بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم مسائل کا نوٹس

اہم مسائل کا نوٹس


چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے این ٹی ایس پر بھرتی اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم سے تین روز کے اندر وضاحت طلب کی ہے یہ اساتذہ اپریل میں بھرتی ہوئے جن کو دفتری پیچیدگیوں اور سرکاری امور میں سست روی کے نتیجے میں ابھی تک تنخواہیں جاری نہیں ہوئیں۔ چیف سیکرٹری نے اس کیس میں غفلت کے مرتکب اہلکاروں کی نشاندہی کا حکم بھی دیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل چیف سیکرٹری نے محاصل کی وصولی اور ڈومیسائل بنانے کا پورا نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت جاری کی‘ صوبے میں ریونیو سے متعلق کیسز تیزی سے نمٹانے کیلئے رہنما اصول تیار کرنے کا حکم بھی دے دیاگیا ہے۔ چیف سیکرٹری اس سے قبل قبرستانوں کے تحفظ سے متعلق احکامات بھی جاری کرچکے ہیں۔

صوبے میں سرکاری ملازمین کے کیسز جلد نمٹانے کیلئے کمیٹی بھی قائم کی جا رہی ہے تاکہ عدالتوں میں ملازمین کے کیسز کم سے کم ہوں۔ کسی بھی صوبے میں اعلیٰ سطح پر عوامی مسائل کا نوٹس قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا عملدرآمد کے فول پروف میکنزم سے مشروط ہے اس وقت عام آدمی اس سے پہلے کے حکومتی سطح پر ہونے والے متعدد اعلانات اور اقدامات سے صرف اس لئے مطمئن دکھائی نہیں دیتا کہ اسے ان کا برسرزمین عملی طورپر سودمند نتیجہ نہیں ملتا۔ قابل اطمینان ہے کہ چیف سیکرٹری اپنی ہر ہدایت کے ساتھ ٹائم فریم بھی دیتے ہیں کیونکہ ہمارا سست رفتار دفتری نظام جو جدید سہولتیں ہونے کے باوجود بھی ابھی تک فائلوں کی گردش تیز نہیں کر پایا حکومتی اعلانات کو آن گراؤنڈ لانے میں ناکام ہی رہتا ہے۔ اس سب کے ساتھ اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری ہدایات پر عملدرآمد کیلئے سرکاری چھٹی پر اکتفا کر لیا جاتا ہے اور جس خط میں سب اچھا ہے لکھا ہوتا ہے اسے فائل کی زینت بنا دیاجاتا ہے۔ چیف سیکرٹری کے لیول پر اہم امور کے نوٹس کے ساتھ اس بات کا انتظام ضروری ہے کہ فیلڈ سے حقائق پر مبنی رپورٹ نہ دینے والوں کے خلاف کاروائی ہو۔ ڈومیسائل اور ریونیو کا کام کمپیوٹرائزڈ کرنا خوش آئندہے لیکن صوبے میں ریونیو ریکارڈ ابھی تک مکمل کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے پر بھی ٹائم فریم ضروری ہے۔ اسی طرح کمپیوٹرائزیشن میں ڈومیسائل کا ریکارڈ نادرا کیساتھ مربوط ہوجائے تو یہ زیادہ محفوظ ہوسکتا ہے۔

ذیابیطس کیلئے علاج گاہ؟

طب کے موضوع پر سیمینار میں بتائی جانے والی ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تشویشناک ہے۔ مرض سے لاعلم اور رجسٹریشن کے دائرے میں نہ آنے والے علیحدہ ہیں۔ بیماری کا رسک رکھنے والوں کی تعدادبھی یقیناًزیادہ ہی ہے اس سب کے مقابلے میں اس بیماری کے علاج کیلئے سہولیات کسی صورت کافی قرار نہیں دی جاسکتیں۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں قائم بڑی علاج گاہوں میں انڈوکرونالوجی کے یونٹس میں بیڈز کی تعداد آبادی اور ضرورت سے بہت کم ہے۔ ان وارڈز میں ان مریضوں کو بھی رکھا جاتا ہے جن کو شوگر کے باعث پاؤں کی سرجری کرانا پڑتی ہے ذیابیطس کے نتیجے میں گردوں اور قلب و بلڈ پریشر کی شرح میں اضافہ الگ ہے کیا ہی بہتر ہو کہ صوبے میں ذیابیطس اور اس سے جڑی بیماریوں کیلئے علیحدہ ہسپتال بن جائے۔ بڑے ہسپتالوں میں تشخیصی یونٹس بن جائیں اور حکومت کی جانب سے مفت ادویات کی اچھی شروعات کو بھی قاعدے قانون میں لایاجائے تاہم اس سب کیساتھ برسوں سے جاری منصوبے برن سنٹر کی تکمیل کیلئے ڈیڈ لائن بھی ناگزیر ہے۔