بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / این اے فور کا سیاسی مدوجزر

این اے فور کا سیاسی مدوجزر


این اے فور کی انتخابی تاریخ کے سرسری مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سیٹ تحریک پاکستان کے طوفانی دور سے لیکر آج تک پشاور شہر اور خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی سیاست میں ایک مرکزی اہمیت کی حامل رہی ہے گذشتہ پچاس برس میں اس حلقے میں مسلم لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی(آجکل ANP ) کے درمیان ہونیوالے کانٹے دار انتخابی مقابلے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس جگہ نہ صرف قیام پاکستان کی جنگ لڑی گئی بلکہ یہ سیٹ قوم پرستوں اور وفاق پاکستان پر یقین رکھنے والوں کے درمیان ایک طویل نظریاتی کشمکش کا محور رہی ہے اس حلقے کی تاریخی اہمیت واضح کرنے کیلئے جو حقائق پیش کئے جا سکتے ہیں ان میں سے اہم ترین یہ ہے اس علاقے کی مشہورو معروف شخصیت ارباب نور محمد خان کا شمار آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی ممبران میں ہوتا ہے وہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے اور قیام پاکستان کی تحریک کے انتھک کارکن تھے آجکل این اے فور کے نام سے پہچانا جانیوالا حلقہ پشاور کے جنوب میں واقع دیہات پر مشتمل ہے یہ حلقہ 2000 میں جنرل مشرف کے دور میں قائم ہوا تھا اس سے پہلے یہ نوشہرہ ڈسٹرکٹ کا حصہ تھا اس میں چمکنی ‘ ارمڑ‘ بڈھ بیر ‘ متنی‘ سوڑیزئی‘ ماشو خیل اور کوھاٹ روڈ کے کئی دیگر گاؤں شامل ہیں یہ حلقہ کبھی بھی ایک طویل عرصے تک کسی ایک سیاسی جماعت کے تسلط میں نہیں رہا یہاں کے سیاسی جوار بھاٹوں کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1970 میں یہ سیٹ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالحق نے جیتی تھی اسکے بعد 1977 میںیہاں پاکستان نیشنل الائنس کے ٹکٹ پر بیگم نسیم ولی خان کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے۔

اس علاقے میں اسوقت کی ایک طاقتور سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی بھرپور اثررسوخ رکھتی تھی اسکے بعد 1985میں یہاں سے نثا رمحمد خان آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے اس سے اگلے انتخابی معرکے میںیہاں ایک بڑی تبدیلی آئی نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے نظریاتی رہنما میاں مظفر شاہ ایڈوکیٹ نے1988میں یہ سیٹ ایک واضح اکثریت سے جیت کر ایک نیا باب رقم کر دیااسکے صرف دو سال بعد 1990کے انتخاب نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ اس حلقے سے اے این پی کو کبھی بھی نظر انداز نہ کیا جا سکے گا اس الیکشن میں اجمل خان خٹک نے یہ انتخابی معرکہ جیت کر اسوقت کے صوبہ سرحد میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اپنی جماعت کی اہمیت کے جھنڈے گاڑ دےئے خٹک صاحب کیونکہ ایک مقبول قوم پرست لیڈر تھے اسلئے انکی کامیابی نے اس احساس کو اجاگر کیا کہ اس حلقے میں مرکز گزیر قوتیں اسوقت بھی اثر رسوخ رکھتی تھیں این اے فور کیونکہ ہمیشہ سے دبنگ نظریاتی شخصیتوں کی پنجہ آزمائی کا مرکزرہاہے اسلئے یہاں26اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے ارباب عامر ایوب کی کامیابی سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہو گا کہ یہ سیٹ2018کے انتخاب میں بھی پی ٹی آئی ہی کی جھولی میں پڑی رہے گی مستقبل کے سیاسی بزر جمہروں کو نوید ہو کہ اس سیٹ کا شمار ملک بھر کی Most unpredictableیعنی نہایت ناقابل پیش گوئی قسم کی سیٹوں میں ہوتا ہے اس سیٹ کے بارے میں مرزا غالب کے اس شعر سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہ معنی نہ ہوا
یہ درست ہے کہ2013 میں یہ سیٹ گلزار خان(مرحوم) نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتی تھی اور اب ارباب عامر ایوب نے ایک مرتبہ پھر یہ میدان اسی جماعت کے ٹکٹ پر جیتا ہے مگرعامر ایوب ارباب نور محمد خان کے بیٹے اور ارباب محمد ظاہر کے بھائی ہیں انکے والد صاحب کٹر مسلم لیگی تھے اور انکے بھائی اکثر جماعتیں بدلتے رہتے تھے مگراپنے طویل سیاسی کیرئیر کے دوران انہوں نے چار مرتبہ یہ سیٹ اے این پی کے ٹکٹ پر جیتی ارباب محمد ظاہرکے سیاسی کیریئر پر ایک نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ این اے فور کے ووٹروں نے اپنی وفاداری کا سرٹیفیکیٹ کبھی کسی ایک جماعت کو مستقل طور پر نہیں دیااس حلقے کے ووٹر اکثر جماعتیں بدلتے رہتے ہیں انکے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ
تیرے وعدے پہ جیے ہم ‘ تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے ‘ اگر اعتبار ہوتا

