بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / عام انتخابات کے التوا کا خطرہ

عام انتخابات کے التوا کا خطرہ


آئندہ عام اِنتخابات (دوہزار اَٹھارہ) کے بروقت اِنعقاد پر ’شکوک و شبہات کے بادل‘ گہرے ہو رہے ہیں۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ نواز شریف اور اُن کے اہل وعیال کے پاس اِس بات کے دستاویزی ثبوت (تسلی بخش جواب) نہیں کہ اُنہوں نے اربوں کھربوں کی اندرون و بیرون ملک جائیدادیں جن مالی وسائل سے بنائیں وہ اُن کی معلوم آمدنی کے وسائل اور ذرائع سے زیادہ ہیں۔ جو خاندان ڈیڑھ برس تک ’پانامہ کیس‘ کی سماعتوں میں ’منی ٹرائل‘ نہ دے سکا‘ اور جس کے وکلاء عدالت کے اندر اور رہنما عدالتوں کے باہر انصاف کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے رہے اُن سے کس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ احتساب عدالتوں سے تعاون کرتے ہوئے جاری سماعتوں کے دوران تمام مطلوبہ معلومات (ثبوت) فراہم کردیں گے کیونکہ اگر انہوں نے ایسا ہی کرنا ہوتا تو ’پانامہ کیس‘ کے دوران کر چکے ہوتے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ احتساب عدالتوں میں جس طرح سے معاملہ ہو رہا ہے وہ ’مبنی برانصاف نہیں۔ مرحلۂ فکر ’آئندہ عام انتخابات‘ ہیں‘ جن کا انعقاد نئی حلقہ بندیوں کے بغیر کرنا لازم ہے اور اِس مقصد کیلئے پہلے سے موجود حلقہ بندیوں کو توڑنا اور پھر نئی حلقہ بندیاں تخلیق کرنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کی جانب سے وفاقی حکومت کو ’دس نومبر‘ کی حتمی تاریخ دے گئی ہے کہ وہ متعلقہ قانون سازی کا عمل اگر اِس مقررہ تاریخ کے اندر مکمل کر لیں گے تب بروقت انتخابات کا انعقاد ممکن ہوگا۔

موجودہ قانون ساز اسمبلیوں کی مدت ’جون دوہزار اٹھارہ‘ میں مکمل ہو رہی ہے‘ لیکن اگر موجودہ حکومت نئی حلقہ بندیاں نہیں کرتی جیسا کہ اُس کی دلچسپی نہیں تو یہ کام نگران حکومت کی ذمہ داری ٹھہرے گی جس سے عام انتخابات چھ سے نو ماہ تاخیر سے ہوں گے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد کی گئی قانون سازی کا محرک ’عجلت‘ رہا ہے‘ جس کی وجہ سے کئی ایسی چیزیں بھی آئین میں داخل ہو گئی ہیں جو آنے والے دنوں میں پریشانی کا باعث ہوں گی‘ جیسا کہ آئین میں ’’اثاثہ‘‘ کی تعریف یہ مخصوص کر دی گئی ہے کہ ’’کسی شخص کے اپنے نام پر جائیداد ہی اُس کا اثاثہ تصور ہوگی۔‘‘ ظاہر ہے کہ بدعنوانی کرنے والے اتنے بیوقوف تو ہیں نہیں کہ وہ اپنے نام پر اثاثے رکھیں اور یوں اُن پر عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ سیاسی فیصلہ ساز شاہانہ رہن سہن رکھتے ہیں لیکن وہ سب اُن کے اہل و عیال کی ملکیت ہوتا ہے اُور انہوں نے خود کو مالی طور پر اس قدر تنگدست ظاہر کر رکھا ہوتا ہے کہ ٹیکس ادا کریں۔

حالیہ ’خانہ و مردم شماری‘ کے ’عبوری نتائج‘ آ چکے ہیں جن کی بنیاد پر طے شدہ امر تھا کہ نئی حلقہ بندیاں ہونی ہیں لیکن قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی قیادت کرنیوالی پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے خورشید شاہ فرماتے ہیں کہ ’’پرانی حلقہ بندیوں پر آئندہ انتخابات ہونے چاہئے۔‘‘ عام انتخابات کے بروقت ہونے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اِن کا انعقاد نئی حلقہ بندیوں کے مطابق آزاد اور شفاف انداز میں ہونا چاہئے اور یہی ملک میں جمہوریت اور جمہوری نظام کی بقاء کی ضمانت ہوسکتا ہے کہ ایک ایسی حکومت منتخب ہو جسے عوام کا مکمل اعتماد حاصل ہو۔ نئی حلقہ بندیوں میں اگر چند ماہ کی تاخیر بھی ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر تاخیر ہوتی ہے تو اِس کے لئے قصور وار کوئی اور نہیں بلکہ موجودہ وفاقی حکومت‘ موجودہ پارلیمینٹ اور موجودہ پارلیمانی سیاسی جماعتیں ہیں۔نئی حلقہ بندیوں کے تحت ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ماسوائے ’تحریک انصاف‘ کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں لیکن پاکستان کا ایک اور بھی بنیادی مسئلہ ہے جو یکساں سنجیدگی اور توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان کی اقتصادی (معاشی) بدحالی ایک ایسا خوفناک منظر پیش کر رہی ہے۔

‘ جو طرزحکمرانی میں سادگی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ ملک کے حکمراں جب عدالتی مقدمات کو طول دیں گے تو کیا اِس سے عوام کا عدالتوں (انصاف کے حصول) پر اعتماد بڑھے گا؟ انصاف وہ ہے جو ہوتا نظر آئے اگر اِس مرتبہ بھی عام انتخابات میں وہی لوگ بطور اُمیدوار سامنے آئے جنہیں قانون سے استثنیٰ کی بنیاد پر اہلیت تو ملتی ہے لیکن وہ اصلاً اہل نہیں تو اِس سے جمہوریت مضبوط اور قومی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ نہیں رکے (تھمے) گا‘ اس طرح ایک طرف اگرانتخابات کا بروقت انعقاد ضروری ہے تو دوسری طرف ایسا مکینزم تشکیل دینا بھی جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے لازمی ہے کہ انتخابات پر بعد میں کسی کو اعتراض نہ ہو اور کوئی بھی نتائج کو چیلنج کرکے اس جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا باعث نہ بنے۔