بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم معاملات سلجھانے کی ضرورت

اہم معاملات سلجھانے کی ضرورت


قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے بل پر اتفاق رائے نہ ہوسکا اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ عرصہ کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں پر سینٹ و قومی اسمبلی میں حکومتی و اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور واک آؤٹ بھی ہوا۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انتخابات میں تاخیر کا معاملہ سپریم کورٹ بھی جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ الیکشن میں تاخیر ہوئی تو اس کی ذمہ دار حکومت ہرگز نہیں ہوگی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم پر پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے توقع ظاہر کی ہے کہ بات عدالت عظمیٰ تک نہیں جائے گی۔ سپیکر کا کہنا ہے کہ تمام ارکان اپنی جماعتوں کی قیادت سے رابطہ کرکے آج اپنے جواب سے آگاہ کریں گے۔ دریں اثناء انتخابی اصلاحات کا بل سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا درخواست میں کہنا ہے کہ نااہل شخص پارٹی صدر نہیں بن سکتا لہٰذا ترمیم واپس لی جائے۔ ان کا موقف ہے کہ آئین سے متصادم قانون سازی بنیادی حقوق کے منافی ہے اس سب کے ساتھ سیاسی بیانات میں گرما گرمی کا گراف بھی مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔

سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں اور ہر سطح پر جلسے منعقد ہورہے ہیں ایک جانب قبل از وقت انتخابات کو جمہوریت کا حصہ قراردیا جارہا ہے تو دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ عام انتخابات اگست 2018ء کے پہلے ہفتے میں ہوں گے ان کا کہنا ہے کہ قانونی جنگ کے باعث الیکشن میں تاخیر ہوسکتی ہے وطن عزیز میں بعض اہم امور ایسے ہیں جو ساری سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ سیاسی قیادت کی توجہ کے متقاضی ہیں انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن کو سہولت کے ساتھ کام کا موقع دینا بھی ضروری ہے جبکہ فاٹا اصلاحات کا معاملہ بھی یکسو کرنا ہے۔ آبی ذخائر کے ساتھ توانائی بحران کو حل کرنا ہے تو دوسری جانب معیشت کو بیرونی قرضوں سے آزاد کرکے عوام کو مارکیٹ میں گرانی سے ریلیف دینا بھی ناگزیر ہے۔ اس بات پر غور بھی ضروروی ہے کہ ایل پی جی پرٹیکس عائد کرکے بجلی نرخوں میں اضافے کے ذریعے عوام پر 90 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کا عندیہ کیوں مل رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لئے کمیٹی قائم کی ہے اس کے ایجنڈے کو توسیع دے دی جائے اور سیاسی قیادت اہم نوعیت کے معاملات کو بات چیت کے ذریعے طے کرے تو تناؤ کی کیفیت ختم ہونے کے ساتھ لوگ بھی ریلیف حاصل کرسکیں گے۔ سیاسی اختلافات کوئی نئی بات نہیں تاہم اہم معاملات کو بات چیت کی میز پر سلجھانا بھی ہماری سیاسی قیادت کا وطیرہ رہا ہے۔

مزید تلخ فیصلے بھی کرنا ہوں گے

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 180 سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے 450 پروگرام بند کردئیے ہیں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ صرف کالج یا یونیورسٹی کا قیام فروغ تعلیم کیلئے کافی نہیں ہوتا اس میں ہر مرحلے پر معیار اور ضرورت کے مطابق شعبہ جات کو دیکھنا ضروری ہے چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ وہ کمیشن کو ڈنڈا بردار ادارہ بنانے کے حق میں نہیں تاہم ضرورت اس بات کی موجود ہے کہ ایجوکیشن میں کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اس کیلئے تلخ فیصلوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے اس عمل میں سزا کیساتھ جزا بھی ہونی چاہئے تاکہ اعلیٰ کارکردگی والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