بریکنگ نیوز
Home / کالم / انصاف نظر آنا چاہئے

انصاف نظر آنا چاہئے


کسی بھی سیاسی رہنما کا یہ حق ہوتا ہے کہ اگر اس کی پارٹی کی قیادت اسکی کسی تجویز سے اتفاق نہ کرے یا وہ کوئی ایسا موقف اختیار کرے کہ جو اسکی سوچ کے برعکس ہو تو وہ رہنما اپنے خیالات اور دلائل کااظہار کرکے خاموشی کیساتھ پارٹی سے اس معاملے میں لا تعلقی اختیار کر لیتا ہے یہی کام پی پی پی کے فرحت اللہ بابر نے کیا ہے وہ اس پارلیمانی کمیٹی کے رکن تھے جس نے قومی احتساب کمیشن کے قیام کے بارے میں اصلاحات کا پیکج مرتب کرنا تھا چندروز قبل انہوں نے اس کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ بقول ان کے بعض امور پر ان کی اور ان کی سیاسی قیادت کی سوچ میں فرق تھا بات ذرا کھل کر کر لیتے ہیں کچھ عرصہ پہلے تک ان کی پارٹی دیگر ریاستی اداروں کی طرح ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کی بھی حامی تھی لیکن اب وہ اس موقف سے دستبردار ہو گئی ہے پی پی پی ہی کیا اور بھی کئی سیاسی جماعتوں کی اب اس معاملے میں سوچ کافی بدل چکی ہے ان کے نام گنوانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ اک جہاں کو خبر ہے کہ وہ کون کون ہیں‘ اب کئی سیاسی پارٹیاں اس موقف سے اتفاق کرتی ہیں کہ چونکہ عدلیہ اور فوج کے اندر اپنا احتسابی نظام موجود ہے اس کی موجودگی میں اس سے چھیڑ چھاڑ کر نے سے ریاستی اداروں میں صرف کشیدگی ہی بڑھے گی یہ موقف ہماری دانست میں کافی وزنی ہے ہاں البتہ یہ بات اور ہے کہ عدلیہ اور فوج کے اندر جو اپنا مخصوص احتسابی نظام موجود ہے اس کو مزید موثر اور فول پروف کس طرح بنایا جا سکتا ہے ؟

سپریم کورٹ میں ججوں کا احتساب سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے کیا جاتا ہے اس کا طریقہ کار بھی طے ہے اسکا سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوتا ہے اور اسکے اراکین سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین جج اورہائی کورٹ کے دو سینئر ترین جج ہوتے ہیں اس میں اگر یہ اصلاح کر دی جائے کہ اگر کسی جج پر کسی بدعنوانی کا الزام ثابت ہو جائے تو اسکی پنشن ختم کر دی جائے اس طرح اس نظام میں ایک اور اصلاح یہ کی جا سکتی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی بند کمرے کے بجائے کھلی عدالت میں ہو اور ہر سال کے آخر میں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ان ججوں کے نام مشتہر کر دیئے جائیں کہ جو بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہوں‘ اصلاحات کی گنجائش ہر نظام میں ہروقت رہتی ہے وقت اور تجربے کیساتھ ساتھ انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔

فوج کے اندر کورٹ مارشل کا ایک منظم قانون موجود ہے لیکن اس میں بھی اصلاحات کی جا سکتی ہیں آج کل رائٹ ٹو انفارمیشن کا زمانہ ہے عوام سے کوئی بات چھپانے کے بجائے ان سے شیئر کرنی چاہئے خاص کر ان باتوں پر تو عوام کو اعتماد میں لینے کی از حد ضرورت ہے کہ جو کسی بھی ریاستی ادارے کی اصلاح کے لئے کی گئی ہو کوئی بھی ریاستی ادارہ کیوں نہ ہو اسے یہ یونیورسل مقولہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہئے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے یہ بات طے ہے کہ ہر پاکستانی اپنے ہر ریاستی ادارے کو بدعنوان عناصر سے پاک و صاف دیکھنا چاہتا ہے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس ملک کے ریاستی اداروں میں خراب لوگ ہوں جن پر انگلیاں اٹھیں اورعوام ان کو نفرت کی نظر سے دیکھیں یہ اللہ کا اس ملک پر خاص فضل ہے کہ نسبتاً ہماری عدلیہ اور ہماری افواج کی عمومی شہرت نہایت اچھی ہے ان میں پلس پوائنٹس زیادہ ہیں ان کے اندر خود احتسابی اور ڈسپلن کا بہت زیادہ عمل دخل ہے لیکن اگر یہ دونوں ادارے ا زخود اپنے احتسابی نظاموں کو مزید بہتر بنالیں تو اس سے ان کا پبلک امیج مزید بہتر ہو سکتا ہے ہمارے ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے اگرحکمران ان میں مداخلت کرنا بند کر دیں اور ان کو ملکی قوانین کے اندر اندر آزادی اور بغیر کسی روک ٹوک کے کام کرنے دیں۔