بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاورمیں مصنوعی بارش برسانے کیلئے رٹ دائر

پشاورمیں مصنوعی بارش برسانے کیلئے رٹ دائر


پشاور۔صوبائی دارالحکومت پشاورسمیت صوبہ بھرمیں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے خلاف پشاورہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائرکردی گئی ہے رٹ پٹیشن میں فضائی آلودگی کے خاتمے کے لئے عوام میں شعوراجاگر کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے ٗ شجری کاری کرنے اورنصابی کتابوں میں مضامین شامل کرنے کی استدعا کی گئی ہے رٹ پٹیشن خورشید خان ا یڈوکیٹ نے دائرکی ہے جس میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ بین الاقوامی سروے کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔

اوردنیابھرمیں لاکھوں افراد فضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہورہے ہیں جبکہ امراض قلب ٗ کینسر اوپھیپھڑوں کی بیماریاں تیزی سے پھیل ر ہی ہیں اوران بیماریوں کی وجہ سے 92فیصدہلاکتیں ہورہی ہیں اوران بیماریوں کازیادہ اثرغریب اورمتوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتاہے جبکہ تیزی سے صنعتی ممالک میں بدلنے والے ممالک میں اس کازیادہ شکارہیں ان ممالک میں بھارت ٗ پاکستان ٗ چین ٗ بنگلہ دیش ٗ اورمڈغاسکرشامل ہیں فضائی آلودگی سے انسانی زندگی کاتقریباہرپہلومتاثرہوتاہے بالخصوص انسانی صحت اورانسانی بہبود سے ہوتاہے تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ2015ء میں فضائی آلودگی کے علاوہ پانی کی آلودگی بھی اموات کاسبب بنتی ہے۔

ان آلودگیوں میں سب سے زیادہ اموات بھارت اورچین میں ہوتی ہیں بھارت میں25لاکھ اورچین میں18لاکھ سالانہ اموات ہوتی ہیں آبی فضائی اورماحولیاتی آلودگی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداددنیابھرمیں ہونے والی جنگوں ٗ غذائی قلت کی اموات سے زیادہ ہیں رٹ میں کہاگیاکہ اس وقت پوراملک فضائی آلودگی کاشکارہے لیکن خاص طورسے صوبہ پنجاب اورصوبہ خیبرپختونخوااس زہریلی دھنداورسموگ کاشکارہے حالت اس درجہ خطرناک ہے کہ کھڑکی کھولنے سے کمرے میں غلیظ اورگدلادھواں آناشروع ہوجاتاہے ڈبلیو ایچ ا و کی رپورٹ کے مطابق انڈیاٗ کیمرون پاکستان سرفہرست ہیں ماہرین کے مطابق فضاء کے ایک میٹرمیں بیس مائکروگرام کثافت ہوتی ہے ۔

لاہورمیں یہ تعداد سو مائکروگرام تک پہنچ چکی ہے رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ پشاورشہرمیں ٹرانسپورٹ کے لئے جفت اورطاق کافارمولااختیار کیاجائے اورحکم صادر کیاجائے کہ شہرمیں10سال سے پرناماڈل کی ٹرانسپورٹ گاڑیوں پرپابندی لگائی جائے اور2ہزار سی سی بڑی ڈیزل گاڑیوں پرپابندی عائد کرکے ان کی رجسٹریشن نہ کی جائے تمام صوبے اورخاص طورپر کوڑاکرکٹ کے جلانے کھلے میدان میں پھینکنے کی بجائے ری سائیکل کرکے کھاد ا وربجلی بنائی جائے جبکہ تمام صنعتی بستیوں میں تمام صنعتوں کو فضائی آلودگی سے بچاؤ کی تدابیر بتائی جائیں اورپھراس پرسختی سے عمل کرایا جائے اینٹوں کے بھٹے ٗ فیکٹریوں میں ٹائرجلانے پرپابندی عائد کی جائے جبکہ گھٹیاکوئل کے استعمال پرپابندی ہوگرین ہاؤس گیسز خارج کرنے والے کارخانوں کو فوری بند کیاجائے جبکہ بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے میں جہاں جہاں کام جاری ہے کھدائی ہورہی ہے۔

وہاں گردوغبار دھول کوختم کرنے کے لئے پانی کاچھڑکاؤ کیاجائے رٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ مہذب معاشرے میں اپنے عوام کی فلاح وبہبود ٗ صحت ٗ تعلیم اورآلودگی سے بچاؤکے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جاتے ہیں حکومت سلورآئیڈیوڈائیز کے بادل سے مصنوعی بارش برسا کرماحول کو صاف و شفاف کرسکتی ہے تمام سرکاری ٗ نیم سرکاری اداروں ٗ تعلیمی اداروں ٗ صنعتی بستیوں اوردیگرتمام خالی جگہوں پرشجرکاری کی جائے طلباء و طالبات کی شجرکاری میں حوصلہ افزئی کی جائے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے مضمون کو نصاب میں شامل کیاجائے تاکہ اس مضمون کے پڑھنے سے بچپن سے ہی بچوں میں موسمیاتی تبدیلی اورماحولیاتی آلودگی سے آگاہی ہوگی ۔