بریکنگ نیوز
Home / کالم / کچھ خواب ہے ‘ کچھ اصل ہے، کچھ طرز ادا ہے

کچھ خواب ہے ‘ کچھ اصل ہے، کچھ طرز ادا ہے


جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لا ساقی
گزرتے وقت کا کوئی کوئی لمحہ تو جیسے تیر بن کر دل میں ترازو ہو جاتا ہے۔ایسے ہی ایک بے مہرلمحے میں مجھے میرے دوست عارف شاہ کا میسج ملا، جس نے مجھے بے دم سا کر دیا، اور میری آنکھوں میں دھیمی مسکراہٹ سے بھیگا ہوا ایک مہربان چہرہ اتر آیا۔اور وقت جیسے پیچھے کی طرف چلنے لگا۔ یہ نرم خو،مہذّب ہمہ تبسم اور سراپا محبت حبیب الرحمن کے بچھڑنے کا پیغام تھا۔وہ لوگ جو دوسروں کے لئے مینارۂ نور ہوتے ہیں وہ جو زندگی کرنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں نا مہرباں موسموں میں استقامت سے اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ان کی ڈھارس بندھاتے ہیں ۔بزم دوستاں میں اپنی شگفتہ طبیعت کی وجہ سے وہ مقبول تھے تو رزم حق و باطل میں چٹان کی طرح کھڑے ہو جانیوالے تھے۔ لیکن کہیں بھی وہ تہذیب کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹتا نہ تھا۔ ساری زندگی صحافت کے خار زار میں گزاری مگر پھولوں کی سی ملائمت کو اپنا شعار بنائے رکھا، پیشہ ورانہ دیانتداری اور تندہی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہے، اس لئے ہر اخبار کی ضرورت تھے مگر گنے چنے اخبارات میں ہی رہے پشاور حبیب الرحمن ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں آئے اور روزنامہ مشرق ( بشمول انجا م کے دو سال)اپنی ساری جوانی وہیں گزاردی اور پھر روزنامہ میدان میں دو ڈھائی سال گزارنے کے بعد اپنے ہمدمِ دیرینہ عبدالواحد یوسفی کے پاس روزنامہ آج میں آ گئے اور آخری سانس تک یہیں رہے۔اتنی طویل صحافتی زندگی میں انہوں نیر صرف دو بار ادارہ تبدیل کیا۔گویا اس لحاظ سے وہ میر کے ہم خیال تھے کہ
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینہ کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

وہ ہمیشہ سے قناعت پسند تھے اس لئے ساری عمر اطمینان اور شکر گزاری سے بسر کی۔ میں نے جب مشرق بطور کالم نگار جوائن کیا تو شاید وہ وہاں سے جا چکے تھے کیونکہ انہی دنوں فرنٹیئر پوسٹ کے نئے اردو روزنامہ ’’ میدان ‘‘ کا اجرا ہوا تھا،یہ مشرق میں قیصر بٹ کا زمانہ تھا وہی مجھے مشرق لائے جہاں میں کالم بھی لکھتا اور ادبی صفحہ کا بھی انچارج تھا ان کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں سو طرح کی احتیاط کرنا پڑتی ہے پھر بھی وہ ہو جاتا ہے جس کے بارے میں جون ایلیا نے کہا ہے
جو ہوا جون وہ ہوا بھی نہیں
یعنی جو کچھ بھی تھا وہ تھا بھی نہیں
وہی ان ہونی ،ہونی ہو گئی ۔ ، قیصر بٹ ایک جیالا اور پروفیشنل جرنلسٹ اور عمدہ مگر سخت ایڈمنسٹریٹر ہے ، سخت فیصلے سہولت سے کر لیتا ہے تاہم اس کی طبیعت میں نرمی بھی ہے وجہ جو بھی رہی ہو ہوا یوں کہ انہوں نے ادبی صفحہ سے مجھے سبکدوش کر دیا، تو جواب آں غزل کے طور پر میں نے کالم لکھنا بھی اور ادارہ بھی چھوڑ دیا، چند ہی دن بعد وہ میرے گھر امجد بہزاد کے ہمراہ آگئے،امجد نے کہا کہ ہم بطور جرگہ آپ کو منانے آئے ہیں، میں نے کہا منایا روٹھے کو جاتا ہے،میں ناراض ہی نہیں،جو حکم دیں سو بسم اللہ ، مگر ادارہ واپس نہیں جاؤں گاسو محبت احترام اور دوستی کا رشتہ آج بھی قائم ہے ،تمہید طویل ہو گئی مگر حبیب الرحمن سے میری دوستی کو سمجھنے کے لئے شاید یہ ضروری ہے، خیر میں جب تک وہ مشرق میں رہے میں لوٹ کر نہیں گیا، پھر انہوں نے بھی مشرق چھوڑ دیا،اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا تھا کہ ایک دن چیف سیکریٹری کی طرف سے دئیے گئے ڈنر میں اسی ادارے کے مدارالمہام بھی شریک تھے میرے پاس آئے، ،اور کالم کے لئے اصرار کرنے لگے میں نے صاف کہہ دیا

