بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سعودیہ کا ارب پتی شہزادے سمیت 7 افرادکو رہا کرنیکا فیصلہ

سعودیہ کا ارب پتی شہزادے سمیت 7 افرادکو رہا کرنیکا فیصلہ


ریاض ۔سعودی حکومت نے کرپشن کے الزام میں گرفتار ارب پتی شہزادے ولید بن طلال سمیت 7 اعلیٰ عہدیداروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔سعودی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال سمیت جن 7 افراد کوعدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا جارہا ہے۔سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے سے سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ کرپشن سمیت دیگر معاملات میں گرفتار 208 ملزمان میں 7 کو ان الزامات میں عدم ثبوت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق رہائی پانے والوں میں سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، شہزادہ ترکی بن ناصر، شہزادہ فہد بن عبداللہ، شاہی محل کے نگراں خالد التویجری، سابق وزیر متعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی بھی شامل ہیں۔سعودی پراسیکیوٹر جنرل سعود المعجب کے مطابق مذکورہ ملزمان پر ایک کھرب ڈالر خرد برد کا الزام تھا، لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ان 7 ملزمان کو رہا کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں گرفتاریوں کے بعد کئی ارب پتی افراد نے دولت کی بیرون ملک منتقلی کے لئے کوشش تیز کردی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے کئی امیر ترین خاندانوں نے اپنی دولت ضبط کئے جانے کے ڈرسے اپنے اثاثے بیرون ملک منتقل کرنیکے لئے کئی بینکوں سے رابطے کئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب سے رقم منتقلی پر 5فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس عائد کردیا ہے ، نئے ٹیکس سسٹم کا اطلاق یکم جنوری 2018ء سے ہوگا۔سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے ٹیکس سسٹم میں لائف انشورنس پالیسیز، گھر وں کے کرائے، ادویات، قرضوں پر سود، مارگیج، لیزنگ سمیت کئی مالیاتی سروسز ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