بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / زندہ شہر

زندہ شہر


کون کہتاہے کہ پشاور میں اب علمی و ادبی ذوق کی حامل محافل قصہ پارینہ بن چکی ہیں اس شہر نے گل بلبل سے گولہ وبارود تک کے سفر میں ان گنت قربانیاں دیں مگر اسکے باشندوں کو زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کی لگن سے مایوس نہیں کیا جاسکا یہ بجا کہ شہر میں کتابوں کی درجنوں دکانیں بند ہوچکی ہیں مگر ا س کیساتھ ساتھ کتابوں سے محبت کرنے والے بھی نئے نئے انداز میں سامنے آرہے ہیں زمانے کی تمام تر ستم ظریفیوں کے باوجودیہ بلند حوصلہ شہر آج بھی مسکر ا کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے رہاہے اور کسی شہر کی زندگی کاسب سے بڑا ثبوت وہ محافل ہوتی ہیں جن میں علم و آگہی کے موتی چنے جاتے ہیں گذشتہ دنوں خوش قسمتی سے ایسی ہی دو محافل میں شرکت کاموقع ملا پہلی تقریب ایک دینی درسگاہ کی تھی جامعہ علوم القرآن میں مولانا شعیب صاحب نے خوبصورت محفل سجائی تھی جس میں شرکت کیلئے ایک ماہ قبل ہی محتر م رضوان اللہ نے پابند بنادیاتھا رنگ روڈ پر واقع اس جامعہ میں یوم والدین کی مناسبت سے سجائی جانیوالی اس محفل کی خاص بات چار زبانوں میں تقریری مقابلہ تھا بلاشبہ بہت عمدہ‘پاکیزہ اور سبق آموز محفل رہی‘بچوں کی تیاری قابل ستائش حد تک بہتر تھی‘چارزبانوںیعنی عربی ‘ اردو ‘ انگریزی اور پشتو میں تقریری مقابلہ کرواکراس دینی تعلیم کے ادارے نے ثابت کر دیا کہ مدارس پر تنگ نظری کے الزامات بے بنیاد ہیں‘نظم وضبط اور انتظامات مثالی رہے‘مہمان نوازی بھی خوب رہی‘یقیناًاس قسم کی محافل کے انعقاد سے مدارس کے متعلق پھیلائی جانیوالی افواہوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے میرے نزدیک بہت سے اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے قابل رشک محفل قرار دی جاسکتی ہے‘اس قسم کی محافل وتقاریب طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار بخشتی اور ان میں خود اعتمادی پیداکرتی ہے اس محفل میں شرکت سے ہم جیسے لوگو ں کو بھی اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے کاموقع ملتاہے اس محفل کے انعقادکے ذریعے انتظامیہ نے ناقدین کو جومسکت جواب دیا اسکی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں اس محفل کے چنددن بعدبرادرم میجر عامر کا فون آیا اور باچا خان گرلز ڈگری کالج کوہاٹ روڈ پر کتابوں کی تقریب رونمائی میں شرکت کیلئے چلنے کی دعوت دی گیارہ بجے تقریب شروع ہوئی زندگی میں اس قسم کی محفل میں شرکت کادوسرا موقع تھا دلچسپ او رقابل رشک امر یہ رہاکہ ایک دو نہیں پوری آٹھ کتابوں کی رونمائی کی جارہی تھی جو ا س امرکی دلیل ہے کہ ادبی لحاظ سے پشاور کسی بھی طوربانجھ نہیں اس محفل کی بھی خاص بات کثیر السانیت رہی یعنی اردو ‘پشتو اور ہندکو میں شائع ہونیوالی کتابیں منظر عام پرلائی گئیں مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر مہرتاج روغانی تھیں جبکہ صدر محفل میجر عامر تھے جو جہاں بھی نوجوانوں کو دیکھتے ہیں۔

تو انکی رگ پاکستانیت پھڑک ا ٹھتی ہے اسی لئے کہاکہ آج آٹھ کتابو ں کی رونمائی نہیں ہوئی بلکہ دفاع دین ووطن کیلئے آٹھ میزائل لانچ ہوئے ہیں انہوں نے بجاطورپر بزرگوں کو مشورہ دیاکہ اب نوجوانوں کو آگے آنے کاموقع دیں کہ یہی اب اس ملک کو درست سمت میں لے جاسکتے ہیں اس موقع پر انہوں نے اس تلخ حقیقت کااظہار بھی کیاکہ پشاور میں اہل قلم ہمیشہ سرکاری سرپرستی سے محروم رہے ہیں اس لئے قابل دماغوں کاانخلاء ہر دورمیں جاری رہاہے میجرعامر سے زیادہ اس حقیقت سے اور کون باخبر ہوسکتاہے کہ اس صوبہ کے اہل قلم کس بے سروسامانی کے عالم میں مصروف جہادہیں او رہم کتنے ہی ایسے اہل قلم سے واقف ہیں جن کا ہر مشکل میں میجر عامر نے ہی ہاتھ تھاما ہے جہاں تک کالج ہذا کا تعلق ہے تو پرنسپل ڈاکٹرشاہین عمر جیسی بہتر ین منتظم کی وجہ سے اس سال بھی بہترین پرفارمنس کا ایوارڈ حاصل کرچکاہے۔

ڈاکٹرشاہین عمرہمارے معاشرہ کی خواتین کیلئے ایک مثالی کردار قراردی جا سکتی ہیں جو مردوں کے اس معاشرے میں اپنے حصہ کی زندگی کھل کرجی رہی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے مستقبل کیلئے بہترین مائیں تیار کررہی ہیں انہی کے کالج میں اگر ایک طرف دیوار مہربانی قائم ہے تو دوسری طرف ایک ایسا چندہ بکس بھی آویزاں ہے جس میں ہرروز طالبات اورپروفیسرز کی طرف سے دل کھول کر پیسے ڈالے جاتے ہیں جو بعدازاں اسی کالج کی مستحق طالبات میں تقسیم کئے جاتے ہیں شکایات باکس بھی دیکھا جس میں تدریسی عملہ کے خلاف شکایات ملنے پر فور ی کاروائی کی جاتی ہے میجر عامر نے کالج کے دیگر مسائل کے حل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی کرائی تو ایک گونہ خوشی کااحساس ہواکیونکہ کالج ہمارے ہی علاقہ میں قائم ہے ۔