بریکنگ نیوز

سموگ


سموک اورفوگ کے ملاپ سے جنم لینے والے سموگ نے پورے ملک کو بری طرح سے لپیٹ میں لیاہواہے جس کے باعث ڈاکٹروں اورفارما سوٹیکلز کمپنیوں کی چاند ی ہے اس سلسلہ میں پشاور بھی محفوظ نہیں رہا اوراب تو دوہفتے ہونیوالے ہیں شہر پر بدترین دھندھواں چھایاہوا ہے پہلے کبھی اس قدر گھمبیرصورتحال نہ تھی چونکہ دھویں اور دھند کاملاپ ہے اس لئے اگر اس کودھندھواں کہاجائے تو غلط ہرگزنہ ہوگا چندسال قبل تک پشاور اور نواحی علاقوں میں سردی کے موسم میں دھند اکثر ڈیرے ڈال لیا کرتی تھی اس پورے علاقہ میں رسالپورکی دھند سب سے زیادہ مشہورتھی محض چند فٹ دھند میں چلنے سے کپڑے بھیگ جاتے تھے تب سردی کی شدت میں اضافہ سے موسمی بیماریوں کاسیزن شروع ہوجاتا مگر رفتہ رفتہ بڑھی آلودگی نے دھند کو بھی آلودہ کرکے اسے سموگ یا دھندھواں بناڈالا جس نے پھرنظام زندگی کو مفلوج کرناشروع کر دیاہے صورتحال کی سنگینی کااندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ صوبائی حکومت کو متعدد بار وارننگ جاری کرکے شہریوں کو احتیاط سے کام لینے کامشور ہ دیاجاتارہاہے‘ ماہرین کاکہناہے کہ دھندھواں یا سموگ کے خاتمہ کیلئے بارش یا تیزہواؤں کاچلنا ضروری ہے لیکن رواں ہفتہ بھی دونوں کاکوئی امکان نہیں شہر میں چھائی سموگ کی بڑی وجہ مضافاتی علاقوں میں اینٹوں کے بھٹوں میں بڑے پیمانے پر ربڑ کاجلانابھی شامل ہے ۔

جس پرپابند ی موثر بنانے کی ضرورت ہے اگرچہ بھٹیوں میں ربڑ جلانے پر پابند ی عائد ہے مگر بدقسمتی سے اس پر کبھی سنجیدگی سے عمل در آمدکی زحمت گوارہ نہیں کی گئی متعلقہ سرکار ی حکام بھی ملی بھگت کے بعدہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں اس وقت اگر پھندو روڈ‘ارمڑ روڈ ‘کوہاٹ روڈ کاسروے کرایاجائے تو سینکڑوں بھٹیوں میں ہزاروں کلو گرام ربڑ روزانہ کے حسا ب سے جلایا جارہاہے جس کی وجہ سے متعلقہ دیہات میں رہنے والوں کی زندگیاں پہلے ہی اجیرن ہوچکی ہیں اسی طرح شیخان کے قریب باڑہ اکاخیل میں متنازعہ زمینوں پر قائم ڈیزل صاف کرنیوالے کارخانوں نے شیخان بالا ‘پایان‘ مشتر زئی ‘ماشوخیل سمیت تپہ خلیل کے کئی دیہات کی فضا کو بھی زہریلا بنا دیا ہے شہر میں ہزاروں کھٹارہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اس کے علاوہ ہے جس نے بالآخر شہربھرکی فضاء پر زہریلی چادر تان لی ہے صوبائی حکومت کی طرف سے تمام ڈپٹی کمشنرز کو سموگ سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی جو ہدایات دی جاتی رہی ہیں ان کے مطابق تمام ڈیپارٹمنٹس سموگ کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے عوامی آگاہی مہم چلائے اور اس سلسلے میں غیر ضروری طور پر فضلوں کے باقیات ‘ کوڑا کرکٹ اور ٹائر‘ربڑ وغیرہ جلانے پر پابندی عائد کریں اور عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرنے کی تلقین کریں ہدایا ت میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام دوران سفر باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال اور دیگر ضروری احتیاطی تدابیر کریں ۔

حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو گرد و غبار والی جگہوں پر پانی کے چھڑکاؤ کی ہدایت کی ہے ماہرین موسمیات کے مطابق ان دنوں گرد وغبارنے بھی صورتحال خاصی سنگین بنارکھی ہے اس لئے انتظامیہ کو مشور ہ دیاگیاہے کہ شہری علاقوں میں تو کسی بھی صورت ملبے کے ڈھیر بننے نہ دیں کیونکہ دھند‘دھواں اور گردوغبار مل کر آج شہریوں کاامتحان لے رہے ہیں بدقسمتی سے پچھلے چند سال میں جس تیز ی کیساتھ شہر میں ہاؤسنگ سکیموں کی لپیٹ میں آکرزرعی زمینوں اور اسکی بدولت درختوں کا صفایا ہواہے اس کا نتیجہ آج دھندھویں کی صورت میں ہمارے سامنے آرہاہے تاہم ماہرین کایہ بھی کہناہے کہ پنجاب اورکراچی کی نسبت ہمارے ہاں کی فضاء پرچھائی یہ آلودہ چادر کم زہریلی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اگر ہم نے ماحول دشمن رویہ نہ بدلا توہمارے شہرکی فضاء بھی مستقل طورپر ہمار ی دشمن بن جائے گی جس سے چھٹکارے کی صورت آسان نہ ہوگی صوبائی حکومت نے اگرچہ بلین ٹریز سونامی منصوبے کے ذریعے صوبہ میں کروڑوں پو دے لگائے ہیں لیکن کیاہی اچھا ہو کہ پشاور کیلئے الگ سے کوئی پراجیکٹ شروع کیاجائے یا پھر درخت اگاؤ مہم چلانیوالے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے پشاور میں پیر مثل شاہ نامی ایک بزرگ شہری اپنی مد د آپ کے تحت اس مہم میں مصروف اوراب تک اپنے ذاتی خرچ پر ہزاروں پودے خرید کر مفت تقسیم کرچکے ہیں ا س حوالہ سے تفصیلات کسی اور دن پر اٹھارکھتے ہیں مگریہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرکے شہر کو مستقبل میں زہریلی فضائی چادر سے بچایا جاسکتاہے سو حکومت کو اس ضمن میں ضرور اب آگے بڑھنا چاہئے ۔