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
مرحوم ظہور اعوان اصرار و انکار کا یہ مکالمہ سنتے رہے پہلے چپ رہے پھر مجھے کہا یار وہ اتنے پیار سے کہہ رہے ہیں مان جاؤ اور ان سے کہا کہ جی یہ ضرور آئیں گے دوسرے دن ملاقات طے ہوئی میں گیا یہ وہی دن تھا جب میرے بہت اچھے ترقی پسند دوست سردار خان فنا کی الوداعی تقریب بھی ہو رہی تھی اسی دن سلیم صافی بھی آئے ہوئے تھے سو ہم دونوں نے ایک ہی دن جوائن کیامیں نے بطور کالم نگار اور انہوں نے تو خیرریذیڈنٹ ایڈیٹرکی نشست سنبھالی۔ پھر ایک کالم میں کتر بیونت کی وجہ سے جی کٹھا ہوا تو محبی مشتاق شباب نے کہا چھوڑو روزنامہ آج آ جاؤ،میں نے کہا میں کسی کو جانتا نہیں،،مشتاق نے کہا میں حبیب الرحمن سے بات کرتا ہوں،پھر ایک دن مجھے لے کر وہ حبیب الرحمن کے پاس پہنچے،یہ میری پہلی ملاقات تھی،مگر وہ ایسے ملے جیسے صدیوں سے جان پہچان ہو،مجھے شرمندگی ہوئی کہ ایسے بی بے بندے سے میں پہلے کیوں نہیں ملا،مشتاق شباب کو احساس تھا کہ وہ مصروف ہیں اس لئے جلدی سے بات شروع کرنا چاہی تو انہوں نے کہا پہلے چائے تو پئیں بات بھی ہو جائے گی۔جب بات شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ میرے کالم ذرا۔۔فوراََ کہنے لگے مجھے معلوم ہے، آپ ہمارے پاس آ جائیں یہ کافی ہے مگرہنس کر مشتاق شباب سے کہا کہیں سید کو سید واپس نہ بلا لے۔جواب میں نے دیا ،جی اس بات کے امکانات تو سو فیصد ہیں لیکن کیا میں واقعی چلا جاؤں گا اس کا مستقبل بعید میں بھی کوئی امکان نہیں اور مزے کی بات یہ ہوئی کہ جس دن میرا پہلا کالم روزنامہ آج میں شائع ہوا اس شام ایک دوست میرے گھر رات گئے آئے اور کہنے لگے تم نے ’’ وہ ‘‘ چھوڑنا ہی تھا تو مجھے کہتے ،پھر کہنے لگے محنتانہ کتنا دیں گے۔

