بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا۔۔۔نئے اضلاع سے نئی حلقہ بندیوں تک

خیبر پختونخوا۔۔۔نئے اضلاع سے نئی حلقہ بندیوں تک


خیبر پختونخوا۔۔۔نئے اضلاع سے نئی حلقہ بندیوں تک

آصف نثار
صوبائی حکومت نے آخرکارچترال کودوحصوں میں تقسیم کرنے اعلان کرکے دیرینہ عوامی مطالبہ پورا کردیاہے‘ چترال ہمارے صوبہ کاسب سے بڑا حلقہ تھا‘ رقبہ کے لحاظ سے یہ ہمارے صوبہ کے پانچویں حصہ کے برابر تھا مگرآبادی بہت کم ہے ‘اسی لئے ا س کو ماضی میں ہمارے صوبہ کا بلوچستان بھی کاکہاجاتارہاہے ‘وسیع تر ہونے کی وجہ سے دوردراز کے لوگوں کو روزمرہ کے کاموں کے لئے ضلعی ہیڈ کوارٹرز آنا بہت مشکل ہوا کرتاتھا‘ اب دو ضلعی ہیڈ کوارٹر بننے سے لوگوں کو اس ضمن میں ریلیف ملنے کاامکان ہے ضلع چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی اور سوات میں نئے ضلع کے قیام کے اعلان کے بعد موجودہ وصوبائی حکومت اپنے دور میں سب سے زیادہ نئے اضلاع اور تحصیلیں قائم کرنے والی پہلی صوبائی حکومت بن گئی ہے۔

اے این پی کے دور میں صرف ایک نیا ضلع بناتھا جبکہ ایم ایم اے کے دور میں کوئی نیا ضلع نہیں بنا‘یوں موجودہ حکومت کے دور میں اب تک تین نئے ضلعے بن چکے ہیں جبکہ چوتھا بننے والا ہے ‘صوبائی حکومت نے چترال کو اپر چترال اور لوئر چترال کے اضلاع میں تقسیم کردیا ہے‘ اپر چترال میں مستوج ،مورکہو اورتورکہو کی تحصیلیں ہونگی جبکہ لوئر چترال میں دروش ،چترال اورلوٹ کہوکی تحصیلیں شامل ہونگی ‘نئے ضلع کی منظوری سے صوبہ میں اضلاع کی تعداد ستائیس سے بڑھ کر اٹھائیس ہوگئی ہے جبکہ سوات میں نئے ضلع سے قیام سے یہ تعدا د بڑھ کر 29ہوجائے گی‘ اس سے پہلے صوبائی حکومت کوہستان کو تین اضلاع کوہستان ،لوئر کوہستان اور کولئی پالس میں تقسیم کرچکی ہے ۔

چترا ل میں نئے ضلع کے قیام کے اعلان کے لئے صوبائی حکومت نے جلسہ عام کافیصلہ کیاتھا ‘پی ٹی آئی نے پورے ملک کی طرح خیبر پختونخو ا میں بھی غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع کررکھی ہے اور اگلے انتخابات کے لئے اس نے ملاکنڈ ڈویژن پر بھی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے‘ گذشتہ دنوں عمران خان دیربالا میں بڑا جلسہ کرکے اپنی اتحادی جماعت اسلامی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں اب چترال میں بھی کامیاب عوامی شو کرکے واضح کردیاہے کہ اگلے الیکشن میں اس نے کسی کے ساتھ کوئی سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں کرنی چترال میں جلسہ سے خطا ب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کاکہناتھاکہ تحریک انصاف پہلی پارٹی ہے جس نے ماحولیات کو شفاف کرنے کیلئے درخت لگائے ہم سب پہلے 200ارب روپے کے جنگلات کاٹے گئے ‘چترال میں اگر درخت نہ لگائے تو گلشیئر پگھل جائینگے پورے پنجاب میں سموگ آیا ہوا ہے جس سے لوگ اور بچے بیمار ہورہے ہیں ‘گلوبل وارمنگ کو روکنے کیلئے بھی پی ٹی آئی درخت لگانے کی ایمرجنسی لگائے گی۔

بجلی کمیشن بنانے کیلئے پہلے فرنس آئل اور اب کوئلے کے پلانٹ لگائے جارہے ہیں حالانکہ پوری دنیا کو صاف رکھنے کیلئے کوئلے کے پلانٹ ختم کئے گئے ہم اقتدار میں آکر پوری قوم کو صفائی مہم پر لگائیں گے‘ عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کا ایک ایک روپیہ اکٹھا کرکے اپنے ملک کا قرضہ اتارے گی کیونکہ ملک روز بروز قرضوں اور کرپشن میں ڈوب رہا ہے ‘ ہم ملک میں ایسا مضبوط نیب بنائینگے جو کسی کے بھی ماتحت نہیں ہوگا ‘عمران خان نے پوری قوم کی طرف سے عدلیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک میں طاقتور کا احتساب ہوسکے پہلے صرف جیل میں غریب لوگ ہوتے تھے میں بھی آٹھ دنوں کیلئے جیل گیا تھا لیکن وہاں پر کوئی بڑا ڈاکو نہیں دیکھا لیکن اسمبلی میں بڑے بڑے ڈاکو اور قبضہ گروپ دیکھے ہیں۔

