بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / قبائلی صوبے کا مطالبہ!

قبائلی صوبے کا مطالبہ!


جمعیت (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فاٹا انضمام پر اب تک جو سخت اور غیر لچکدار موقف اپنا رکھا تھا اس کو دیکھتے ہوئے ان کی جانب سے اپنے پرانے موقف سے رجوع کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کا جو مطالبہ سامنے آیا ہے بظاہر اس کی توضیح کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے لیکن انکی جانب سے پرانے موقف جس میں انضمام کے حوالے سے ریفرنڈم کیساتھ ساتھ سٹیٹس کو کو جوں کا توں برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہاتھا کے برعکس اب قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ سامنے آنے سے کم از کم وہ برف تو یقیناًپگھل گئی ہے جس نے ہم سمیت بہت سوں کو حیران اور پریشان کر رکھا تھا ۔ وطن عزیز میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات کے تناظر میں قبائلی علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کے مطالبے میں بظاہر کوئی بڑا عیب نظر نہیں آتا لیکن یہ مطالبہ چونکہ اتنا سیدھا سادا نہیں ہے ا ور اس مطالبے کا حالیہ غیر یقینی اور بگڑی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں سامنے آنے سے چونکہ کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں اسلئے اس نازک مرحلے پر جب ایک جانب افغانستان کی جانب سے پاکستان پر پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے حوالے سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور دوسری طرف امریکہ کھل کر بھارت کو افغانستان میں کرادار کی ادائیگی کی شہہ دینے کے علاوہ اس حوالے سے اس کی سرپرستی کر رہا ہے ان حالات میں قبائلی علاقوں کوباقی ملک سے الگ تھلگ کرتے ہوئے علیحدہ صوبے کی حیثیت دینے سے فائدے کی بجائے الٹانقصان ہوگا‘۔

اس سٹریٹجک مسلئے کیساتھ ساتھ قبائلی علاقوں کی موجودہ کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر انفراسٹرکچرکے ساتھ صوبے کا درجہ دینے کا مطلب قبائل کے ساتھ سنگین اور بھونڈے مذاق کے مترادف بھی ہوگااسی طرح قبائل جن کوپچھلے سو سال کے دوران بالعموم اور ستر سال کے دوران بالخصوص ہر طرح کے آئینی وقانونی حقوق اور انفرادی واجتماعی ترقی نیزمختلف ریاستی اداروں کے قیام اور کردار سے محروم رکھا گیا ہے اگر انہیں اس مرحلے پر بغیر کسی پیشگی تیاری اور تجربے کے الگ سے صوبائی اختیارات صوبے کی شکل میں دیئے جائیں گے تو قبائل کے لئے اپنی ناتجربہ کاری اور خاص کر بیرونی سازشوں کے نتیجے میں وفاق کی ایک خود مختار اکائی کے طور پر معاملات سنبھالنا اور چلانا یقیناانتہائی مشکل ہوگا‘قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کے نعرے اور مطالبے میں بظاہرعام لوگوں خاص کر نوجوانوں کیلئے یقینابہت کشش معلوم ہوتی ہے لیکن قبائلی علاقوں کو اس مرحلے پر جب ابھی وہاں ایف سی آر کا انسانیت سوز نظام رائج ہے اور وہاں کے لوگوں میں ملکی آئین وقانون کی بالادستی‘شہری آزادیوں ‘ سیاسی وسماجی شعور‘میڈیا کی عدم رسائی ‘انسانی حقوق کی اہمیت کے حوالے سے نا پختگی اورکم فہمی کیساتھ ساتھ وہ لوازمات ناپید ہیں جو الگ صوبہ بنانے کیلئے ضروری عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں تو ایسے میں قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کے پری میچور فیصلے کے خود قبائل اور پاکستان پر کیا ملکی اور بین الاقوامی دور رس نقصانات اور اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ لگانے کی شاید مولانا فضل الرحمٰن سمیت یہ مطالبہ کرنیوالی دیگر قوتوں کو نہ تو احساس ہے اور نہ ہی وہ یہ اندازہ لگانے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی میدانوں میں کئے جانیوالے فیصلے چونکہ ذاتی مفادات کے گرد گھومتے ہیں اسلئے فاٹاکے مستقبل کے سوال پر آج تک وہاں کے عام قبائل کے احساسات اور خواہشات کا کسی بھی مرحلے پر خیال رکھنے کی نہ تو کبھی ضرورت محسوس کی گئی ہے اور نہ ہی انہیں کبھی اس قابل سمجھا گیا ہے کہ ان کے مستقبل کے حوالے سے ہونے فیصلوں میں ان بیچاروں کی رائے بھی معلوم کی جائے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور انہیں خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کامطالبہ زبان زدعام تھالیکن اب اس مطالبے کو پس پشت ڈالتے ہوئے الگ صوبے کے مطالبے کی صورت میں جونیا پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسی بھی طرح نہ تو بین الاقوامی حالات کے تناطر میں قرین مصلحت ہے اورنہ ہی اس طرح کے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کے ذریعے قبائل کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

قبائل جو پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان میں غیرمشروط طور پر اپنی مرضی سے شامل ہونے کے باوجود آئین اور قانون کے لحاظ سے پاکستان کے شہری بننے کے بنیادی حق سے محروم ہیں انکے متعلق گزشتہ ستر سال میں کسی بھی حکمران کو یہ خیال نہیں آیا کہ انہیں ایف سی آر کے شکنجے سے آزاد کروایا جائے اور انہیں بھی وہ حقوق اور اختیارات دیئے جائیں جو ملک کے دیگر شہریوں کو کسی نہ کسی شکل میں حاصل ہیں‘اب جب ایک طویل عرصے کے بعد قبائل کو یہ بنیادی انسانی حقوق دینے کی باز گشت سنائی دینے لگی ہے توخود غرضی اور لالچ کے بیوپاری نت نئے مطالبات کی آڑ میں قبائل کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے ایک بار پھر میدان میں نکل آئے ہیں جنکا راستہ روکا جانا ضروری ہے۔