بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی اتار چڑھاؤ

سیاسی اتار چڑھاؤ


وطن عزیز میں جاری سیاسی گرما گرمی اور تند وتیز بیانات کا سلسلہ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان قربت اور دوری کے ساتھ مزید بڑھ گیا ہے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ وہ بے بنیاد الزامات تسلیم نہیں کرتے اور ان کے خلاف ہونے والی تحقیقات سیاسی مقاصد کیلئے تھیں‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیاجارہا‘ سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات میں مانیٹرنگ جج کی تعیناتی سے آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہیں‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے بعد اب شہباز شریف کی باری ہے‘ ملک میں فوری انتخابات کا مطالبہ دہراتے ہوئے عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں‘ ادھر کراچی میں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے فاروق ستار کیساتھ ان کی ملاقات اسٹیبلشمنٹ نے کرائی اور ایسا فاروق ستار ہی کی خواہش پر ہوا‘ ایم کیو ایم پاکستان کے سربرہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ مصطفی کمال نے اتحاد کی کوشش سبوتاژ کی ہے‘ فاروق ستار یہ بھی کہتے ہیں کہ بازی مصطفی کمال کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور یہ کہ ہم نے صاف ستھری ایم کیو ایم قائم کردی ہے‘ دریں اثناء پیپلزپارٹی نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کے الزامات کو سنگین قرار دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

‘ پیپلزپارٹی کے قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو زندہ کرنے کی کوشش بیکار جائے گی اور یہ کہ تمام الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں‘ تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا ایم کیو ایم کے فاروق ستار کو الطاف حسین کا نیا روپ قراردیتے ہیں‘ اس سب کے ساتھ سابق صدرجنرل (ر)پرویز مشرف کی سربراہی میں نئے سیاسی اتحاد پر بھی بیانات شروع ہیں‘ اطلاعات ونشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ وہ اس اتحاد پر کوئی تبصرہ نہیں کرتیں‘ جنرل مشرف چلا ہواکارتوس ہے‘ خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ مشرف کو متبادل لیڈر لانے کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں‘ جماعت اسلامی ایم ایم اے کی بحالی سے متعلق پر امید ہے اور جماعت کے سربراہ سراج الحق کہتے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے کوششیں آخری مراحل میں ہیں ‘ اس ساری سیاسی گرماگرمی میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قیادت تمام تر سرگرمیوں کیساتھ عوامی مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات یقینی بنائے ‘دوسری طرف ضروری یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کا عام شہری پورے سیاسی منظرنامے کی روشنی میں صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد اپنے فہم اور شعور کے مطابق فیصلہ کرکے اگلے دور کیلئے قیادت کا انتخاب کرے تاکہ عوامی مسائل حل ہوسکیں۔

این جی اوز کی کارکردگی؟

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چارسدہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے غیر سرکاری اداروں کا کردار مسلمہ ہے اور حکومت فلاحی سرگرمیوں میں مصروف این جی اوز کو سپورٹ کرے گی‘ وزیر اعظم کا کہنا بالکل بجاہے اور متعدد اداروں کی خدمات کو سراہا بھی جاتا ہے تاہم غلط یہ بھی نہیں کہ این جی اوز کے نام پر فنڈز کی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ملک میں متعدد ایسی تنظیمیں ہیں جو فلاحی اور رضا کار اداروں کے نام پر دھبہ بنی ہوئی ہیں‘ اس وقت ضرورت مرکز اور صوبوں کی سطح پر مربوط حکمت عملی کے ساتھ پورے ملک میں این جی اوز کی پڑتال اور ان کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کی ہے۔