بریکنگ نیوز
Home / کالم / وہی حالات ہیں فقیروں کے

وہی حالات ہیں فقیروں کے


ان سیاسی طالع آزماؤں کو کہ جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت کیلئے پی ٹی آئی میں شمولیت حاصل کر چکے ہیں یا اس میں شامل ہو نے کیلئے اپنے پر تول رہے ہیں ان کو شاید عمران خان کی یہ بات اچھی نہ لگی ہو کہ ٹکٹ کے خواہش مند سوچ لیں کہ انہیں ترقیاتی فنڈزنہیں ملیں گے یا ان کا پھر یہ کہنا کہ اقتدار میں آکر خود فائدہ اٹھاؤں گا نہ کسی کو اٹھانے دوں گا آج کل تو عرصہ دراز سے اب سیاست سے زیادہ منافع بخش کوئی کاروبار ہے ہی نہیں دو تین کروڑ روپے الیکشن پر لگاؤ اسمبلی کے رکن بن جاؤ پھر مزے ہی مزے ہیں ہر سال آپ کو اپنے انتخائی حلقے میں نام نہاد ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑوں روپے کا بجٹ ملے گا اوراتنی مالی مراعات آپ کے حصہ میں آئیں گی کہ آپ ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے اب دیکھئے ناوزیراعظم صاحب نے حال ہی میں ترقیاتی فنڈز کے نام پر 94 ارب روپے ایم این ایز کو جاری کئے یہ اتنی موٹی رقم ہے کہ اس سے خیبر پختونخوا کے کئی سالانہ بجٹ چلائے جا سکتے ہیں ۔

ضیاء الحق اور محمد خان جونیجو مرحوم کے دوراقتدار سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا اور آج اس فنڈ کی اراکین اسمبلی کو کافی لت پڑ چکی ہے اب خداکرے عمران خان اقتدار میں آنیکی صورت میں اپنی اس بات کو عملی جامہ بھی پہنائیں ذوالفقار علی بھٹو جب 1970 کا الیکشن لڑ رہے تھے تو انہوں نے قوم کو ایک بہت ہی بڑا انقلابی منشور دیاتھا جس نے اس ملک کی غرباء ومساکین اور مفلوک الحال طبقے کو جو کروڑوں میں ہے ایک امید کی کرن دکھلا دی تھی کہ شاید اب ان کے دن پھرنے والے ہیں لیکن جب انکے خواب سچے نہ ہو سکے تو مجبوراً حبیب جالب کو یہ کہنا پڑا تھادن پھرے ہیں فقط وزیروں کے…. وہی حالات ہیں فقیروں کے….ہر بلاول ہے دیس کا مقروض …پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے‘اس ملک کا المیہ ہی یہی ہے کہ سرکاری محکمے سرکاری پیسوں کا درست استعمال نہیں کر رہے جس کسی کو بھی موقع ہاتھ آتا ہے وہ حکومت کو چونا لگاتا ہے آڈٹ کا محکمہ موجود ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب بلی یا بلے کو دودھ کی رکھوالی پر تعینات کر دیا جائے یا ان کو چھیچھڑوں کی حفاظت پر مامور کر دیا جائے تو دودھ یا چھیچھڑ ے کہاں بچیں گے ؟

آڈیٹر جنرل کے ادارے کو جو ایک آئینی ادارہ ہے مکمل طور پر با اختیار کرنا ضروری ہے اور اس پر اس شخص کو لگایا جائے کہ جس کی عمومی شہرت نہایت اچھی ہو اور پھر اس کے یا اس کے ماتحت عملے کے کسی کام میں اوپر سے بے جا مداخلت نہ کی جائے بہت سے ایسے کام جو آڈٹ والوں کو کرنے چاہئیں چونکہ وہ نہیں کر رہے یا ان کو کرنے نہیں دیا جا رہاتب ہی تو کروڑوں روپے کا ہیر پھیر سرکاری محکموں میں ہو رہا ہے اور جب راز عیاں ہونے لگتے ہیں تو پھر نیب یا ایف آئی اے یا کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کو معاملات میں کودنا پڑتاہے اگر سرکاری محکموں کا صحیح معنوں میں آڈٹ ہوتا رہے تو پھر باہر سے کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کو تفتیش کی ضرورت ہی نہ پڑے حالات اس قدر دگرگوں ہو چکے ہیں کہ چیئرمین نیب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہر ماہ کی آخری جمعرات کو دو بجے سے لیکر4 بجے تک عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات خود سنیں گے ۔