بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نئی حلقہ بندیاں ٗ آئینی ترمیم پر اتفاق نہ ہو سکا

نئی حلقہ بندیاں ٗ آئینی ترمیم پر اتفاق نہ ہو سکا


اسلام آباد۔پارلیمانی جماعتیں نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر اتفاق رائے میں ناکام ہو گئیں‘ پاکستان پیپلزپارٹی نے قیادت کی نئی ہدایات پر سابقہ اتفاق رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا‘ گیند مشترکہ مفادات کونسل کے کورٹ میں چلی گئی‘ حکمران جماعت کے سربراہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آئینی ترمیم کے معاملے پر پارلیمانی جماعتوں میں تعطل پیدا ہونے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے آئینی کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء زاہد حامد اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ‘ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی‘ جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ‘ اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور‘ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی نعیمہ کشور خان‘ ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔

اجلاس میں شریک وزراء کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ اعلیٰ سطح پر مشترکہ مفادات کونسل میں اس معاملے کو زیربحث لانے کے مطالبے سے آگاہ کر دیں۔ خیال رہے کہ حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر گذشتہ ہفتے پہلے دواجلاسوں میں جواتفاق رائے ہواتھا وہ قومی اسمبلی میں ٹوٹ گیا دوبارہ پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس طلب کیے گئے دواجلاس ہوئے جو بے نتیجہ رہے سابق اتفاق رائے سے اختلاف کرنے والی جماعتیں موقف میں تبدیلی کی کوئی وضاحت نہ دے سکیں، نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی پر تعطل برقرار رہا اور پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بدھ کو بھی بے نتیجہ ختم ہو گیا، نئی حلقہ بندیوں کی مخالف جماعتیں اپنے موقف پر ڈٹی رہیں، پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے میڈیا گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام جماعتوں کا بروقت عام انتخابات پر مکمل اتفاق ہے واضح کردینا چاہتا ہوں کہ انتخابات کے معاملے پر سیاسی جماعتوں میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا ہے ۔

تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہے کہ انتخابات اپنے وقت پرہوں تاہم نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کے معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی آمادہ ہو جائے کیونکہ سینیٹ سے بھی اس بل نے دوتہائی اکثریت سے منظور ہونا ہے۔کوشش کر رہے ہیں حلقہ بندیوں کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہو کیونکہ پارلیمنٹ کا کام کسی اور ادارے کو نہیں کرنا چاہیئے۔ ایاز صادق نے کہا 1998کی مردم شماری پر انتخابات نہیں ہو سکتے، پیپلزپارٹی معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم پر کوئی اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بعض جماعتوں نے اجلاس کی کارروائی کے دوران پیپلزپارٹی کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بڑی جماعتوں کی طرف سے اس تعطل کے باعث نئی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی نشستوں میں اضافے کے معاملات میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر اجلاس کے دوران اس افسوس کا اظہار کیا کہ تمام جماعتوں نے گذشتہ ہفتے آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کیا۔

اب موقف کو تبدیل کر لیا گیا ہے اور جو مجبوری آڑے آئی ہے اس سے بھی قوم کوآگاہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس حکومت کے پاس آئین میں ترمیم کے لئے دوتہائی اکثریت کو جمع کرنا محال ہو جائے اس کی فعالیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جب حکومتیں غیرفعال ہو جائیں تو جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لئے آئین میں دیئے گئے دیگر آپشنز پر غور کرنا پڑتا ہے۔ قبل ازوقت انتخابات میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ بعدازاں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سبکدوش وزیراعظم محمد نوازشریف سے ملاقات کرتے ہوئے آئینی ترمیم کے معاملے پر سیاسی جماعتوں میں تعطل سے آگاہ کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ بڑی جماعتیں چاہتی ہیں کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں زیربحث آئے اور وہاں سے کوئی لائحہ عمل مرتب کر کے پارلیمنٹ کو بھجوایا جائے۔ یاد رہے کہ نوازشریف نے اس معاملے پر حکمران جماعت کی پانچ رکنی کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی میں اس کمیٹی کے رکن ہیں اور انہوں نے اس حیثیت میں نوازشریف کو پارلیمانی لیڈرز کے اجلاسوں کی مشاورت سے آگاہ کر دیا ہے۔