بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک پر تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی

سی پیک پر تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی


وفاقی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری روٹ پر خیبرپختونخوا کے تحفظات دور کرنے کی ایک بارپھر یقین دہانی کرائی ہے، یہ یقین دہانی پلاننگ اور ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ ملاقات میں کرائی، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کلیئر کیا ہے کہ سی پیک پر جو کمٹمنٹ کی گئی ہے اس پر عمل درآمد فاسٹ ٹریک پر ہونا چاہئے اور یہ کہ یقین دہانیوں کے نتائج برسرزمین نظر بھی آنے چاہئیں، وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت ہر صوبے میں ایک صنعتی پارک ہوگا، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خود وزیراعظم نوازشریف پارلیمانی لیڈروں کے خدشات دور کریں گے، میڈیا رپوٹس کے مطابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے خیبرپختونخوا حکومت سے مغربی روٹ کے حوالے سے عدالت میں دائر درخواست واپس لینے کی استدعا بھی کی ہے، وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی جنگ میں سرمایہ کاری کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، سی پیک سے متعلق منصوبہ بندی وترقی کی وزارت کے پاس مہیا اعداد وشمار کے مطابق مغربی روٹ پر کام جاری ہے۔

اس پراجیکٹ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری توانائی کے شعبے میں ہوگی، جس کا حجم 35ارب ڈالر بتایا جارہا ہے، جن میں سے 11ارب سندھ میں خرچ ہونگے، وزارت کے ذرائع تکنیکی بنیادوں پر مغربی روٹ کو سی پیک سے رابطے کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں تاہم صنعتی زونز سے متعلق وفاق کے ادارے اس بات کی وضاحت بھی کررہے ہیں کہ کام بجلی کی ضرورت پوری ہونے کے بعد ہی ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت فائبر آپٹکس سے متعلق بھی تحفظات رکھتی ہے جبکہ وزارت منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ آپٹکس کیبل قراقرم ہائی وے سے خیبرپختونخوا آئیگی اور یہاں سے آگے اسے اسلام آباد لایاجائیگا، وفاق اب بھی پورے وثوق سے کہہ رہا ہے کہ سی پیک کا مغربی روٹ 2018ء میں مکمل ہوجائیگا، اس سے پہلے بھی خیبرپختونخوا اور دوسرے صوبوں کے تحفظات پر 28مئی کو وزیراعظم نوازشریف نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور اس میں صوبوں کے خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، سیاسی قیادت کے اتفاق سے طے پانے والے معاملات دستاویزی صورت اختیار نہ کرسکے جس پر خیبرپختونخوا میں ایک بارپھر بے چینی پیدا ہوئی، اب وفاقی وزیر اگر صوبے کی قیادت کو ایک بارپھر مطمئن کرسکتے ہیں تو اس کا واحد ذریعہ سب کچھ دستاویزات کی صورت میں سامنے لانا ہے۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ مغربی روٹ پر عمل درآمد فاسٹ ٹریک پر ہو اور یقین دہانیوں کے برسرزمین نتائج بھی نظر آئیں، گزشتہ غلطی کا ازالہ اسی صورت ممکن ہے جب پلاننگ ڈویژن پوری فعالیت کیساتھ کام کرے، اس سارے عمل میں خیبرپختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں کے جغرافیے امن وامان کی صورتحال کے باعث یہاں کی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے کردار کو سامنے رکھاجائے، قدرتی وسائل سے مالامال اس صوبے کی تعمیر وترقی کے سنہری موقع کو کسی غفلت کی نذر نہ ہونے دیاجائے، اس میں سیاسی قیادت کی ساری سعی اسی صورت ثمر آور ہوسکتی ہے جب ترقی کے ذمہ دار ادارے اپنا کردار ادا کریں، اس کیساتھ بجلی کے خالص منافع اور اس کے بقایاجات کی ادائیگی اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی صوبے کی ضروریات کا احساس کیاجائے۔