جلسہ سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی خطاب کیا ‘انہوں نے چترال کے عوام کے دیرینہ مطالبہ اور عوام کی انتظامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے چترال میں نئے ضلع اپر چترال کے قیام کا اعلان کیا ۔انہوں نے نئے ضلع کی تشکیل کے حوالے سے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ زبانی کلامی اعلانات نہیں کرتے بلکہ کنکریٹ فیصلہ کرکے اس کا اعلان کرتے ہیں اور پھر عمل کرکے دکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام خصوصاً نوجوانوں میں بڑھتا ہوا جوش و خروش عمران خان کی چوروں کے خلاف بھرپور جدوجہد کا نتیجہ ہے‘ عوام کا جوش و خروش دکھاتا ہے کہ پی ٹی آئی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے چوروں کا ٹولہ اس ملک پر مل جل کے حکمرانی کرتا رہا عمران خان کے علاوہ کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ چوروں کو للکارسکے ۔ انہوں نے کہا کہ لوٹ مار کرپشن ، اقرباء پروری ملک میں برائیوں کی جڑ ہے اسکے ہوتے ہوئے ملک میں غریب کو انصاف دینا اداروں کو ٹھیک کرنا اور خوشحالی لانا خام خیالی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع چترال میں ترقیاتی اور اصلاحاتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے مطالبے پر دروش کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے جس کا اعلامیہ بھی جاری ہو چکا ہے جبکہ نئے ضلع اپر چترال کا اعلامیہ بھی چند دنوں میں جاری ہو جائے گا گلگت تا چترال روٹ کے ذریعے چترال کو سی پیک کا حصہ بنا دیا گیا ہے صوبائی حکومت چترال میں 1400میگاواٹ کے حامل بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چترال میں ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا مسئلہ درپیش تھا صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں ایف ڈبلیو او سے معاہدہ کر لیا ہے جو یہ ٹرانسمیشن لائن بچھائے گی علاوہ ازیں ایف ڈبلیو او 600میگا واٹ کے حامل بجلی کے تین منصوبوں پر بھی معاہدہ کر چکی ہے ‘1200میگاواٹ کے منصوبے چین کی کمپنیوں کے ذریعے تعمیر کئے جائیں گے جو چترال کے روشن مستقبل کی نوید ہے ۔وزیر اعلیٰ نے انکشاف کیا کہ چترال میں دو ماہ کے اندر ریسکیو سروس 1122 کا عملی طور پر اجراء ہو جائے گا‘ صوبائی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ عوام کیلئے کروڑوں روپے فراہم کرنے کے علاوہ چترال اپ لفٹ کے لئے بھی 55کروڑ روپے دیئے ہیں ریشون ہائیڈل منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔2750گھروں کو سولر سسٹم فراہم کیا گیا ہے ، 55میگاواٹ کے مائیکرو ہائیڈل پراجیکٹ پر کام جاری ہے سیلاب و زلزلہ کے متاثرین کیلئے تین ارب روپے دیئے جا چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے چترال میں ایک نئے پلے گراؤنڈ اور پارک کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ دروش اور بونی میں دو تحصیل گراؤنڈ پہلے ہی تعمیر ہو چکے ہیں ۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ اور چیئرمین تحریک انصاف کو ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر میں چترال میں جاری ترقیاتی سکیموں اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی صوبہ میں اب تک تین نئے اضلاع قائم ہوچکے ہیں او ر چوتھا قائم ہونے جارہاہے تاہم اگر دیکھاجائے تو صوبہ کے پرانے پچیس اضلاع میں سے چودہ اضلاع قومی اسمبلی کے صرف ایک ایک حلقہ پرمشتمل ہیں جبکہ دو اضلاع میں اپنا کوئی حلقہ نہیں سات اضلاع دودو حلقوں پرمشتمل ہیں‘ نئے قائم ہونے والے اضلاع بھی فی الوقت اپنے اپنے حلقوں سے محروم رہیں گے انکو پرانے اضلاع کے حلقوں میں شریک کیاجائے گا۔

