مجھے لکھ دو میں نے لکھ دیا مگر اس بات سے وہ کیوں ناراض ہوئے میں نہ سمجھ سکا۔بعد میں مشتاق شباب یا سردار علی نے مجھے بتایا کہ پروفیسر موصوف اور اس خاتون اینکر کی دوستی ہے جسے بہت ے لوگ پسند نہیں کرتے تھے شو بز کی دنیا میں یہ روٹین کی ایک سرگرمی ہے۔خیر اس شام ان کی جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے خاتون سے کہا کہ لو، ایک شعر سنو اس نے کہا پھر میں بھی ایک شعر سناؤں گی جب انہوں نے پہلا مصرع پڑھا تو خاتون نے فوراََ دوسرا مصرع پڑھ کر کہا میں بھی یہی شعر سنانا چاہتی تھی۔

دونوں کے ہاتھ میں کاغذ تھااور ظاہر ہے ہینڈ رائیٹنگ ایک ہی تھی۔ یہ محض اتفاق تھا جبکہ ان کا خیال تھاکہ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ میں ڈاکٹر ظاہر شاہ کی بات کر رہا تھا کہ وہ بھی ہماری گفتگو میں شریک ہوتا اور محظوظ ہوتا،پھر ڈاکٹر ڈینس پی ٹی وی پر مصروف ہو گیا اب ملاقاتیں ٹی وی پر ہوتیں یوں بھی ان کے ڈرامہ سیریلز میں افراز علی سید بطور چائلڈ سٹار کاسٹ ہوتے،تو مجھے بھی ریہرسلز اور ریکارڈنگز میں جانا پڑتا،خصوصاََ کروبی ڈرامہ سیریل کے زمانے میں ،ثمینہ پیر زادہ سے انہی دنوں میری دوستی ہوئی کہ ٹی وی کی گاڑی کی بجائے اور افراز کو اپنی وین میں آؤٹ ڈور ریکارڈنگز میں ساتھ لے جایا کرتی۔ قہوہ کے ساتھ ساتھ یہ ساری باتیں یاد آتیں رہیں ،ڈاکٹر ڈینس کے حوالے سے بھی بات ہوئی جو ٹی وی پر بطور رائٹربھی مصروف تھے اور بطور ریڈیالو جسٹ بھی مقبول تھے مگر اچانک وہ فیملی کے ساتھ کینڈا شفٹ ہو گئے۔اور اب شنید ہے کہ کئی عرصے سے صاحب فراش ہیں،ڈاکٹر ظاہر شاہ اور میرے پاس الگ الگ ذرائع سے معلومات تھیں گویا ہم دونوں اپنے دوستوں کے شب روز سے با خبر تھے،کبھی میں نے بھی کہا تھا
آنے والی ہے مری سالگرہ دیکھتا ہوں
یاد کس کس کو ہے اب بھی میرے دن رات کی بات

قہوہ پیا جا چکا تھا اور اب مجھے MRI (میگنیٹک ریزونینس امیجینگ)کے لئے جانا تھا کہ اچانک عتیق صدیقی کا فون آگیا میں نے کہا نا کہ میںیہ فون نظر انداز نہیں کر سکتا تھا وہ پشاور پہنچ چکے تھے، ان سے گفتگو کے دوران ہی ذی شان فارم اور فیس کے مراحل طر کرنے جا چکا تھااور فون نہ آتا تو میں ’’ ایم آر آئی ‘‘ کے لئے اب تک جا چکا ہوتا۔ اب فون بند کیا تو ساری صورت حال بدل چکی تھی۔ میں نے ڈاکٹر ظاہر شاہ کی طرف دیکھا جو کہہ رہا تھا مجھے تو لگتا ہے جیسے میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی بلکہ میرے پاؤں میں تو جان ہی نہیں رہی۔ ہمدرد و غمگسار دوست نے یہ بھی کہا میں ساری عمر خود کو ہی کوستا رہتا۔آخر ہو کیا ہے میں نے پو چھا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے بر سبیل تذکرہ رفعت سے پو چھا کہ کہیں انہوں نے ’’STENT ‘‘( دل کی آرٹیری کو پچکنے سے بچانے کا سپرنگ) تو نہیں لگایا۔ انہوں نے کہا جی لگاہے۔ کہنے لگے آپ کے فون کے دوران مجھے اچانک خیال آیا،فون نہ آتا تو آپ یقیناََ ٹیسٹ کے لئے جاچکے ہوتے ،تب انہوں نے مجھے بتایا اور میں آپ سب دوستوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ MRIایک پرشور مقناطیسی حلقہ عمل رکھتا ہے اس لئے جسم میں کوئی دھاتی عنصر موجود ہو جیسے سٹنٹ،سلاخ،پلیٹ،پیچ یا چمٹیاں جو ہڈیاں جوڑنے کے لئے لگائی جاتیں ہیں ،تو یہ ٹیسٹ مریض کے لئے بہت سی مشکلات پیدا کرسکتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اس لئے ٹیسٹ سے پہلے متعلقہ عملے کو بتا دینا چائیے۔مجھے شمیم بھیروی یا د آگئے جو ہارٹ اٹیک ست صحت یاب ہو کر گھر آئے تو جو غزل کہی اس کا ایک شعر میں نے محبی ظاہر شاہ کے ساتھ شئیر کیا۔آپ بھی سن لیجئے ۔
زندگی میں تہمتیں باقی تھیں کچھ
موت کی سرحد کو چھو کر آ گیا۱