بریکنگ نیوز
Home / کالم / نئے سعودی عرب کی تشکیل!

نئے سعودی عرب کی تشکیل!


سعودی عرب میں گیارہ شہزادوں‘ چار وزرا اور متعدد کاروباری شخصیات کی گرفتاری بڑی خبر تھی‘ گرفتار ہونے والی تمام شخصیات سعودی عرب کے حوالے سے تو اہم ہی تھیں لیکن شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری پر بین الاقوامی میڈیا ہیجانی کیفیت کا شکار تھا۔ گرفتاریوں کی خبر کے ساتھ ہر میڈیا گروپ نے شہزادہ ولید کے دنیا بھر میں پھیلے کاروبار پر الگ سے خبریں شائع کیں‘ عالمی میڈیا کی خبروں اور تبصروں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹوں اور تیل کی قیمتوں میں وقتی بھونچال بھی دیکھنے میں آیا اور شہزادہ ولید کی گرفتاری کی خبر کے بعد تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر آگئیں لیکن حیران کن طور پر قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ ولید بن طلال کی گرفتاری سے زیادہ سعودی عرب کی غیر یقینی سیاسی صورتحال تھی۔ وقتی ہیجان کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں جون دوہزار پندرہ کے بعد پہلی مرتبہ چونسٹھ ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئیں مگر مارکیٹ کا یہ ردعمل زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور قیمتیں واپس نیچے آنا شروع ہوچکی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتیں چند دن میں دوبارہ پچاس ڈالر فی بیرل تک آ جائیں گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ شہزادہ ولید نے کن کن اداروں میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور ان کی اچانک گرفتاری کے بعد اب وہاں کی صورتحال کیا ہے‘ امریکی میڈیا نے ٹوئنٹی فرسٹ سنچری فوکس اور اسکے مالک روپرٹ مرڈوک کو مشکلات کی پیش گوئی کی مگر میڈیا میں خبروں کی اشاعت کے بعد حقیقت کھلی اور پتہ چلا کہ شہزادہ ولید گرفتاری سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہی اِس گروپ میں موجود اپنے شیئرز بیچ چکے تھے۔

اس حقیقت سے پردہ اُٹھنے کے بعد چند ایک میڈیا گروپوں نے وضاحت بھی شائع کی جسکے بعد اب روپرٹ مرڈوک کو ایک ہی مشکل ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ اُنہیں کمپنی پر گرفت برقرار رکھنے کے لئے شاید شہزادہ ولید کی حمایت حاصل نہیں ہوسکے گی۔شہزادہ ولید کی گرفتاری کے بعد سب سے زیادہ بات اس حوالے سے ہورہی تھی کہ انہوں نے تو ٹوئیٹر میں بھی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور سعودی حکومت کے اس عمل سے ٹوئیٹر کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جس کی اہم ترین وجہ یہ تھی کہ سوشل میڈیا سائٹ ٹوئیٹر میں ولید بن طلال صرف پانچ فیصد شیئرز کے مالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹوئیٹر کے شیئرز کو کچھ بھی فرق نہیں پڑا۔ سٹی بینک میں شہزادہ ولید کی بڑی سرمایہ کاری ہے‘ جو اُنہوں نے عالمی معاشی بحران کے دوران سٹی بینک میں کی تھی اور دوہزار آٹھ میں جب سٹی بینک کی بقاء کو خطرہ لاحق تھا‘ تو شہزادہ ولید نے اِس میں اپنے سرمائے کو مزید بڑھایا۔ سٹی بینک میں شہزادہ ولید کی سرمایہ کاری دراصل بین الاقوامی مارکیٹ میں پہلی اور آخری کامیاب سرمایہ کاری تھی۔ سال 1991ء کی بات ہے جب انہوں نے اِس بینک میں مزید پچاس کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی۔ شہزادہ ولید نے سال دوہزار میں آن لائن کمپنیوں کے غیر معمولی عروج کے زمانے میں ویب سائٹس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھی سرمایہ لگایا۔ ’ایپل‘ چین کی آن لائن شاپنگ کمپنی ’جے ڈی ڈاٹ کام‘ آن لائن ٹیکسی سروس ’اوبر‘ کی مدمقابل کمپنی ’لفٹ‘ میں بھی سرمایہ کاری کی۔ ان کمپنیوں سے ولید بن طلال کی توقعات پوری نہ ہوئیں اور انہوں نے دوہزار پانچ میں ’ایپل‘ سے اپنے سرمائے کو نکال لیا۔ انکی گرفتاری سے ’جے ڈی ڈاٹ کام‘ اور ’لفٹ‘ کے شیئرز میں بھی حیران کن طور پر کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔

بلومبرگ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے شہزادہ ولید سے کئی بار درخواست کی کہ وہ اپنی پرائیویٹ اور پبلک سرمایہ کاری کی تفصیلات فراہم کریں لیکن ہر بار ’کنگڈم ہولڈنگز‘ کی طرف سے ایک ہی جواب ملا کہ اِس کمپنی کی مالی پوزیشن بہت مستحکم ہے اگرچہ ولید بن طلال کی گرفتاری سے عالمی سٹاک مارکیٹوں میں تو کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑا لیکن ریاض کی سٹاک مارکیٹ اور ولید بن طلال کے ملکیتی شیئرز کو بڑا جھٹکا ضرور لگا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ اور سرمایہ کاروں میں خوف کے بعد سعودی وزیرِ تجارت نے سرمایہ کاروں کو ذاتی طور پر یقین دہانی کروائی ہے کہ کاروبار اور ہر طرح کی جائز سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا جائیگا‘ لیکن اِس یقین دہانی کے باوجود اب بھی سعودی عرب میں سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ شہزادہ ولید کی دولت کا اندازہ ’فوربز میگزین‘ کی رواں سال کی رپورٹ میں سترہ ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ دولت کا تخمینہ اندازوں اور مارکیٹ ذرائع سے ہی لگایا گیا کیونکہ ولید بن طلال اپنے کاروباری معاملات پر رازداری کا پردہ ڈالے رکھتے ہیں بلکہ ان پر الزام ہے کہ وہ اپنے مقاصد کیلئے دولت بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں‘ شہزادہ ولید کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ شہزادہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں کی حمایت کر رہے تھے۔ قطر سے تعلقات توڑنے میں بھی وہ پیش پیش رہے اور اِسی وجہ سے اُن کی گرفتاری پر حیرت کا اظہار بھی کیا گیا لیکن شاید محمد بن سلمان دوہزار نو میں فوربز میں ولید بن طلال کا شائع ہونے والا انٹرویو ابھی تک نہیں بھول پائے‘ جس میں ولید بن طلال نے بادشاہت کی خواہش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب بادشاہت کے لئے اُن سے مزید صبر نہیں ہورہا۔ سعودی عرب میں جاری تنازعہ بدعنوانی کے خلاف نہیں بلکہ شاہی خاندان کے درمیان جنگ ہے کہ مستقبل میں بادشاہت کس کے حصے میں آئے گی! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: غلام فاروق عادل۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)