بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 23مذہبی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل نیا اتحاد قائم

23مذہبی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل نیا اتحاد قائم


اسلام آباد ۔ 23مذہبی وسیاسی جماعتوں پر مشتمل نیاپاکستان عوامی اتحاد وجود میں آگیا، چیئرمین سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ہوں گے اتحاد میں پاکستان عوامی تحریک ، سنی اتحاد کونسل ، مسلم کانفرنس، مجلس وحدت المسلمین پاکستان، پاکستان سنی تحریک و دیگر جماعتیں شامل ہیں،اتجاد نے فیصلہ کیا ہے کہ دسمبر میں کراچی میں بڑا جلسہ کریں گے، اس موقع پر سابق صدر پرویز مشرف نے پاکستان آکر عدالتوں میں پیش ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت کا تعین کروں گا جس سے عدالتوں میں چلنے والے کیس متاثر نہ ہوں اور جو عدالتیں اچھا کام کر رہی ہیں وہ جاری رہیں۔

ایم کیو ایم تین حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے پاگل نہیں ہوں کہ اس کا لیڈر بن جاؤں ان کوہمارے اتحاد میں شامل ہوناچاہیے، ایم کیو ایم اور مہاجر نام بدنام ہو گیا تمام حصوں کو ملکر نئے نام کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔پاکستان میں نواز شریف کامستقبل کچھ بھی نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق صدر پاکستان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے 23مذہبی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل پاکستان عوامی اتحاد بنانے کے بعد پریس کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا اتحاد میں آل پاکستان مسلم لیگ، پاکستان عوامی تحریک ، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین،پاکستان سنی تحریک ، مسلم کانفرنس (کشمیر)، پاکستان مسلم لیگ (جونیجو)، پاکستان مسلم لیگ (کونسل)، پاکستان مسلم لیگ (نیشنل) و دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

پرویز مشرف نے کہاکہ ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہورہا ہے اس پر تشویش ہے، لہذا ایم کیو ایم والے مہاجر اوراپنا نام چھوڑ کر نیا نام رکھیں۔پیپلز پارٹی پنجاب سے ختم ہے، کہاں ہیں یہ لوگ، پاکستان میں نئی سیاسی قوت بننی چاہیے، مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی ملک میں تباہی مچارہے ہیں ان سے نجات ملنی چاہیے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہورہا ہے اس پر تشویش ہے، ایک صورت ہے فاروق ستار کی جگہ میں سربراہ بن جاں لیکن میں پاگل ہوں گا کہ اپنی حیثیت نیچی کرکے آدھی ایم کیوکیو کا سربراہ بن جاں۔

اے پی ایم ایل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کا اتحاد غیر فطری ہے اس لیے الگ ہوگئے، میرا وژن ہے کہ مہاجر قومیت اکٹھی ہوجائے ایک نام کے نیچے آجائے، ایم کیو ایم اور مہاجر بدنام ترین نام بن گئے ہیں، ایم کیو ایم والے مہاجر اوراپنا نام چھوڑ کر نیا نام رکھیں، مہاجر نام چھوڑکر اپنے آپ کو پاکستانی کہیں۔پرویز مشرف نے کہا کہ کراچی میں اتنی قومیں بستی ہیں جو پورے پاکستان میں نہیں، لوگ پاکستان عوامی اتحاد میں آجائیں، سب قومیتیں اکٹھی ہوجائیں ایک نام ہوجائے اور ہمارے ساتھ اتحاد میں شامل ہوجائیں۔

سابق صدر نے کہا کہ مسلم لیگ کے علاوہ دھڑے اکٹھے ہو جائیں تو پاکستان کی فورس بن جائے گی، دیہی علاقوں میں فورس اکٹھی کریں تاکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو ہرا سکیں۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ عدالت میں کیسز کا سامنا کرنے کو تیارہوں، معلوم تھا وزارت داخلہ سے مجھے سیکیورٹی کا جواب نہیں ملے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہپاکستان تحریک انصاف کے لیڈروں کے دماغ میں جوآتا ہے وہ کرتے ہیں وہ پاکستان کے مسائل کے بارے میں نہیں سمجھتے ہیں اللہ ان کو سمجھ آتاکرے،پاکستان میں نواز شریف کامستقبل کچھ بھی نہیں دیکھ رہے ہیں۔ پریس کانفرنس سے آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی راہنما ڈاکٹر امجد،مسلم کانفرنس کے سردارعتیق احمدخان ،حامد رضا ودیگرنے بھی خطاب کیا۔