بریکنگ نیوز
Home / کالم / عدالت نوٹس

عدالت نوٹس


کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان کا کوئی بھی زور نہیں چلتا ‘ یہ کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں‘ ان میں ایک بارش بھی ہے‘جب اللہ کریم چاہیں بارش بھیج دیں او ر جب چاہیں خشک سالی فرما دیں‘انسان کے ہاتھ میں صرف یہ ہے کی وہ اسکے سامنے گڑگڑائے اور بارش کے لئے دعا کرے‘ اسی طرح بعض مصائب ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں ہمارا اپنا دخل ہوتا ہے اور ہمارے اعمال کے سبب ہمارے گلے پڑتے ہیں جن کا علاج سوائے توبہ کے اور کچھ نہیں ہے‘پانامہ کے ہنگامے نے کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ ہمارے لئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے دروازے کھل گئے ہیں‘ جس کا جو جی چاہتا ہے ایک مقدمہ لے کر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ پہنچ جاتا ہے ‘ مثال کے طور پر ابھی کل کی بات ہے کہ ایک شخص نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی کہ حکومت سے پوچھا جائے کہ انہوں نے سموگ سے بچنے کے لئے پہلے سے بندوبست کیوں نہیں کیا‘اب جہاں تک فوگ یا سموگ کا تعلق ہے تو یہ ایک قدرتی عمل ہے جس میں انسانی ہاتھ کا کوئی بھی عمل دخل نہیں ہے مگر عدالت نے یہ درخواست سماعت کیلئے منظور بھی کر لی اور حکومتی کارندوں کو نوٹس بھی ارسال کر دئے اور سماعت کیلئے تاریخ بھی مقرر کر دی‘ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ حکومتی ارکان اس کا کیا جواب دیں گے۔

‘ اگر لوگوں کو گاڑیوں کی خریداری کی اجازت نہ دی جاتی تو بھی اس سموگ میں کمی ہو سکتی تھی لیکن اگر حکومت ایسا کرتی تو جسے منع کیا جاتا وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور عدالت الٹا حکومت کو ڈانٹتی کہ اُ س نے بنیادی حقوق کے خلاف ورزی کیوں کی‘ یعنی حکومت کے لئے تو نہ جائے ماندن و نہ پائے رفتن والا معاملہ ہو جاتا اور یہ جو ٹریفک کا اژدھام سڑکوں پر ہے کہ جو سفر کچھ عرصہ پہلے دو گھنٹے میں ہوتا تھا اب چھ گھنٹے میں ہو رہا ہے‘ اسلئے کہ ہر لمبے یا چھوٹے روٹ پر ٹریفک جام کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں ٹریفک کا یہ حال ہو گا کہ بندے کو سڑک پار کرنا بھی دو بھر ہو گا تو وہاں فضا میں پٹرول اور ڈیزل کے دھوئیں کا اندازہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے اور جب فضا میں دھوئیں کا یہ عالم ہو گا اور بارش بھی روٹھی ہو گی تو پھرسموگ کو کون روک سکتا ہے۔

‘ ہم حیران ہیں کہ حکومت پنجاب کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے سیکریٹریز اور دیگر اہل کار ہائی کورٹ کیا موقف اختیار کریں گے کہ انہوں نے گاڑیوں کو بغیر پٹرول و ڈیزل کے چلنے کیلئے انتظامات کیوں نہیں کئے کہ انکے دھوئیں سے فضا آلودہ نہ ہوتی اور آج سموگ کے ہاتھوں عوام کو یہ مشکلات پیش نہ آتیں‘ سوال کرنا تو آسان ہے مگر اس کا جواب ہمارے لائق ترین سیکریٹر یز اور عوامی نمائندگان کہ جن کو عوام نے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا تھا اور ان کو انوائر منٹ کو صاف رکھنے کی وزارتیں دی گئی تھیں انہوں نے آخراس کا انتظام کیوں نہیں کیا کہ جس کی وجہ سے عوام کو سموگ جیسی بلا کا سامنا ہے کیلئے ایک مشکل کام ہے۔خیر یہ معاملہ اب عدالت اور حکومت پنجاب کے درمیا ن ہے اس لئے ہم بیچ میں بولنے والے کون ہوتے ہیں۔مگر اتنا ہے کہ عدالتوں کو مقدمہ لینے سے پہلے کم ز کم یہ تو سوچنا چاہئے کہ وہ کیسا مقدمہ لے رہی ہیں اور کیا اس کو جواب دینا اداروں کے بس کی بات ہے کہ نہیں۔