بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پلاسٹک شاپنگ بیگزپرپابندی کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج

پلاسٹک شاپنگ بیگزپرپابندی کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج


پشاور۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس روح الامین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے غیر تحلیل شدہ پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کیخلاف دائر رٹ پر ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات کو تحریر جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کر دئیے‘ فاضل بنچ نے دیدار گل وغیرہ کی جانب سے میاں محب اللہ کاکاخیل ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی تو اس دوران ان کے وکلاء کے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پلاسٹک شاپنگ بیگز کی تیاری ‘ فروخت یا سٹاک کرنے پر پابندی عائد کی ہے اور جس تحلیل ہونے والے کیمیکل کو اس میں استعمال کرکے اسے قابل تحلیل 1جا رہا ہے۔

وہ کیمیکل یورپ میں تیار ہوا تاہم اب زیادہ تر یورپی ممالک نے اسے انسانی صحت کیلئے مضر قرار دیتے ہوئے پابندی لگا دی ہے‘ انہوں نے دلائل دئیے کہ اس شعبے سے لاکھوں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے ‘ پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی اس قسم کے شاپنگ بیگز پر کوئی پابندی نہیں مگر ایک بڑی سیاسی شخصیت کی جانب سے درآمد کئے جانے والے کیمیکل کو فروخت کرنے کیلئے خیبرپختونخوا میں یہ کام شروع کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے جس کیمیکل کو موجودہ کیمیکل میں ڈال کر قابل تحلیل بنانے کا دعویٰ کیا ہے وہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہ کیمیکل پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں زمین پر موجود رہیں گے جو ناقابل تحلیل ہے‘ انہوں نے مزیددلائل دئیے کہ اس وقت خیبر پختونخوا کی صنعت انتہائی خراب ہے اور اگر اس طرح کی پابندیاں لگ جاتی ہیں تو ہزاروں لوگوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے‘ لہٰذا مذکورہ پابندی کالعدم قرار دیا جائے۔

دوسری جانب سے ڈائریکٹر جنرل ای پی اے ڈاکٹر محمد بشیر نے عدالت کو بتایا کہ سندھ اورآزادکشمیر حکومت نے اسی کیمیکل کو پہلے سے موجود کیمیکل میں ملا کر کامیاب تجربات کئے ہیں جس کی وجہ سے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز قابل تحلیل بن جاتے ہیں مقامی تاجروں اور صنعتکاروں سے تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے اس وقت صرف تین کمپنیوں کے پاس یہ کیمیکل موجود ہے اور اگر کوئی اپنے طور پر باہر سے لانا چاہتا ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ یہ ایکٹ 2014ء سے پائپ لائن میں تھا کیونکہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز سے ماحول کو سخت خطرات لاحق ہیں ‘ جس کی بڑی وجہ ناقابل تحلیل کیمیکل ہے‘ جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے وہ مفصل جواب عدالت کو فراہم کریں ۔