بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / صحافت کادرخشندہ ستارہ غروب

صحافت کادرخشندہ ستارہ غروب


پشاور۔ملک کے ممتازصحافی ٗ تجزیہ کار ٗ کالم نگار اورروزنامہ آج کے جوائنٹ ایڈیٹرحبیب الرحمان خالق حقیقی سے جاملے ہیں حبیب الرحمن کا جسد خاکی راولپنڈی منتقل کیا جائے گا جہاں انہیں اپنے والد الحاج حافظ خلیل احمد مرحوم کے پہلو میں سپردخاک کیا جائے گا اس سے پہلے انکی نماز جنازہ آج بروز منگل صبح ساڑھے نو بجے پشاور یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر10کی پشت پر ہاکی گراؤنڈ میں ادا کی جائیگی جبکہ راولپنڈی میں نمازجنازہ دن تین بجے لیاقت باغ میں ادا کی جائیگی۔

بزرگ صحافی حبیب الرحمان نے اپنے طویل صحافتی کیریئر میں اہم عہدوں پرخدمات انجام دینے کے ساتھ اس شعبے میں نئے آنے والوں کی تربیت کافریضہ بھی خوش اسلوبی سے نبھایا مرحوم حبیب الرحمن ممتاز صحافی منہاج برنا اور نثار عثمانی کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے تھے حبیب الرحمن1940ء میں غیرمنقسم ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد سات سال کی عمر میں پاکستان آئے۔

انہوں نے راولپنڈی میں قیام کے دوران ایم اے تک تعلیم حاصل کی حبیب الرحمن نے صحافت کا آغاز راولپنڈی کے اخبارات سے کیا ‘اگست1965ء میں پشاور منتقل ہوئے اور دو سال تک روزنامہ انجام میں خدمات انجام دیں‘ یکم اگست1967ء سے8اکتوبر1998ء تک روزنامہ مشرق میں سینئر سب ایڈیٹر‘ نیوز ایڈیٹر‘ ڈپٹی ایڈیٹر‘ چیف نیوز ایڈیٹر‘ اداریہ نویس اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض ادا کئے‘ اکتوبر1998ء میں فرنٹیئر پوسٹ کے اردو اخبار کے اجراء پر روزنامہ میدان سے وابستگی اختیار کی‘ فروری2002ء میں روزنامہ آج سے وابستہ ہوئے وہ ریڈیوپاکستان اورپاکستان ٹیلی ویژن پشاورکے حالات حاضرہ کے پروگراموں سے بھی منسلک رہے۔

حبیب الرحمن ( مرحوم ) کا کہنا تھا کہ انہیں 1965ء سے نامور صحافی اور روزنامہ آج کے مالک و مدیر اعلیٰ عبدالوحد یوسفی کی طویل ترین رفاقت کا اعزاز حاصل رہا‘ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران حبیب الرحمن نے اخبار نویسوں کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا‘ وہ راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری‘ راولپنڈی پریس کلب‘ پشاور پریس کلب کے سیکرٹری‘ خیبریونین آف جرنلسٹس کے صدر‘ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر‘ آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن(ایپنک) کے مرکزی چیئرمین کے علاوہ اخباری ملازمین کے پانچویں ویج بورڈ ایوارڈ کے رکن بھی رہے اور صحافیوں کی تنخواہوں کے ازسرنوتعین کے عمل میں نمایاں حصہ لیا۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں پریس پر پابندیوں‘ سنسر شپ کے خلاف آزادی‘ صحافت اور اخباری کارکنوں کے معاشی حقوق کی جدوجہد میں حصہ لینے کی پاداش میں قیدوبند کی صعوبتیں جھلیں‘ اسی جرم کے تحت انہیں ملازمت سے برطرف بھی کیا گیا ‘اگست 1978ء میں کراچی میں صحافیوں کے مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے گرفتار کئے گئے اور کراچی کی دومختلف جیلوں میں قید رہے ‘جہاں انہوں نے 18دن تک بھوک ہڑتال کی‘ بھوک ہڑتال کے دوران انہیں حالت نازک ہونے پر سنٹرل جیل کراچی کے ہسپتال منتقل کیا گیا‘ پھر وہاں سے سول ہسپتال کراچی منتقل کے گئے ‘اس دوران ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لئے ان پر سخت دباؤ ڈالا گیا لیکن وہ ثابت قدم رہے۔

تین ماہ بعد جیل سے رہائی پر انہیں کراچی بدر کر دیا گیا اور زبردستی حیدرآباد لے جاکر چھوڑا لیکن کراچی میں داخلے پر پابندی توڑتے ہوئے پھر کراچی پہنچ گئے‘ جہاں انہیں گرفتار کر کے دوبارہ پابند سلاسل کردیاگیا‘حبیب الرحمن راولپنڈی کے ممتاز عالم دین‘ مبلغ قرآن قاری حافظ خلیل احمد کے صاحبزادے تھے‘ انہوں نے ایک بیٹا اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں ‘ان کا فرزند ڈاکٹر مجیب الرحمن فرنٹیئر ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں ڈائریکٹر ‘ ایک صاحبزادی بینش اسماعیل سید سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ‘ بہو پروفیسرڈاکٹر ظل ہما مجیب کالج آف ہوم اکنامکس پشاور یونیورسٹی میں اور دیگر تین بیٹیاں مختلف تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ان کے بھائیوں میں حافظ ایس اے رحمن سینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اسلام آباد‘ حافظ طاہر خلیل بیورو چیف روزنامہ جنگ اسلام آباد‘ حافظ سلیم خلیل سینئر نیوز ایڈیٹر پی ٹی وی اسلام آباد‘ حافظ نسیم خلیل مہتمم اعلیٰ دارالقرآن راولپنڈی اور حافظ عامر خلیل ایس پی ان سروس ونگ شامل ہیں۔