اس وقت صرف ضلع پشاور دو سے زیادہ یعنی چارحلقوں پرمشتمل ہے اور یہیں سے ملک بھرکے قومی اسمبلی کے حلقوں کا آغاز بھی ہوتاہے جبکہ ایبٹ آباد،چارسدہ ،نوشہرہ ،مردان ،صوابی،سوات اور مانسہرہ میں قومی اسمبلی کے دو دو حلقے ہیں تاہم پندرہ اضلاع ایسے ہیں جہاں صرف ایک ایک حلقہ ہے جن میں بنوں ،بٹگرام ،بونیر ،چترال ،ڈی آئی خان ،ہنگو،ہریپور ،کرک ،کوہاٹ ،کوہستان ،لکی مروت ،دیربالا ،دیرپائیں،ملاکنڈ اورشانگلہ شامل ہیں جبکہ تورغر اور ٹانک میں اپنا کوئی الگ حلقہ نہیں تورغر مانسہر ہ اور ٹانک ڈیر ہ کے ساتھ ایک حلقہ میں حصہ دار ہیں نئے بننے والے اضلاع لوئر کوہستان ،کولئی پالس فی الوقت کوہستان کے حلقہ کاحصہ رہیں گے‘ اسی طرح چترال میں نیا ضلع بننے کے باوجودنیا حلقہ بننے کا کوئی امکان نہیں دوسر ی طرف صوبہ میں قومی اسمبلی کے چار نئے حلقوں کے اضافہ کافیصلہ کیاجاچکاہے اور اس پر قانون ساز ی کے فوراً بعدکام کاآغاز ہوگا ان حلقوں میں سے دو پشاور اور ایک ایک سوات اوردیرپائیں کو دیئے جانے کاامکان ہے۔

تاہم صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں اضافہ نہ کرنے کافیصلہ کیاگیا ہے ‘ قومی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد نہ بڑھانے اور صوبوں کے مابین ان کی تقسیم میں ردوبدل کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے چاروں صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں حسب سابق برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پرانی حلقہ بندیوں پرہی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقدکرانے پراتفاق رائے کیا تاہم فی الوقت اعتراضات کے خوف سے فیصلہ کو خفیہ رکھاجارہاہے یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں کے لیے جو بل پیش کیا گیا ہے اس میں صرف قومی اسمبلی کے حلقوں میں ردوبدل کاذکر ہے‘ صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے حوالہ سے بل مکمل طورپر خاموش ہے صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلہ کے خلاف صوبہ کی سیاسی جماعتوں نے احتجاج کی تیاریاں شروع کردی ہیں جبکہ معاملہ صوبائی اسمبلی میں بھی اٹھانے کا فیصلہ کیاگیاہے ۔

ان جماعتوں کاکہناہے کہ نئی مردم شماری کے بعد اضلاع کی صوبائی اسمبلی میں بھرپور نمائندگی کے لیے صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر ہے اور اس پرخاموشی اختیار رکھنے سے بہت سے اضلاع کی حلق تلفی ہوگی جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ذرائع کے مطابق اگلے چندروز میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکمت وضع کرنے کے بعدمیدان میں آنے کا امکان ہے‘صوبہ میں نئے اضلاع کے ساتھ نئی تحصیلیں بھی بنی ہیں جن سے لوگوں کو ریلیف ملنے کے ساتھ ملازمتوں میں اضافہ کی بھی امیدہے موجودہ حکومت کو یقیناًیہ کریڈٹ دیا جاسکتاہے کہ اپنے دور میں عوامی مطالبات پر اب تک تین نئے اضلاع کاقیام عمل میں لاچکی ہے جس کے بعداب یہ امید رکھی جار ہی ہے کہ صوبہ میں نئی حلقہ بندیوں کی راہ بھی ہموار کی جائے گی ۔
صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد اگر نہیں بڑھائی جاتی تو قو می وطن پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کی طرف سے بھرپور احتجاج کاامکان ہے کہاجارہاہے کہ چونکہ مرکز میں قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ نہیں کیاگیا ہے پنجا ب کی نو نشستیں کم کرکے انکو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تقسیم کیاجارہاہے اس لیے صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد بڑھانے کی بھی ضرورت نہیں ہے جس پر ناقدین کاکہناہے کہ جب صوبہ میں قومی اسمبلی کے چار نئے حلقے آئیں گے تو بہت سے حلقوں کے علاقے ادھر ادھر ہونگے جس کی وجہ سے صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بھی رد وبدل ناگزیر ہوجائے گا لہٰذا بہتریہی ہوگا کہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے تاکہ اضلاع کی محرومیوں کاخاتمہ کیا جاسکے تاہم اس سلسلے میں پیشرفت کاتمام تر دارومدار مرکزی پارلیمانی قیاد ت کے درمیان اتفاق رائے پرمنحصر ہے جس کے لئے ابھی کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔ a