بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بجلی منافع میں تاخیر ٗ صو بائی بجٹ کو 52ارب کا ٹیکہ

بجلی منافع میں تاخیر ٗ صو بائی بجٹ کو 52ارب کا ٹیکہ


پشاور۔خیبر پختونخوا کے سیکرٹری خزانہ شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو بجلی کے خالص منافع کے واجبات اور دیگر ادائیگی میں تاخیر کے باعث52ارب روپے کے قریب بجٹ خسارے کا سامنا ہے اگر وفاق نے بروقت یہ رقم صوبے کو ادا نہ کی تو اس کا اثر صوبائی ترقیاتی پروگرام پر کٹ لگانے کی صورت میں پڑے گا۔ خیبر بنک سمیت صوبے کے مختلف بنکوں میں ساڑھے چھ ہزارنجی بنک اکاؤنٹس میں رکھے گئے172ارب روپے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ان میں90ارب روپے سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈز اور پنشن وغیرہ کے ہیں جبکہ182ارب ترقیاتی کاموں کی رقم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اکاؤنٹس میں بڑے رقوم سے صوبائی حکومت کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا تاہم ان اکاؤنٹس میں رقوم کے انکشاف کے نتیجے میں صوبائی حکومت اب تک6ارب روپے کی بچت کر چکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز آفیسرزمیس پشاور میں صحافیوں کو صوبے کے مالی معاملات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکر ٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ قیصر عالم بھی موجود تھے۔ شکیل قادر نے بعض نجی شعبوں میں172ارب روپے کی خطیر رقوم کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ محکمہ خزانہ ہر سال دو قسم کے اکاؤنٹس کی دیکھ بھال کرتا ہے جن میں ایک اکاؤنٹ ون جبکہ دوسرا(designated Bank Account) نجی بنک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹ کے اخراجات کا محکمہ خزانہ کو باقاعدہ ہوتا ہے تاہمDisgneted اکاؤنٹ کو محکمہ خزانہ فنڈز تو جاری کرتا ہے بعد میں اس کے استعمال کے بارے میں محکمہ خزانہ کو علم نہیں ہوتا نہ ہی ماضی میں حکومت کے پاس مالیات کی مانیٹرنگ کا کوئی موثر نظام تھا تاہم اب اس نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں محکمہ خزانہ کو دونوں اکاؤنٹس کی تفصیلات میسر ہوں گی سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ (designated Bank Account) نجی بنک اکاؤنٹ میں سرکاری رقوم کی موجودگی صرف خیبر پختونخوا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے تاہم ہم نے پہلی مرتبہ نشاندہی ہونے کے بعد سٹیٹ بنک اور ایسے تمام محکموں سے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی اور اس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کیں جس میں ابھی تک ان رقوم میں خرد برد کے کوئی ثبوت نہیں ملے نہ ہی کسی نے مذکورہ رقم یا اس کا منافع استعمال کیا ہے بلکہ مذکورہ رقوم منافع سمیت اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ان اکاؤنٹس اور رقوم کی نشاندہی کے بعد حکومت نے چھ ارب روپے کی رقم جاری کرنی تھی وہ جاری نہیں کی اور اس طرح حکومت نے 6ارب روپے کی بچت کی ٗ مذکورہ اکاؤنٹس میں رقوم آج سے نہیں بلکہ1990 سے رکھی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں ساڑھے چار ہزار اکاؤنٹس صرف بنک آف خیبر میں ہیں جبکہ ڈھائی ہزار کے قریب اکاؤنٹس دوسرے بنکوں میں کھولے گئے ہیں جس کی چھان بین جاری ہے اور اس کام کو دو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے تاہم ہماری کوشش ہے کہ اس سال دسمبر تک اس کاروائی کو مکمل کیا جائے سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پورے ملک میں دو ٹریلین رو پے نجی بنکوں میں پڑے ہیں صرف ہم نے ان معاملات کی چھان بین شروع کی ہے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم صوبے کے مالی نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پنشن کے نظام کو بھی اصلاحات لانے کی کوشش کر رہے ہیں ٗانہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں پنشن میں سرکاری ملازمین کی کنٹریبوشن ہوئی ہے مگر ہمارے ہاں پنشن عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جاتی ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ دس سالوں میں صرف ہمارے صوبے میں پنشن کی رقوم بڑھ کر172ارب روپے تک پہنچ جائیں گے۔

جس کی ادائیگی مشکل ہو گی اس لئے ہماری کوشش ہے کہ پنشن کی ادائیگی کے نظام میں اصلاحات لاکر اس میں ملازمین کی شمولیت یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ ہم اس نظام میں اصلاحات لاکر ساڑھے تین ارب روپے جمع کرا سکے تو اس سے سرکاری خزانہ پر بوجھ میں کافی کمی ہو گی بلکہ عوام کے ٹیکسوں سے ادائیگی بھی نہیں کی جائے گی سرکاری ملازمین کو اپنے پیسوں سے ہی پنشن کی ادائیگی کی جائے گی سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ بجلی کے خالص منافع اور اس کے بقایاجات کی ادائیگی میں وفاق اور واپڈا کی جانب سے معاہدوں پر عمل درآمد میں تاخیر کے باعث صوبے کو 52ارب روپے کے مالی خسارے کا سامنا ہے اگریہ فنڈز صوبائی حکومت کو بروقت ادا نہیں کئے گئے تو اس کا اثر آنے والے بجٹ کے ساتھ ساتھ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام پر بھی پڑے گا۔