بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست:اک معمہ!

سیاست:اک معمہ!


کراچی پاکستان کا دل ہے‘ روشنیوں کے اس شہر کو تاریکیوں سے بدلنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد وفاقی سطح پر سیاسی اور غیرسیاسی فیصلہ سازوں کی کوشش ہے کہ کراچی پر سیاسی حکمرانی کا قبلہ بھی درست کیا جائے تاہم یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام تک کراچی کی سیاست کا تازہ ڈرامہ کسی بڑے سکرپٹ کا حصہ تھا یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ صرف ایک مذاق‘ ڈھونگ یا ایک سانحہ ہے کہ ایک جیسی شناخت رکھنے والی دو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آئیں اور پھر پہلے سے زیادہ دور ہو گئیں!سب سے پہلے آٹھ نومبر کے روز کراچی پریس کلب میں ہوئی پریس کانفرنس کے دوران ایک اعلان سامنے آیا کہ فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان اور سابق میئر کراچی مصطفی کمال کی قیادت میں پاک سرزمین پارٹی متحد ہو گئی ہے اور دونوں جماعتیں آئندہ عام انتخابات میں ایک ہو کر حصہ لیں گی۔ بتایا جاتا رہا کہ دونوں سیاسی رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس آپس میں ایک طویل میٹنگ کے بعد ہوئی‘ جو کہ مبینہ طور پر ڈیفنس میں ایک ایجنسی ’سیف ہاؤس‘ میں ہوئی۔ فاروق ستار سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے سابقہ خدشات کے باوجود میٹنگ میں شرکت کریں‘ کمال سے ملاقات کریں‘ اور اختلافات کا خاتمہ کریں۔ پریس کانفرنس کے مندرجات سے ہر کوئی واقف ہے اسلئے یہاں دہرانے کا فائدہ نہیں مگر جو کچھ بھی کہا گیا ہو‘ دونوں رہنماؤں کے تاثرات الگ الگ ہی کہانی بیان کر رہے تھے۔ فاروق ستار دبے دبے سے نظر آئے اور اپنے معمول کے برخلاف زیادہ بولنے کے خواہشمند نہیں دکھائی دیئے جبکہ مصطفی کمال صاف طور پر فاتحانہ و جارحانہ انداز میں نظر آئے۔

لگتا یوں ہے کہ پاک سرزمین پارٹی جس نے اب تک ایم کیو ایم پاکستان کے اندر تک رسائی حاصل نہیں کی ہے‘ جس کا سوشل میڈیا پر اکثر مذاق اڑایا جاتا ہے اور جسے ہر گناہ دھو دینے والی لانڈری قرار دیا جاتا ہے‘ کے رہنما مصطفی کمال نے ایم کیو ایم کی زیادہ ہی مخالفت کر ڈالی ہے۔ کیا یہ اعتماد ان کے طاقتور پشت پناہوں کی وجہ سے تھا یا حیران و پریشان کرنے کے حربوں میں سے ایک اور زبردست سکرپٹ والا حربہ تھا‘یہ بتانا آسان نہیں ہے مگر مصطفی کمال کی واضح خودسری کے جواب میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کا ردعمل متوقع ہی تھا ایم کیو ایم پاکستان پر جو بھی دباؤ ہو‘ یہ اپنے سابق رہنما الطاف حسین کی بائیس اگست دوہزار سولہ والی تقریر کے بعد سے شہری سندھ میں اب بھی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے‘ یہ سب کے سامنے تھا کہ 9 نومبر کی صبح تک فاروق ستار اپنے مؤقف میں سب سے علیحدہ ہوچکے نظر آنے لگے تھے‘ اتنے زیادہ کہ آخر رات دیر سے ہونیوالی پریس کانفرنس میں انہوں نے ’دل ٹوٹ جانے اور مایوس ہوجانے‘ کی بناء پر عملی سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا کیونکہ انکے بقول انکے دوستوں اور دشمنوں نے ’مقصد سے پینتیس سالہ غیر متزلزل وابستگی کے باوجود‘ ان پر حملے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی‘ اپنے فیصلے کا اعلان کرنے اور باہر نکل جانے کے آدھے گھنٹے بعد انہوں نے بدنام ہوچکے اور ٹھکرا دیئے گئے ’ایم کیو ایم‘کے رہنما الطاف حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پارٹی سے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا اور کہا کہ ان کی عمر رسیدہ والدہ نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی اپیل پر انہیں استعفیٰ واپس لینے کا حکم دیا تھا۔

یہی وہ آخری ٹکڑا تھا جس سے یہ تاثر اُبھرا کہ جیسے پورا ڈرامہ اس لئے تیار کیا گیا تھا تاکہ پہلے ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے اتحاد یا ایک دوسرے میں ضم ہونے کی حیران کن خبر پہنچائی جائے تاکہ نہ صرف حمایت کرنے والوں کا ردِعمل دیکھا جا سکے اور پھر استعفیٰ دے کر انہیں نئی حقیقت سے مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب بہت زیادہ گہری باتیں ہیں اور پریس کانفرنس صرف سندھ کی شہری سیاست میں کچھ نئے تیکھے موڑ پر مشتمل تھی مگر کیا آپ یہ بھی کہیں گے کہ ملک کی طاقتور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے کراچی کے معاملات میں اتنا وقت اور سرمایہ اسلئے لگایا ہے تاکہ فارغ کھڑے رہیں اور ناکامی کا سامنا کریں؟ سکرپٹ کے لکھاریوں کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جلد بازی میں ہوئی یہ تند و تیز شادی کیوں تیزی سے ناگزیر بنتی جا رہی تھی۔دوہزاراٹھارہ کے انتخابات کے لئے مبینہ گیم پلان مذہبی اتحاد ’ایم ایم اے‘ کی بحالی میں بھی نظر آ سکتا ہے جو کہ ’دوہزاردو‘ میں خیبر پختونخوا میں کامیابی کے بعد دوہزار آٹھ کے عام انتخابات تک بکھر چکا تھا۔ کہا جا رہا تھا کہ اس بکھرنے کا فائدہ مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کو ہوا تھا کیونکہ دوسری صورت میں دائیں بازو کا مذہبی ووٹ پیپلزپارٹی یا عوامی نیشنل پارٹی کی جانب منتقل نہیں ہونا تھا۔ اب ان تمام گروہوں کے آپس میں مل جانے سے نسبتاً چھوٹی سیاسی تنظیموں کے ووٹ مجتمع ہوجائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ کوئی جماعت اکیلے حکومت نہ بنا سکے‘ دو تہائی اکثریت تو دور کی بات ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عمر فاروق علوی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)