بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کے اقدامات پر سوالات

خیبر پختونخوا حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کے اقدامات پر سوالات


پشاور۔محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے افسروں نے ڈپٹی کمشنر پشاورکے سامنے سکولوں کی حالت زار کا بھانڈا پھوڑ دیا جس سے صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی اور اب تک کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرمیل پشاور جدی خان اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل الفت بیگم نے گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر پشاور اسلام زیب کی زیر صدارت ایک اجلاس میں انہیں بتایا کہ سکولوں میں فرنیچر کی کمی ہے ٗ کمروں اور باتھ رومز کی حالت درست نہیں ہے جبکہ اکثر اساتذہ بھی کئی ماہ سے غیر حاضر ہیں لہٰذا فوری طور پر فنڈز فراہم کئے جائیں اجلاس میں اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فیاض شیرپاؤ ٗ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر آئی ایم یو ٗاد سردارسمیت تمام سرکل کے اے ڈی ای او ز ٗ اسسٹنٹ پروگرامر آصف وہاب اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سرکاری سکولوں کو دی گئی سہولیات کے بارے میں تفصیل سے بات چیت ہوئی اور بتایا گیا کہ آئی ایم یو کے مانیٹرز سرکاری سکولوں کا مسلسل دورہ کر کے اساتذہ اور دیگر تفصیلات کے بارے میں محکمے کو رپورٹ کر تے ہیں جس کے بعد اس پر کاروائی کی جاتی ہے ڈپٹی کمشنر پشاور کو بتایا گیا کہ کئی سکولوں میں فرنیچر کی کمی ہے اور کمروں اور باتھ رومز کی حالت درست نہیں ہے جس کے لیے فنڈ کی اشد ضرورت ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر پشاور نے تمام سکولوں کے لئے منظور شدہ فنڈ کو جلد از جلد ریلیز کر نے کی ہدایت کی۔