بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک سے جڑے منصوبے

سی پیک سے جڑے منصوبے


چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت لگنے والے پورٹ قاسم پاور پلانٹ نے کام شروع کردیا ہے منصوبے سے ابتدائی طور پر120میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے جبکہ اس کی تکمیل کے بعد1320میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوگی بجلی کی پیداوار کا یہ یونٹ کوئلے سے چلایا جارہا ہے سی پیک کے میگا پراجیکٹ سے ہماری معیشت جڑی ہوئی ہے جو اس وقت کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی ہے اور جس میں اس وقت تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے اس بڑے منصوبے کے ساتھ منسلک مقامی سطح پر متعدد اہم امور ہوم ورک کے طور پر کرنے کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے جن میں وفاق اور صوبوں کے ذمہ دار اداروں کو فوری پلاننگ کرنا ہوگی سی پیک کے تحت منصوبوں میں ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت کا احساس ناگزیر ہے جس کے لئے تربیتی پروگراموں کو وسعت دینا ہوگی۔

اس مقصد کے لئے نیوٹیک جیسے ادارے سے مزید معاونت لی جاسکتی ہے سی پیک سے جڑے صنعتی زون اور بڑی شاہراہیں تو میگا پراجیکٹس ہیں لیکن انڈسٹریل زونز اور بڑی شاہراہوں تک رسائی کے لئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر بھی ضروری ہے ہمارے ہاں فارم ٹو مارکیٹ روڈز کی افادیت کو بہت عرصے بعد سمجھاگیا اس وقت بھی اگر ہم ساری توجہ میگا پراجیکٹس پر مرکوز رکھیں اور چھوٹے منصوبوں کو نظر انداز کرتے رہیں تو سی پیک کے ثمرات سمیٹنے میں دشواریاں ہوں گی جن کا ادراک ضروری ہے اس مقصد کیلئے صوبوں کو اپنے لیول اور مرکز کو اپنی سطح پر منصوبہ بندی کے ساتھ باہمی رابطوں کو بھی یقینی بنانا ہوگا ایسے میں ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مختلف ادائیگیوں سے متعلق معاملات کو بھی سلجھایا جائے اس مقصد کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کے 13نومبر کو طلب کئے جانے والے اجلاس کے ایجنڈے کو اگر وسعت دیکر اس میں اب تک الجھے دیگر امور کو بھی نمٹایا جائے تو یہ بروقت اقدام ہوگا اسی طرح قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں شیئرز اور دوسرے معاملات پر بھی بات ہوجائے اور نئے ایوارڈ کا اعلان کردیا جائے تو صوبے اپنے کام زیادہ آسانی سے کرنے کے قابل ہوجائیں گے‘اور وہ سی پیک کیلئے زیادہ سے زیادہ ہوم ورک بھی کر سکیں گے ۔

سپیڈ بریکرز کے خلاف مہم

خیبر پختونخوا حکومت نے پورے صوبے میں نہروں کے کنارے بنے غیر قانونی سپیڈ بریکرز ختم کرنے کاحکم دیا ہے قابل اطمینان ہے کہ اس حکم پر عملدرآمد کو چیک کرنے کیلئے بھی انتظام کیا گیا ہے جس میں بریکرز توڑنے کی ویڈیو دیکھی جائے گی ٗ غیر قانونی سپیڈ بریکرز ٹریفک کے پورے نظام کو متاثر کرتے ہیں جہاں تک بات نہر کناروں کی ہے تو صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کی بدترین صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک منصوبہ نہر کے کناروں پر سڑکوں کو استعمال کرنے کا بھی تھا اس منصوبے کو جو پشاور بورڈ کے قریب نہر سے شروع ہونا تھا ہر سطح پر سراہا بھی گیا برسرزمین کچھ تھوڑی بہت سرگرمیاں بھی دیکھنے کو ملیں تاہم یہ سوچ اپنی روح کے مطابق عملی صورت اختیار نہ کر سکی اگر آج بھی صرف سپیڈ بریکرز ختم کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ شہر میں نہر کناروں پر ریلنگ لگا دی جائے تو ٹریفک متبادل راستہ پا سکتی ہے اس سب کے ساتھ ضرورت نہروں کے کنارے شجر کاری اور سیوریج لائنوں کے نہروں میں گزرنے پر ہر سال ایک روایتی سرکاری وارننگ والا خط جاری کرنے کی بجائے عملی طور پر اقدامات کی بھی ہے تاکہ بہتر نتائج حاصل کئے جاسکیں۔