اس مرتبہ ارباب عامر ایوب کی کامیابی کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اے این پی کے ووٹ بینک کو خاصا نقصان پہنچایا ہے عامر ایوب 2005 سے2009تک اے این پی کی حمایت کی وجہ سے ناظم رہے ہیں ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں باچا خان کے نظریات کی چھاپ کو نظر انداز کرنا کسی بھی سیاسی طالع آزما کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے یہ درست ہے کہ اب نظریاتی سیاست کا دور لد چکامگر ایسا بھی قحط الرجال نہیں کہ لوگ سوچے سمجھے بغیر ووٹ دے دیں این اے فور کے حالیہ اور اس سے پہلے کے تمام انتخابات کے امیدواروں کی تعلیمی اہلیت پر نگاہ ڈالیں تو آپکو ایک خوشگوار حیرت ہو گی اس حلقے کے بیشتر امیدوار اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں صرف 2017کے امیدواروں کو دیکھتے ہیں ان میں سے ارباب عامر ایوب نے مارکیٹنگ میں لندن یونیورسٹی سے ڈگری لی ہوئی ہے اے این پی کے خوشدل خان نے 1981میں گومل یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی پی پی پی کے اسد گلزار خان نے ایچی سن میں تعلیم حاصل کی ہے تحریک لبیک کے علامہ شفیق امینی عربی میں ایم فل کی ڈگری رکھتے ہیں اور آجکل اسلامیہ کالج میں ڈاکٹریٹ پروگرام کے طالبعلم ہیں نواز لیگ کے ناصر خان موسیٰ زئی نے ایڈورڈز کالج پشاور میں تعلیم حاصل کی ہے اور ایل ایل بی اور ایم بی اے بھی پڑھ رکھا ہے۔

اس حلقے کا سیاسی مدو جزر اتنا شدید ہے کہ موجودہ دور میں کسی بھی امیدوار کیلئے کسی ایک جماعت سے مستقل طور پر وابستہ رہنا مشکل ہو گیا ہے ارباب محمد ظاہرتین دہائیوں تک اس حلقے کی سیاست سے وابستہ رہے ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود انہیں اپنے حلقے سے انتخاب جیتنے کیلئے طویل جہدوجہد کرنا پڑی وہ پہلی مرتبہ 1985میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اسکے تین سال بعدوہ اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ہو گئے مگر فتحیاب نہ ہو سکے پھر ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے انہوں نے 1990میں اے این پی میں شمولیت اختیار کر لی اس مرتبہ انکا تیر نشانے پر لگا اور وہ اپنی آبائی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے اسکے بعد 1993اور 1997کے انتخاب بھی انہوں نے اے این پی ہی کے ٹکٹ پر جیتے پھر 2002 میں ایم ایم اے کے صابر حسین اعوان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد انہوں نے 2008میں اے این پی ہی کے ٹکٹ پر اپنی نشست جیت لی‘ اگلے سال کے انتخابات کے حوالے سے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہاں پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت کے باوجود اے این پی اور مسلم لیگ نواز کیساتھ سخت پنجہ آزمائی کرنا پڑے گی اس حلقے کے حالیہ الیکشن میں ANP کے خوشدل خان24874ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے ہیں مسلم لیگ ن کے ناصر خان موسیٰ زئی نے 24790ووٹ لئے اور اس طرح وہ صرف چوراسی ووٹوں کے مارجن سے تیسرے نمبر پر آئے اس مرتبہ کے انتخاب میں اگر اے این پی اور ن لیگ کے ووٹ یکجا کر لئے جائیں تو انکی کل تعداد 49664بنتی ہے جو پی ٹی آئی کے ارباب عامر کے حاصل کردہ ووٹوں سے 3930 ووٹ زیادہ ہیں اس اعتبار سے این اے فور پر اگلے سال کے الیکشن کا نقشہ ہمارے سامنے ہے مگر یہ حلقہ ہمیشہ پنڈتوں کا واٹر لو ثابت ہوا ہے اسلئے اسکے بارے میںآخری وقت تک کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی اتنا البتہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ
فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسد
دوستی ناداں کی ہے دل کا زیاں ہو جائیگا