میں نے کہا کہ پہلی ملاقات میں مجھے دیکھ کر حبیب الرحمن کی بڑی بڑی خوابناک آنکھوں میں جو چمک اور ہونٹوں پر جو مسکان آئی تھی اس سمیت یا اسے منفی کر کے بتاؤں،ہنس پڑے پھر کہنے لگے وہ تو ہیں ہی سراپا محبت لیکن تم سوچ لو وہ جتنا بھی دیں میں اس سے دگنا نہ سہی مگر دگنے کے آس پاس ہی دوں گا آپ سوچ لیں میں نے کہا انتظار کرو جب حبیب الرحمن مجھے فون کر کے کہہ دیں کہ کل سے کالم مت لکھو تو میں تم سے رابطہ کر لوں گا،ان دنوں روزنامہ آج کا ایک برخوردار دوست عمران یوسفزئی میرے شعری مجموعے’’ شامین فریب دیتی ہیں‘‘کی کمپوزنگ کر رہا تھا وہ آفس سے رات گئے میرے گھر آتا،تو میرے وہ دوست بھی اس وقت میرے پاس ہوتے، عمران کے علم میں تھا کہ وہ کیوں آتے ہیں،ایک دن اس کی موجودگی ہی میں عمران نے کہا کہ میں رپورٹنگ اور فیچر رائیٹنگ کے لئے ان کے ادارے جانا چاہتا ہوں درخواست دے رکھی ہے، میں نے کہہ دیا اس نے کہا کل آ جاؤ۔ مگر دوسرے دن مجھے کہنا لگا خود ’’ آج ‘‘ چھوڑنا نہیں چاہتے اور اس کو آج سے نکال دیا۔میں نے کہا میں تو حبیب الرحمن سے کہیں اور نہیں جانا چاہتا، پھر ملاقاتیں وقفوں سے جارہی رہیں گاہے گاہے فون پر بھی بات ہو جاتی،، مگر دیر دیر تک نہ ملنے کے باوجود محبت کا رشتہ مضبوط ہوتا رہا، ان کا اداریہ،کالم ،تراجم اور تجزئیے پڑھتا رہا، ایک دن کسی کالم میں ان کی تحریر کے حوالے سے ایک دو عمومی سی سطریں لکھیں ،صبح سویرے ان کافون آیا۔

اور اس انداز سے شکریہ ادا کیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا، ’’’ آپ نے میری تحریر کو سراہا میں از حد ممنون ہوں کیسے شکریہ ادا کروں ‘‘ میں شرمندہ ہو رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ سوہنے رب نے کیسے ہیرے لوگوں کی دوستی کا اعزاز بخشا ہے۔جب آج کا میگزین(کلر پیج) شروع ہونے والا تھا تو اس پانچ رکنی میٹینگز میں مجھے بھی شریک کیا،میرے تجویز کردہ صفحات کے ناموں سے متفق ہوئے، ادبی صفحے کا آغاز ہوا تو پہلے ہی ایڈیشن کے بعدمجھے فون پر کچھ باتیں بتائیں کہ ادبی صفحہ تو کچھ دنوں کے لئے میری نگرانی سے چلا بھی گیا مگر میں حبیب الرحمن کے سحر سے نکلا نہ ’’ آج‘‘ چھوڑا۔مگر گزشتہ کل پشاور کی دھند میں ڈوبی ہوئی صبح گل بہار سے پشاور یونیورسٹی تک جاتے ہوئے حبیب الرحمن کا مہربان چہرہ،خواب ناک آنکھیں اور دھیمی مسکراہٹ کو یاد کرتے ہوئے بار بار آنکھوں میں دھواں بھرتا رہا،۔ نماز جنازہ میں کتنے ہی اس کے چاہنے والے شریک تھے اور سب اس کی محبت بھری تربیت اور تہذیب کا ذکر کر رہے تھے ،کیسے زندگی کو شائستہ بنانے والے بچھڑ جاتے ہیں ،داستان گو داستان بن جاتے ہیں،اصغر گونڈوی نے ٹھیک ہی کہا ہے۔
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
کچھ خواب ہے، کچھ اصل ہے، کچھ طرزِ ادا ہے