بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہ غم کب کم ہوگا؟

یہ غم کب کم ہوگا؟


نہ جانے پی آئی اے کے غم کب کم ہونگے ؟ ایک عرصہ ہوا کسی عاقبت نا اندیش کی تجویز پر ہماری قومی ائیر لائن کے جہازوں کی باڈی پر جو سلوگن لکھا نظر آتا تھا وہ بھی تبدیل کر دیا گیا ہے وہ سلوگن کچھ اس طرح تھا باکمال لوگ ‘ لاجواب پرواز اور انگریزی زبان میں وہ ان الفاظ میں لکھا جاتاPIA Great people to Fly with یہ الفاظ فیض احمد فیض کی تخلیق تھے اس ائیر لائن نے بڑے اچھے دن دیکھے تھے دنیا کاشاذ ہی کوئی ایسا روٹ تھا کہ جہاں پی آئی اے کی پرواز نہ جاتی جب چین میں کسی بھی بین الاقوامی کمرشل ائیرلائن کے جہازوں کو اترنے کی اجازت نہ تھی تو تب صرف ہماری قومی ائیر لائن کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اسکے جہاز بیجنگ جا سکتے حتیٰ کہ جب جنرل یحییٰ خان کے دور صدارت میں امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر کو چین جانا پڑا تو وہ بھی اسلام آباد سے اسی ائیر لائن کے توسط سے گئے جب ائیر مارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان جیسے اعلیٰ درجے کے منتظم اس ائیر لائن کے سربراہان تھے تو کیا مجال کسی رکن پارلیمنٹ کی یا کسی بھی نامور سیاسی شخصیت کی کہ وہ قومی ائیر لائن میں اپنا کوئی منظور نظر سفارش کے ذریعے تعینات کر اسکے ان دونوں نے پی آئی اے کے ہر شعبے میں بھرتی کیلئے وہی معیار اور میرٹ رکھا تھا کہ جو پاکستان ائیر فورس میں کسی قسم کی بھرتی کیلئے رکھا گیا ہے ایک دور تھا کہ جب پی آئی اے کے پاس جہازوں کاجو فلیٹ تھا وہ 55 جہازوں پر مشتمل تھا اور ان کاشمار دنیا کے بہترین جہازوں میں ہوتا پی آئی اے کے پاس نہایت ہی تجربہ کار ٹیکنیشن بھی تھے ۔

اور ائر لائن کو ٹھوس بنیادوں پر چلانے والے اچھے منتظم بھی چنانچہ مشرق وسطیٰ کی کئی ائیر لائنز نے پی آئی اے سے اسکے سٹاف کی خدمات مستعار لیں ان لوگوں نے مشرق وسطیٰ کی کئی ائیر لائنز کو مضبوط بنیادوں پر قائم کیا اور آج ان کا شمار دنیا کی چند بہترین ائیر لائنز میں ہوتا ہے دوسری طرف ہماری اپنی ائیر لائن کا دیوالیہ پٹ گیا وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا پی آئی اے کو اس خستہ حال تک پہنچانے میں اس ملک کے سب حکمران شامل ہیں ہماری ائیر لائن سفید ہاتھیوں کے بوجھ تلے روندھی جا چکی ہے جہاں دس افراد کے عملے کی ضرورت تھی وہاں50 افراد افراد بھرتی کئے گئے حکمرانوں کی نظر اب پی آئی اے کی اربوں ڈالرز کی مالیت کی پراپرٹی پر ہے کہ جس کی نجکاری کرکے وہ اپنی جیبیں بھرنا چاہتے ہیں ہم تو اس بات پر حیران ہیں کہ آج تک نہ تو نیب نے اور نہ ہی ایف آئی اے نے اپنے طور اس بات کی انکوائری تک نہیں کی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کس کس نے قومی ائیر لائن کو اندر اندر سے کھوکھلا کیا ‘ کس کس کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا اس پی آئی اے میں کئی افراد جو کرپشن کی بنیاد پر نکالے گئے تھے بعض سیاسی حکمرانوں نے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کو بحال کیا ان کو پچھلا معاوضہ بھی دلوایا اب شنید یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے موجودہ وزیراعظم کو یہ ٹاسک حوالے کیا ہے کہ وہ پی آئی اے کے معاملات سلجھائیں موجودہ وزیراعظم ماشاء اللہ خود بھی ایک نجی ائیر لائن چلا رہے ہیں ۔

‘کیا بہتر نہ ہو گا اگر جس طریقے سے وہ اپنی نجی ائیر لائن کو کامیابی سے چلا رہے ہیں وہی طریقہ کار پی آئی اے کیلئے بھی استعمال کریں اللہ مالک ہے شاید پی آئی اے بھی اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑی ہو جائے ویسے بدقسمتی ہو گی اگر پی آئی اے کو بیچ دیا گیا ان دنوں سے بھی برے دن سری لنکا ائیر لائن پر بھی آئے تھے کسی دور میں بھارت کی ائیر انڈیا بھی بڑی خستہ حال ہو گئی تھی لیکن ان کی حکومتوں نے انہیں فروخت نہ کیا کیونکہ انہوں نے اپنی ائیر لائنز کو اپنی آن سمجھا ہمیں ا ن ممالک سے ہی سبق لے لینا چاہئے ۔