بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نوازشریف کو چوبیس گھنٹوں میں دوسرا بڑا دھچکا

نوازشریف کو چوبیس گھنٹوں میں دوسرا بڑا دھچکا


اسلام آباد۔سپریم کورٹ کے بعد سابق نااہل وزیراعظم نوازشریف کو چوبیس گھنٹے میں دوسرا بڑا دھچکا، اسلام آباد کی احتساب عدالت نے فرد جرم ایک بار نہیں الگ الگ عائد کرنے کے خلاف شریف خاندان کی درخواستیں مسترد کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان سے مجھے کیوں نکالا کا فیصلہ کے بعد گزشتہ بدھ کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب حکام کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر کئے گئے کرپشن ریفرنسز کی سماعت کی دوران سماعت عدالت نے گزشتہ سماعت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے شریف خاندان کی جانب سے ایک فرد جرم عائد کرنے اور تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے باضابطہ فرد جرم عائدکردی دوران سماعت قانون کی گرفت پکی ہوتے دیکھ کر سابق وزیراعظم صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے فاضل جج کے سامنے سیاسی انتقام کی دہائیاں دیتے رہیسابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے لیے پہلے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے اس کے بعد اب احتساب عدالت نے مشکل بڑھادی جس کی وجہ سے خاصی پریشان دکھائی دیئے واضع رہے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے لندن فلیٹس۔

العزیزیہ سٹیل ملزاورفلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق نوازشریف کی دونوں درخواستوں پر گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا تے ہوئے نوازشریف کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے تینوں ریفرنسز میں علیحدہ علیحدہ فرد جرم برقرار رکھی گئی ہے دوران سماعت فاضل جج نے سابق وزیراعظم کو روسٹرم پر بلا کر دوبارہ دیگر ایک ریفرنس پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے چارج شیٹ پر دستخط کئے اس دوران انہوں نے فاضل جج سے شکوہ کیا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

فیئر ٹرائل کا حق پامال کیا گیا۔ریفرنسز پر چارجز بد نیتی پر مبنی ہیں۔۔اگر 6 مہینے میں چار ریفرنسز کا فیصلہ دینا ہے تو پھر ڈیڑھ مہینے کا وقت ایک ریفرنس کیلئے مقرر کر دیں۔6مہینے کا وقت کم ہے۔۔فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ چاروں ریفرنسز کا فیصلہ 6 ماہ میں کریں گے وقت مقرر نہیں کیا جائے گاروسٹرم سے واپسی پر نوازشریف کو ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دلاسہ دیا کہ بابا آپ فکر نہ کریں یہ وقت بھی گزر جائیگا بعدازاں عدالت نے کیلبری فونٹ سے متعلق مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کیخلاف فرد جرم سے سیکشن تھری اے کو نکال دیااورچارج شیٹ میں ترمیم کے بعد دونوں پر دوبارہ فردجرم عائد کرتے ہوئے ریفرنسز پرمزید سماعت 15نومبر تک کیلئے ملتوی کردی۔